پی ٹی ایم کی نئی مزاحیہ کہانی

0
177

کہانی کچھ یوں ہے کہ ہم ( یعنی پی ٹی ایم والے ) ڈی آئی خان سے روانہ ہوئے۔
اور پورے وزیرستان کو بلا روک ٹوک عبور کرتے ہوئے وزیرستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے شکتوئی پہنچے
۔

پشتون کی عزت کی درپے پی ٹی ایم
یہ ویڈیو وزیرستان کی ہے۔ ایک ماہ سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
یہ سب سے پہلے پی ٹی ایم کے آفیشل گروپ میں شیر کی گئی۔ جہاں سے پی ٹی ایم کے دیگر گروپس میں وائرل ہوئی۔
افغان مارکہ پی ٹی ایم فخر سے اس کو پشتون اتنڑ اور پشتون ثقافت کے نام پر شیر کرتی رہی۔
اب یہ نہیں پتہ کہ اس ویڈیو کو وائرل کر کے پی ٹی ایم نے وزیرستان کے پشتونوں کو کون سی عزت دلائی ہے؟

ہمیں اطلاعات تھیں کہ یہاں پر طالبان اور فوج عوام کو تنگ کررہی ہے۔

ہم ایک گاؤں پہنچے جہاں ہم نے دروازہ بجایا تو اندر سے ایک عورت نے گھبرائی ہوئی آواز میں چیخ کر پوچھا ” پھر کون اغواء ہوگیا ؟؟؟

کس کا قتل ہوگیا ؟؟؟

کس کو مار دیا گیا ؟؟؟

جواباً ہم نے دبنگ آواز میں کہا کہ ” کچھ نہیں ہوا یہ ہم ہیں پی ٹی ایم والے

ہماری آواز سن کر عورت خوشی سے چیخ پڑی کہ “ہم کب سے تم لوگوں کی راہ دیکھ رہے ہیں یہاں تو فوج اور طالبان نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔

ہم نے جواباً کہا کہ ” کوئی مرد بھیجو ہم علاقے کا خود دورہ کرنا چاہتے ہیں

وہ خاتون اندر گئی اور مرد بھیج دیا۔

مرد ہمیں ایک دو گھروں میں لے گیا جنہوں نے طالبان کی شکایت کی کہ ہم سے زبردستی چیزیں مانگتے ہیں اور فوج کی بھی شکایت کی کہ وہ سرچ کے نام پر ہمیں تنگ کرتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طالبان کا ٹھکانہ جہاں پر ہے وہاں سے فوج صرف دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اس کے بعد کہانی میں فوج کو اور ریاست پاکستان کو پی ٹی ایم کے ان جانبازوں نے وارننگز اور دھمکیاں دی ہیں
۔

کہانی میں کچھ جھول ضرور ہیں۔ مثلاً

طالبان سے بھرے اس علاقے میں پی ٹی ایم کے ان جانبازوں کو ایک بھی طالب نہیں ٹکرایا ؟؟؟

نہ کسی فوجی نے ان کو کچھ کہا یا روکا ٹوکا ؟؟؟

نہ گاؤں کے کسی بندے کی ان پر نظر پڑی جو ان کو دیکھتے ہی خوشی سے نعرے لگاتا ؟؟؟

وزیرستان میں دروازوں پر مرد آتے ہیں کہ لیکن یہاں عورت آئی اور ان کی فرمائش پر مرد بھیجا جو اتنی دیر تک اندر بیٹھا رہا ؟؟؟

پھر عورت نے بجائے پوچھنے کے کہ کون ہو ؟؟؟

بلکل وہی ڈائلاگ مارے جو پی ٹی ایم کو درکار تھے یعنی کہ پھر کس کو اٹھا لیا گیا ہے ؟؟؟

کون مارا یا قتل ہوا ہے ؟؟؟

یعنی وہاں جس کا دروازہ بجتا ہے وہ انہی اطلاعات کے لیے بجتا ہے ؟؟؟

پھر جب لوگوں نے طالبان کے ٹھکانے کے بارے میں بتایا تو ہمارے یہ جانباز اس ٹھکانے پر گئے کیوں نہیں طالبان کو دھمکانے یا بھگانے یا کم از کم نعرے لگانے ؟؟؟

جتنا پی ٹی ایم جھوٹ بولتی ہے یہ لوگ شائد اس علاقے کے قریب بھی نہیں گئے ہیں۔
جو لوگ شکتوئی سے ناواقف ہیں ان کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ
یہ دہشت گردوں کا آخری ٹھکانا تھا۔
یہ بلکل افغانستان کے بارڈر پر ہے
یہاں انٹرنیٹ تو چھوڑیں موبائل بھی کام نہیں کرتے
یہاں احسان اللہ سنڑے نامی کمانڈر رہتا تھا
اوزیرستان میں آپریشن کے بعد جب بھی دہشت گردی ہوتی تھی دہشت گرد یہیں پر آکر پناہ لیتے تھے کیونکہ یہ آخری ٹھکانا رہ گیا تھا
یہ ایسا علاقہ تھا کہ یہاں پر گھر گھر میں دہشت گرد موجود تھے

آپریشن سے پہلے یہاں پر کوئی آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آپریشن کے بعد یہاں پر ترقیاتی کام ہونے لگے ہیں جس پر مقامی لوگ کافی خوش ہیں۔
اب میڈیا بھی وہاں جاسکتا ہے
اور تو اور پی ٹی ایم والے بھی وہاں کا دورہ کر لیتے ہیں اور ان کو ایک بھی دہشت گرد نہیں ٹکراتا
۔

نوٹ ۔۔ کہانی کسی اچھے رائٹر سے لکھوایا کریں اور ذرا یہ تصویر ملاحظہ کیجیے۔
کہاں سے لگتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کے علاقے میں بیٹھے ہیں
؟؟؟
یوں لگتا ہے گویا کہیں پکنک منانے گئے ہیں
۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here