پونی والے انکل نے اج بڑی لمبی تقریر فرمائی اور غداری کی تشریح پہ آٹھ آٹھ آنسو بہائے
وجہ تھی
ایس اے دولت اورجنرل درانی نے بھارت اورپاکستان کی صورتحال کے پس منظرمیں مشترکہ طورپر لکھی گئ ایک کتاب جس کا عنوان  اسپائی کرونکل: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس 

جن کا بقول ان کے
مقصد ٹریک 2 کے طریقے سے دونوں ممالک کے درمیان کلیش دور کر کے انھیں قریب لانا تھا
یہ دو پرانے جاسوسوں کا انفرادی فعل تھا
جس میں ادارہ انوالو نہیں تھا

‏اسددرانی کی اس کتاب پر پاک فوج کو بہت سے تحفظات ہے یہ ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی واضع خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے
اسددرانی کو پوزیشن واضح کرنےکےلیے 28 مئی کوجی ایچ کیوطلب کیا گیا ہے ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ حاضر اور رئٹائرڈ دونوں پر ہی لاگو ہوتا ہے بے شک ان کا بلایا جانا ثابت کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے خلاف کوئی جج، جرنیل، جرنلسٹ یا سیاستدان جاتا ہے تو ان کے خلاف آئنی ہاتھوں سے نبٹا جائے گا
قومی سلامتی کے ادارے قومی سلامتی کے متعلق zero tolerance کی پالسی ہی رکھتے ہیں
اس
‏کتاب میں بہت سےموضوعات حقائق کےبرعکس بیان کیے گئے
جن پر اب ان سے جواب طلب کیا جائے گا
یہ دو سابق جاسوسوں کی آپسی ڈسکشن ہے
جیسے کہ یہ کیسے ہوا ہو گا یا فلاں واقعہ کیسے ہوا
صرف مفروضے ہیں جیسے کہ را کے سابقہ جاسوس ایس اے دولت
کے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر سوال کے جواب میں جنرل( ر) اسد درانی نے کہا کہ ‘میں یہ ٹی وی پر پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ شاید کہ ایسا ہوا ہو کہ ہم نے ان کو چھپا کے رکھا ہو یا ہمیں بعد میں علم ہو گیا ہو کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں اور آئی ایس آئی نے فیصلہ کیا ہو کہ امریکہ سے مشترکہ معاہدے کے بعد انھیں وہاں سے لے جایا جائے
اب جس پہ جمہوریے صبح سے اچھل رہے ہیں وہ اس بیان کو دو بار پڑھیں
کہ انھوں نے لفظ شائد یا، یا، کیوں استعمال کیا کیونکہ یہ صرف ایک جاسوس کا دوسرے جاسوس سے مکالمہ تھا اور وہ بھی اس جاسوس سے جو کہ ایبٹ آباد کے اپریشن کے وقت آئی ایس آئی میں تھے ہی نہیں اور جب وہ آئی ایس آئی میں تھے ہی نہیں تو ان کی کی گئ کوئی بھی بات کیا معنی رکھتی ہے ان کے یا اور شائد بتاتے ہیں کہ وہ مفروضے کی بنیاد پہ بات کر رہے تھے
جمہوریو
اگر اس میں پاکستان کی مرضی انوالو تھی یا پاکستان نے امریکہ کو ٹپ دی تو پاکستان نے اسے چپ چاپ کیوں نا اٹھا کے امریکہ کے حوالے کیا
قومی سلامتی کے ادارے ایسا رسک کیسے لے سکتے ہیں کہ کسی ارمی کو خود دعوت دیں کہ آو ہمارے ملک میں اپریشن کرو اور بندہ اٹھا کے لے جاو. کیا تم لوگوں کی عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے
اگر اسامہ بن لادن کا پتہ پاکستان نے دیا تو
پشاور کے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اسامہ بن لادن کے معاملے میں کیا کردار تھا؟
انھوں نے پولیو کے قطروں کے جعلی پروگرام کی مدد سے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کیوں معلومات حاصل کیں
اور امریکہ کو اتنا خجل خوار کیوں ہونا پڑا
اب
دوسری طرف اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے
سوچنے والی بات ہے کہ کتاب اس وقت آئی جب نواز شریف نے ممبی حملوں کے متعلق بیان دیا
کیا اسد درانی کی نوازشریف سے پرانی نمک خواری سے دنیا ناواقف ہے؟
کیا جمہوریے نہیں جانتے کہ نوازشریف کی حکومت لانے اور بےنظیر کی حکومت گرانے کے لیے اسد درانی نے کتنی محنت کی
تب بھی شریف ان ٹربل تھے اور اج بھی شریف ان ٹربل ہیں
واضع طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کتاب نوازشریف کو ریسکیو کرنے کے لیے اس وقت لانچ کی جا رہی ہے
‏دوسری طرف ضرورت ہے کہ اب کوئی سخت اقدام ہوں
پاکستانی سابق فوجی افسران، ریٹائرمنٹ کے بعد جو کچھ فرماتےہیں
پاک فوج کو سنجیدگی کے ساتھ اس بارے غورو فکر کرنا چاہئے اور کاکول اور سٹاف کالج کی ٹریننگ میں اس بات کو شامل کرنا چاہئے کہ ریٹائرمنٹ کےبعد دفاع اور قومی سلامتی کے امور بارےمنہ کیسےبند رکھنا ہے
حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here