پرویز مشرف ایک کال پر ڈھیر ہوجاتا ہے پورا ملک اس پر لعن طعن کرتا ہے

0
907
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھوڑ اصبر

پرویز مشرف ایک کال پر ڈھیر ہوجاتا ہے
پورا ملک اس پر لعن طعن کرتا ہے
فوج کو امریکی پٹھو ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے
ایک طوفان بدتمیزی اٹھ کھڑا ہوتا ہے
عوام جزبات میں نفرت کے الاؤ لئے بیٹھ جاتے ہیں .

مگر پھر کچھ سال گزرتے ہیں تو معاملات کلئیر ہونے لگتے ہیں , وہ پرویز مشرف جسے بزدلی کے طعنے ملا کرتے تھے وہی شخص تاریخ کا شاطر ترین جرنیل ثابت ہوتا ہے , جب وقت کی سپر پاور کے پاؤں افغانستان کی اس دلدل میں دھنسنے لگتے ہیں , اسکے خزانے خالی ہونے لگتے ہیں , امریکہ اپنی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحرانوں کا شکار ہوجاتا ہے , ہزاروں اپاہج اور ہزاروں لاشوں کی صورت میں تابوت واپس پہنچنے پر امریکی عوام اپنے پالیسی سازوں پر نکتہ چینی کرنا شروع ہوجاتے ہیں اور تاریخ میں ہی پہلی دفعہ افغان جنگ کے خلاف امریکہ کے خلاف امریکہ میں ہی مظاہرے شدید ہونا شروع ہوجاتے ہیں ,

عسکری نصابوں میں بار بار کہا جاتا ہے کہ فتح شکست کا دارومدار نقصانات پہ نہیں ہوتا فتح شکست کا دارومدار اس بات پہ ہوتا ہے کہ جنگ کا جو مقصد تھا کیا وہ پورا ہوا ؟

حملہ آور اپنا ٹارگٹ اچیو کرسکا ؟

حریفوں کی ڈسٹرکشنز کے تناسب کا تعلق ہر گز بھی فتح یا شکست طے نہیں کرتا , امریکہ افغانستان میں تیزی سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے پاکستان کو نکیل ڈالنے اور چائینہ کی اقتصادی وار کا مقابلہ کرنے آیا تھا , اسے مضبوط پناہ گاہ چاہئے تھی, ایسے بیس چاہئیں تھے جہاں وہ پاکستان پر حملے کے لئے قوت جمع کرسکے مگر وقت نے ثابت کیا کہ پاکستان نے اسکے منصوبے کو کبھی پورا ہونے ہی نہیں دیا

وہی پرویز مشرف جسے بزدل کمانڈو کہا جاتا تھا آج اسی کو دنیا ایک چالاک جرنیل کے نام پہ یاد رکھتی ہے کہ جس نے امریکہ کی مدد سے امریکہ ہی کے سب منصوبے خاک کردئے
پرویز مشرف دور میں ہی کشمیر کی جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی جاتی ہے مگر ان تنظیموں کے مجاھد گواہ ہوں گے کہ کشمیر کے جہاد میں اتنی آسانیاں کسی نے فراہم نا کیں جو مشرف نے درپردہ پیدا کردیں

ریمنڈ ڈیوس معاملے پہ سول حکومت اور عدلیہ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیتی ہے مگر اس دوران انٹیلیجنس کو
جو چند دن تفشیش کے لئے ملتے ہیں اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بلیک واٹر کہ جس کی دہشت پورے پاکستان میں ہوتی ہے یکدم اس کا پاکستان سے صفایا ہوجاتا ہے .
سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ ہوتا ہے پھر تنفید شروع ہوجاتی ہے
مگر جواب وہاں دیا جاتا ہے جہاں دینا چاہئے , 2011 اور 2012 کا سال امریکی اور ناٹو فوجیوں پہ قیامت کا سال گزرتا ہے افغان جنگ کے دوران اتحادی فوجیں ضرورت سے زیادہ نشانہ بننا شروع ہوجاتی ہیں

نواز شریف کی حکومت کے ان پانچ سالوں کا تجزیہ کریں تو ایک بات صاف ہوجاتی ہے کہ نواز شریف نے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت سے ڈر کر خود کو سیاسی شہید بنانا چاہا اور بارھا ایسے کام کئے کہ فوج مجبور ہوکر مارشل لاء لگا دے مگر فوج نے ایسا نہیں کئے
بزدلی کے بدلے جنگ جیتنا , ریمنڈ ڈیوس کے بدلے بلیک واٹر کا نیٹ ورک ختم کرنا , سلالہ کا بدلہ افغانستان میں لینا , جہاد کشمیر پر پابندی لگا کر اسے مزید تیز کردینا , نواز شریف کی کوششوں کے باوجود مارشل لاء نا لگانا کہ اس ناسور سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ جائے ,

یہ پانچ مثالیں ذہن میں بٹھا لیجئے اور ایک بات دل میں طے کر لیجئے کہ آپ کی مسلح افواج کا کوئی قدم پاکستان کی سالمیت کے خلاف نہیں ہوتا , ان کے جو فیصلے آپ کو غلط لگتے ہیں ان فیصلوں کو وقت درست ترین ثابت کرتا ہے , آپ نا تو جی ایچ کیو میں سفید بال لئے بیٹھے جرنیلوں جتنی اہلیت رکھتے ہیں اور نا اتنی سمجھ بوجھ کہ ملکی سالمیت کے فیصلوں کو سہی درست ثابت کرسکیں

کرنل جوزف کے معاملے کے کئی رُخ ہیں وہ سفارتکار ہے , حادثہ تو معمولی چیز ہے سفارتکار کو جاسوسی جیسے قابل گردن زنی جرائم پہ بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ماسوائے اسکے کہ ناپسندیدہ قرار دیکر نکال دیا جائے
کرنل جوزف کو چھٹی آپ کی فوج نے نہیں دی , یہ آپ کی سول انتظامیہ اور وزارت داخلہ کے دئے این او سی کا کمال ہے , وہی این او سیز جنہیں آپ کی سول سپرمیسی کے نمونے زرداری اور نواز شریف سی آئی اے کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچتے رہے
فوج کو ایسا کوئی بھی آئینی اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ کرنل جوزف کو روک سکے , یہ اختیارات اور یہ کیس سول انتظامیہ کی ذمہ داری تھا , فوج ہر گز ہر گز صرف ایک حادثے کی صورت میں اختیارات سے تجاوز کرکے اس نام نہاد سول سپرمیسی کو اپنے اوپر گند اچھالنے کا موقع نہیں دے سکتی تھی ,

تھوڑا اعتماد رکھئے , صبر رکھئے , وقت کے فیصلے دیکھ لیجئے
یہ آپ کی ہی فوج ہے , یہ آپ ہی میں سے فوج ہے , کچھ اقدامات پر غلطی ہوسکتی ہے کیونکہ فوج آسمان سے نہیں اتری , فرشتے نہیں ہیں , انسان ہیں , مگر آپ کی سول انتظامیہ ,سول حکومت , سول اداروں سے ہزار گنابہتر ہیں
تنفید کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے کیجئے , مگر تحقیر برداشت نہیں ہوگی
سالار عبداللہ


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here