چلیں ایک منٹ کے لیے پاکستان دشمن بن کر سوچتے ہیں۔ میرے خیال میں

0
1021

دشمنوں کے سٹریٹجک مفادات کی نگران تحریکیں ۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور افغانستان کی مشترکہ پراکسی کو پاک فوج کے ہاتھوں ہونے والی شکست کو دوبارہ فتح میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟؟؟

چلیں ایک منٹ کے لیے پاکستان دشمن بن کر سوچتے ہیں۔ میرے خیال میں ۔۔۔

۔ 1۔ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج کے خلاف کیا جائے۔ بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کی جائے۔

۔ 2۔ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے۔

۔ 3۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے۔

۔ 4۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائے تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو۔

۔ 5۔ احسان اللہ احسان کو سزا جبکہ کل بھوشن کو رہا کرایا جائے۔ کیونکہ دونوں انڈیا اور افغانستان کے پول کھول رہے ہیں۔

۔ 6۔ فوج کا مورال گرانے کے لیے ان کے خلاف مختلف طرح کی قانونی کاروائیاں کی جائیں۔

اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔

اب آپ اسے محض اتفاق کہیں گے کہ “پشتین تحریک” کا ایجنڈا پاکستان دشمنوں کے سٹریٹیجک مفادات کے عین مطابق ہے مثلاًً ۔۔

۔ 1۔ یہ تحریک پاک فوج بلکہ اب پاکستان کے خلاف بھی پشتونوں میں نفرت پھیلا رہی ہے۔

۔ 2۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جائے تاکہ وہاں سے دہشت گرد پشتون علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔ الٹا اس کے ساتھی باڑ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

۔ 3۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی افغانیوں کی وطن واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ البتہ اس کے ساتھی اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں۔

۔ 4۔ چیکنگ کو تذلیل کا نام دے کر چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کو ابھارا جا رہا ہے۔

۔ 5۔ آج جلسے میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے اگلے مطالبات احسان اللہ احسان کی پھانسی اور پرویز مشرف کو سزا دینے کے ہونگے۔ لیکن کل بھوشن کا نام بھول کر بھی نہیں لیا۔ نہ کبھی وزیرستان کی سرحد پر موجود ان انڈین کونسل خانوں کے بارے میں سوال اٹھایا جہاں سے پشتونوں کے قاتل بھیجے جاتے تھے۔

۔ 6۔ بلوچستان میں ناکام ہونے والا مسنگ پرسنز کا کھیل اب فاٹا میں شروع کر دیا ہے۔

کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ منظور مخلص ہے۔ مخلص تو خودکش حملہ کرنے والا بھی ہوتا ہے اور یقیناً منظور پشتین سے زیادہ مخلص ہوتا ہے کیونکہ وہ یقینی طور پر اپنی زندگی قربان کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے کیوں؟؟

کیونکہ اس کو استعمال کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی اور اسکا عمل باعث فساد ہوتا ہے۔

یہی حال منظور کا بھی ہے۔ منظور کو استعمال کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں اور منظور کے پی کے اور فاٹا میں دوبارہ فساد برپا کرنا چاہتا ہے۔ البتہ منظور خود کش حملہ کرنے والوں جتنا سادہ نہیں!

مارکسسٹ سرخوں کی علامات استعمال کرنے والا، لوگوں کو راغب کرنے کے لیے جوان لڑکیاں استعمال کرنے والا، یہ فسادی گروہ پشتونوں کی جان کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان اور غیرت کا بھی دشمن ہے۔ یاد رکھنا!!!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here