پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

0
58
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر پاکستان میں کئی حلقے یہ خیال کر رہے ہیں کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان خلیج بڑھے گی اور ملک میں امریکا مخالف جذبات کو بھی ہوا ملے گی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ اتنظامیہ نے حال ہی میں ان 66 پاکستانی فوجی افسران کے لیے فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا جنہیں اگلے تعلیمی سال میں امریکا ملٹری ٹریننگ کے اداروں میں پڑھنا تھا۔ یہ فنڈنگ امریکی حکومت کے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت دی جاتی تھی۔
واضح رہے کہ سرد جنگ کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات نسبتا خواشگوار رہے۔

ان تعلقات میں تلخی 1965اور1971میں لڑی جانے والی پاک بھارت جنگوں کے دوران آئی جب پاکستان کے خیال میں امریکا اسلام آباد کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ افغان جنگ کے دوران پاکستان ایک بار امریکا کے بہت قریب آگیا اور نائین الیون کے بعد بھی پاکستان امریکا کا قریبی اتحادی رہا۔ اسلام آباد کو نان نیٹو اتحادی کے درجے سے بھی نوازا گیا۔ لیکن سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی آتی جا رہی ہے۔

ماہرین کے خیال میں اس تازہ امریکی فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گی۔ لیکن پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے خود امریکا کو نقصان ہوگا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ معروف دفاعی تجزیہ نگار ڈاکڑ ظفر نواز جسپال کے خیال میں اس فیصلے کے ذریعے امریکا نے ایک اہم رابطے کی لائن بند کر دی ہے۔’’پاکستان کے فوجی افسران کو اس پروگرام سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا، جو 1976میں شروع کیا گیا تھا اور پھر دوباروہ دوہزار تین میں شروع کیا گیا۔

امریکا کو اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ اسے مستقبل کی فوجی قیادت کو سمجھنے میں آسانی ہوتی تھی اور یہ پروگرام دونوں ممالک کی فوجی قیادتوں کے درمیان ایک طرح سے ہم آہنگی پیدا کرنے کا بھی ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔امریکا اس اہم ذریعے سے محروم ہوجائے گا۔‘‘ پاکستان سرد جنگ میں امریکا کا اتحادی رہا ہے اور امریکی ساخت کے ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔ تو کیا اس فیصلے سے پاکستانی فوج کے تربیتی معاملات متاثر ہوں گے۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ، ’’پاکستانی فوج کی تربیت کا معیار مغربی افواج کے برابر ہے۔ ہمارے کئی دوست ممالک کے فوجی افسران اسٹاف کالج اور افواج کے دوسرے اداروں میں آتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو امریکی ہتھیار چلانے جانتے ہوں لیکن اگر نہ بھی ہوں تو اب ہم زیادہ تر چینی یا روسی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ تربیت کے لیے بھی ہم روس اور چین کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔ تو میرے خیال اس تربیتی پروگرام کے فنڈز کم کرنے یا ختم کرنے سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں یہ تلخی ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کے حملے شدید تر ہوتے جا رہے ہیں اور واشنگٹن اسلام آباد پر یہ زور ڈال رہا ہے کہ وہ افغان طالبان کو مزاکرات پر آمادہ کرے۔ لیکن کیا اس فوجی تربیت کے پروگرام کے فنڈز میں کٹوتی کے بعد کیا اسلام آباد امریکا سے تعاون کرے گا۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انعام الرحیم نے کہا، ’’ایک طرف آپ ہم پر پابندی لگاؤ۔ سی پیک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرو۔

آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالو کہ پاکستان کو امداد نہ دے۔ پاکستان کی عسکری امداد کم کرو۔ تربیتی پروگرام ختم کرو اور اس کے بعد افغانستان میں ہماری مدد مانگو۔ ان حالات میں کون آپ کی مدد کرے گا کیونکہ امریکی اقدامات سے امریکا مخالف جذبات میں اضافہ ہوگا، جس کی وجہ سے پاکستان میں کوئی بھی حکومت امریکا کو افغانستان سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ہمت نہیں کرے گی۔ تو سارے امریکی اقدامات خود امریکا کو نقصان پہنچائیں گے۔‘‘

یاد رہے مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ایک بار پھر گریٹ بنانے آئے تھے مگر انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کے لیے بے انتہا مسائل کھڑے کر دیے ہیں، اب امریکہ کے اتحادی کم اور دشمن زیادہ ہو چکے ہیں۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here