چند دن پہلے ایک افغان رکن پارلیمنٹ نے مندرجہ ذیل تقریر کی۔

0
1942
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لر و بر کے پشتون ۔۔۔۔۔۔۔۔

<<< Next Article     Previous Article >>>

چند دن پہلے ایک افغان رکن پارلیمنٹ نے مندرجہ ذیل تقریر کی۔

” پاک فوج کے پاکستان میں ظلم کے خلاف افغانوں نے آواز اٹھائی ہے۔ انکا لیڈر منظور پشتین، علی وزیر اور داوڑ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ان کو کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ لیکن اب یہ روز پاکستان کے خلاف جلسے کر رہے ہیں اور سارے افغان ان کے جلسون میں شرکت کرتے ہیں۔ افغان حکومت اور تمام افغانیوں کو ان کا ساتھ دینا ہوگا۔”

کل افغانستان میں مدرسے پر امریکی حملے میں متضاد اطلاعات کے مطابق 150 سے 200 کے قریب بچے شہید ہوگئے ہیں اور 400 کے قریب لوگ زخمی ہیں جن میں سے بھی اکثریت بچوں کی ہے۔

افغان حکومت نہ صرف اس پر خاموش ہے بلکہ امریکہ نے الزام لگا دیا ہے کہ یہ حملہ افغان حکومت نے خود کیا ہے۔

اس پر پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والی تمام تنظیمیں، پاکستانی میڈیا اور سب سے بڑھ کر لر و بر کے نعرے لگانے والی پشتونوں کی تمام قوم پرست جماعتیں اور “پسکین تحریک” بھی خاموش ہے۔

پشتونوں کے یہ نام نہاد علمبردار ویسے تو روز ” لر و بر ” کے نعرے لگاتے ہیں۔ لیکن اب نام نہاد ” پشتون تحفظ موومنٹ ” نے اس پر چوں بھی نہیں کی حتی کہ ان کے گروپس اور پیجز تک خاموش ہیں۔

یا تو وہ مرنے والوں کو پشتوں نہیں مانتے۔ یا پھر یہ صرف ان پشتونوں کو پشتون مانتے ہیں جو فارسی بان افغان حکومت اور امریکہ کے وفادار ہوں اور پاکستان کے دشمن۔ پاک فوج کے خلاف جعلی تصاویر شیر کرنے والے اب امریکی حملے کی اصل تصاویر تک شیر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

آج آپ کے پاس موقع ہے افغانیوں کی اس تحریک کی منافقت اور پشتون دشمنی کو جانچنے کا۔

میں اس امریکی حملے کو اے پی ایس پر دہشت گردوں کے حملے جیسا ہی سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسی طرح امریکہ کو جواب بھی ملے جیسا دہشت گردوں کو ملا تھا۔

افغانستان میں شہید کیے جانے والے ان معصوموں کا بدلہ وہ قوتیں لے سکتی ہیں جو افغانستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

دنیا کے ہر سولین کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور پوری دنیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس امریکی حملے میں سولینز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

روس کو ہم نے تب شکست دی تھی جب ہم نے سٹنگرز کی مدد سے اسکی فضائی برتری ختم کر دی تھی۔

آج امریکہ کو افغان مجاہدین پر فضائی برتری حاصل ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے دور میں پاکستان نے کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے اینٹی ائر کرافٹ میزائلز کا تجربہ کیا تھا اور ان سے ڈرون گرایا تھا۔

امید ہے یہ ٹیکنالوجی روس کے پاس بھی ہوگی۔ اگر “چین اور روس” واقعی اس وقت مجاہدین کی مدد کر رہے ہیں امریکہ کے خلاف، تو انہیں فوری طور پر مجاہدین کو یہ اینٹی ائر کرافٹ سٹنگر ٹائپ میزائل فراہم کرنے چاہئیں۔

شائد تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرائے۔ امریکہ کی فضائی برتری ختم ہو جائے تو ان میں زمین پر لڑنے کی صلاحت موجود نہیں۔ اگر یہ فیصلہ کر لیا گیا تو افغانستان کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔

تحریر شاہدخان

<<< Next Article     Previous Article >>>


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here