پاک فوج یا پاکستان یہ دعوی کرتی ہے کہ “ہم امریکہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف

0
444

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاک فوج اور ٹی ٹی پی دنیا بھر سے جھوٹ بول رہے ہیں !!

پاک فوج یا پاکستان یہ دعوی کرتی ہے کہ “ہم امریکہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ ٹی ٹی پی یہ دعوی کرتی ہے کہ ” ہم امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں ” ۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن اگر حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ معاملہ اسکے بلکل برعکس ہے ! مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ حقیقت ہے کہ افغان طالبان یا ملا عمر کا ٹی ٹی پی پر کوئی اثرو رسوخ نہیں ہے اور یہ بارہا ثابت ہو چکا ہے جیسے
کرنل امام کو جب شہید کیا جا رہا تھا تو ملا عمر نے حکیم اللہ کے پاس کم از کم دو وفد بھجوائے اور اپیلیں کیں کہ یہ میرے استاد اور مجاہد ہیں انکو شہید نہ کیا جائے لیکن ملاعمر کی ان اپیلوں کو ٹی ٹی پی نے مسترد کر دیا ۔
ملا عمر بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان میں حملے حرام ہیں لیکن ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔
ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر ملا عمر کے ماتحت لڑنے والے کمانڈرز کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑی رہی ہے جیسے سوات میں شاہ گروپ کے خلاف، باڑہ میں محبوب ملا کے خلاف ، تیراہ اور ہنگو میں مولوی نبی کے خلاف، درہ آدم خیل میں مومن آفریدی کے خلاف اور وزیرستان میں میں زین الدین محسود اور ملا نزیر کے خلاف لڑتی رہی ہے اور ان دونوں کو شہید کیا جا چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ایک مہینہ پہلے ٹی ٹی پی کے موجودہ امیر فضل اللہ پر افغان طالبان کا حملہ جس میں فضل اللہ بچ گیا تھا ۔
اور سب سے بڑھ کہ جب پہلی بار افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے معاملات میں دخل دیتے ہوئے سید خان عرف سجنا کو ٹی ٹی پی کا امیر بنوانے کی کوشش کی تو انکی رائے کو مسترد کر دیا گیا ۔

ٹی ٹی پی کے امریکہ کی تیار کردہ افغان فوج ، حامد کرزئی اور انڈینز کے ساتھ گہرے روابط اور انسے ہر قسم کے تعاون کا حصول ۔ حکیم اللہ محسود کا بھائی لطیف اللہ محسود حامد کرزئی سے معمول کی ملاقات کے لیے جا رہا تھا جب گرفتار ہوا نیز ٹی ٹی پی کے موجودہ امیر کابل میں حامد کرزئی کے تعاون سے وہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کرواتے رہے اور کیا وزیرستان کی سرحد پر موجود نصف درجن سے زائد انڈین سفارت خانوں کی موجودگی کا کوئی ایک بھی معقول جواز پیش کیا جا سکتا ہے ؟؟ کیا حامد کرزئی ، انڈینز یا افغان فوج ٹی ٹی پی کو امریکہ کے خلاف لڑنے کے لیے تعاون فراہم کر رہے ہیں ؟؟

پاکستان میں ٹی ٹی پی کے عبد اللہ محسود کا گوادر پراجیکٹ بند کروانے کی کوشش جب اسنے چینیوں کو وہاں سے اغوا کیا تھا اور اسکا مطالبہ کیا تھا ۔ نیز پاکستان کے نیوی آبدوزوں اور سمندر کی نگرانی کرنے والے جہازوں پر حملے اور عین وزیر اعظم کے دورہ چین سے ذرا پہلے چلاس کی بلندیوں پر جا کر چینی کوہ پیماؤوں کا قتل ۔ یہ سارے اقدامات امریکن اور انڈین سٹریٹیجک مفادات کے عین مطابق ہیں ۔

ٹی ٹی پی کی طرف سے حملہ آور بہت سے ایسے لوگوں کی گرفتاری جو غیر مسلم اور غیر ملکی تھے مثلاً وہ جنکے ختنے نہیں ہوئے تھے یا وہ جن کے جسموں پر شیطانی ٹیٹو بنے ہوئے تھے ۔

ٹی ٹی پی کمانڈرز پر صرف اس وقت امریکی ڈرون حملے جب وہ پاکستان سے صلح کرنے کی بات کرنے لگتے ہیں ۔

اور سب سے بڑھ کر یہ حقیقت کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں امریکہ کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کر رہی آخر کیوں ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دوسری طرف اگر پاک فوج کی بات کی جائے تو ۔۔۔۔۔

اسامہ بن لادن ، ملا برادر اور نصیر الدین حقانی جیسے بڑے مجاہدوں کا پاک فوج ہی کی گود سے برآمد ہونا ۔۔۔

یہ حقیقت کہ ملا عمر نے آج تک پاک فوج کے خلاف کوئی بیان یا فتوی جاری نہیں کیا ہے آخر کیوں ؟

یہ حقیقت کہ امریکی حملے کے غالباً تیسرے دن ہی جنرل محمود ( اس وقت کے آئی ایس آئی چیف) نے حقانی صاحب کو پنڈی بلوا کر اہم امور طے کر لیے تھے جس میں حقانی صاحب نے یہ کہا تھا کہ امریکہ کو زمین پر اترنے دیں پھر انکو دیکھ لینگے ۔

پاکستان کی ساتوں ایجنسیوں میں ہزاروں لوگوں کی اس بات پر گواہی کہ دراصل پاک فوج پاکستان میں موجود افغان جہاد لڑنے والے طالبان یا کمانڈرز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی بلکہ انکا آپس میں تعاون کھل کر نظر آتا ہے اسکی آپ بھی تصدیق کر سکتے ہیں ۔

پاکستان کی چھ بڑی ایجنسیوں اور سوات میں بہت بڑے آپریشنز کرنے کے باوجود پاک فوج کا شمالی وزیرستان میں آپریشن نہ کرنے کا اعلان کیونکہ وہاں اکثریت افغان جہاد کرنے والے کمانڈرز کی ہے ۔ اس معاملے میں جنرل کیانی نے امریکہ کی تمام تر دھمکیوں اور لالچ کو نظر انداز کر دیا حتی کہ امریکہ کی جانب سے ایف 16 اور ڈرون ٹیکنالوجی تک دینے کی بات ہوئی ۔

جنرل نیازی کو شہید کرنے کے سلسلے میں دہشت گردوں کو امریکہ کی سیٹلائٹ مدد کی فراہمی ۔

سلالہ میں امریکہ کی پاک فوج کی اس چیک پوسٹ پر بمباری جہاں سے دہشت گردوں کی تقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی ۔

پاک فوج کی جانب سے اسامہ کی مخبری کرنے والے شکیل آفریدی کی گرفتاری اور جنرل ظہیر السلام کا یہ بیان کہ ۔۔۔۔” امریکہ شکیل آفریدی کو بھول جائے ” ۔۔ جبکہ اسی شکیل آفریدی کے خلاف ٹی ٹی پی کا ایک بیان تک سامنے نہیں آیا ۔

یہ دونوں بہت لمبی فہرستیں بن سکتی ہیں ۔ لیکن معاملات کی اصلیت کو سمجھنے کے لیے یہ کافی ہیں ۔ ان حالات و واقعات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دراصل پاک فوج امریکہ کے خلاف خونریز جنگ لڑ رہی ہے اور ٹی ٹی پی امریکی اتحادی ہے ۔

یہ معاملہ بہت گنجلک ہے ۔ میری اپنی رائے یہ ہے کہ پاک فوج اور ٹی ٹی پی کی مخالفت یا حمایت کے لیے استخارہ کر لینا چاہئے ۔ اللہ سے مشورہ کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا اور اس مشورے کے بعد کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here