پنجابی فوجی نے شیشہ جلدی نہ اتارنے پر شیشہ توڑنے کی دھمکی دی

0
1285

عصبیت کے داعیوں سے بچیں ۔۔۔۔۔۔ !

فاٹا میں روزانہ سڑکوں پر لڑھکتے قبائیلیوں کے کٹے ہوئے سر، روزانہ ہونے والے بم دھماکے، سکولوں اور کاروباروں کی تباہی اور دہشت گردی کے مراکز زیادہ بڑی تکلیف تھی؟ یا چیک پوسٹوں پر شناختی کارڈ چیک کروانا؟؟

پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے والوں میں سے ایک صاحب نے انکشاف کیا ہے کہ ” پنجابی فوجی نے شیشہ جلدی نہ اتارنے پر شیشہ توڑنے کی دھمکی دی ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فوجی کی مذکورہ دھمکی کے بعد شیشہ تو نہ ٹوٹا لیکن ان کا شیشے سے زیادہ نازک دل ضرور ٹوٹ گیا۔

اس ” مبینہ ظلم ” نے اتنی تکلیف دی کہ موصوف نے باقاعدہ پشتون پنجابی جنگ چھیڑنے کی کوشش کی۔ پاک فوج کو پنجابی فوج قرار دیتے ہوئے اس کو کشمیر میں انڈین غاصب فوج سے تشبیہ دی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی کل ہی قبائیلی عمائدین نے حیران کن طور پر جنرل باجوہ کو اپنا ” واق ” دینے کا اعلان کیا اور فاٹا اصلاحات کے لیے ان سے اپنی امیدیں باندھیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبائیلوں کو اپنی ہی فوج سے متنفر نہیں کیا جا سکتا۔

فوج کی چیکنگ کا واویلا مچانے والے ان لوگوں کی منافقت دیکھنی ہو تو ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے قتل عام پر انکی رائے دیکھ لیجیے۔ آپ کو اندازہ ہو جائیگا کہ ان کے دلوں میں انسانیت کا کتنا درد ہے۔

ان نام نہاد لکھاریوں سے تو فیس بک پر لکھنے والے وہ کھلنڈرے لڑکے بہتر ہیں جو ہزار گالیاں کھانے کے بعد بھی مسلکی اور لسانی بنیادوں پر لوگوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

اورایک اور بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی ہر پوسٹ کے آخر میں یہ لازمً لکھنا کہ ” اب مجھے شائد غائب کر دیا جائے یا مار دیا جاؤں لیکن میں اس کے لیے تیار ہوں ” ۔۔۔۔۔۔ تو حضور خاطر جمع رکھئے۔۔۔۔۔ آپ بھی آزاد ہیں، آپ کا ملحد بھائی بھی آزاد، شرمین عبید بھی آزاد اور عاصمہ جہانگیر بھی آزاد ہیں۔۔۔۔۔

پاک فوج رنڈیاں نہیں مارتی، بے فکر رہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here