پشتونوں کو پیاسا مارنے کی سازش

0
303

انڈیا افغانستان میں دریائے کابل پر 13 ڈیم بنا رہا ہے جن کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے لیے اس دریا میں پانی کی مقدار نہ ہونے کے برابر رہ جائیگی۔

پاکستان کے کم از کم 20 شہر دریائے کابل پر کسی نہ کسی طرح انحصار کرتے ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے تین بڑے شہروں کی زراعت کا کل انحصار صرف اسی دریا پر ہے۔

پشاور 80 فیصد، نوشہرہ 47 فیصد اور ضلع چارسدہ کی 84 فیصد زراعت اس دریا کے مرہون منت ہے۔ ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد ان شہروں کی زراعت بہت حد تک تباہ ہوجائیگی۔

ایوب خان نے 1960 میں اس دریا پر ورسک ڈیم بنایا تھا جو 343 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔ دریائے کابل سوکھنے کی صورت میں پاکستان اور صوبہ پختونخواہ اس سستی بجلی سے محروم ہوجایگا۔

یہ سارا معاملہ بارہا منتخب جمہوری حکومت کے نوٹس میں لایا گیا لیکن وہ اس پر ٹس سے مس نہیں ہوئی (وہ دن رات ایک کر کے اپنی آف شور کمپنیاں بچانے میں مصروف رہے)

دوسری طرف پشتونوں کے سب سے بڑے “خیرخواہ” اسفند یار ولی نے تو باقاعدہ ان انڈین ڈیموں کی حمایت کر دی ہے۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ اسفند یار ولی کا تعلق ضلع چارسدہ سے ہے جو ان ڈیموں سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور اسکی زراعت مکمل طور پر ختم ہوکر رہ جائیگی۔

یہ اسفند یارولی کالاباغ ڈیم کا سب سے بڑا مخالف ہے جس سے صوبہ خیبرپختنواہ کی 8 لاکھ ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوگی اور کے پی کے کہ ڈیرہ اسمعیل خان، بنوں اور کرک جیسے ضلعے شاداب ہوجائنگے۔ کے پی کے میں زرعی انقلاب آجائیگا۔ ( یہ کافی افسوسناک امر ہے کہ محض ایک خاندان کی ہٹ دھرمی کی بدولت پشتنونوں سمیت 20 کروڑ آبادی بجلی اور پانی کے بحرانوں سے دوچار ہیں )

دنیا بھر میں پانیوں پر ممالک کے درمیان معاہدے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہئے۔ سنا ہے کچھ لوگوں نے اس معاملے میں افغانستان سے سرسری سی بات کی تو انہوں نے معاملے پر بات کرنے سے ہی انکار کردیا اور کہا کہ اس پر ابھی ہماری پالیسی نہیں بنی۔ اس صورت میں پاکستان کو ہر صورت میں ان ڈیموں پر کام رکوا دینا چاہئے کیونکہ اس دریا کا پانی صرف افغانستان کا نہیں ہے۔ اس طرح افغانستان کو بھی ٹائم مل جائیگا کہ وہ آرام سے بیٹھ کر پالیسی بنا سکے۔

ان ڈیموں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ پرپیگینڈا بھی کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کا اصل خیر خواہ انڈیا ہے نہ کہ پاکستان۔ انڈیا افغانستان میں ڈیم بنا رہا ہے جبکہ پاکستان وہاں دہشت گرد بھیج رہا ہے۔

تو جناب عرض یہ ہے کہ افغانستان ماچس کی تیلی سے لے کر آٹا، گھی، چینی، سیمنٹ، ادویات غرض ضروریات زندگی کی تقریباً ہر چیز پاکستان سے حاصل کرتا ہے جسکے بدلے میں اٖفغانستان سے پاکستان صرف اسلحہ، ہیروئن اور افغان پناہ گزین ہی آرہے ہیں۔ دہشت گرد اور منظور پسکین جیسی تحریک اس کے علاوہ ہیں جو ہمیں افغانستان سے ملتی رہتی ہیں۔

پاکستان میں 40 لاکھ افغانی پناہ گزین ہیں جنکا صرف ایک سال کا خرچہ ہی اس جیسے 100 ڈیموں کے خرچے کے برابر ہے۔ انڈیا خیر خواہ ہے تو صرف ان اٖفغان پناہ گزینوں کو پناہ دے کر دکھا دے۔

خٰیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ انڈیا دو کام کر رہا ہے۔

ایک کالاباغ ڈیم بنانے سے روک رہا ہے جس کی وجہ سے ڈیرہ اسمعیل خان، بنوں اور کرک کو سیراب کرنے کی واحد امید دم توڑ رہی ہے۔ اس میں اے این پی اور جے یو آئی انڈیا کی مدد کر رہے ہیں۔

دوسرے وہ مردان، چارسدہ، پشاور اور صوابی وغیرہ کو سیراب کرنے والے دریائے کابل کو روک رہا ہے اور بدقسمتی سے اس میں بھی ان کو اے این پی کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستانی ڈیموں یہ دشمن پشتونوں کو پیاسا مارنا چاہتے ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here