پاک فوج کی دکھتی رگ پر ہاتھ ۔۔۔۔۔۔

0
1249

پاک فوج کی دکھتی رگ پر ہاتھ ۔۔۔۔۔۔ !

نواز شریف جانتا ہے کہ پاک فوج پانامہ کیس کے معاملے میں بلکل غیر جانبدار ہے۔ لیکن ۔۔۔ 

وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ پر پہلے کی طرح حملہ کرنے کی کوشش کی گئی یا ججوں کو ہراساں کیا گیا تو فوج ان کو تحفظ دے گی۔ اس لیے اس وقت انہیں فوج زہر لگ رہی ہے۔ 

پاک فوج پر دباؤ بڑھانے کے لیے نواز شریف نے اب کشمیر سے کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

آزاد کشمیر کے ن لیگی وزیراعظم اور گلگت کے ن لیگی وزیراعلی کے بیانات اس سلسلے کی پہلی کڑی تھے۔

سوشل میڈیا پر کام کرنے والے کئی گستاخانہ پیجز کے ڈانڈے آزاد کشمیر راؤلاکوٹ میں کام کرنے والے چند سرخوں سے ملتے ہیں جو اسلام کے علاوہ پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بھی زہر اگلتے رہتے ہیں۔

ان میں سے چند ایک کی گرفتاریاں ہوئیں تو ن لیگی اتحادی اے این پی نے انکو چھڑا لیا تھا۔

مریم نواز نے منصوبہ بنایا ہے کہ ان پاکستان مخالف عناصر کی مدد سے اس بار پاکستان کے یوم آزادی کو آزاد کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی دھچکہ ہوگا۔

اگر آن گراؤنڈ نہ کر سکے تو کم از کم اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے سوشل میڈیا پر یہ مہم ضرور چلائی جائیگی جسکو بی بی سی اور جنگ گروپ وغیرہ مطلوبہ کوریج دے دینگے!

پاک فوج کو پیغام دیا جائیگا کہ نواز شریف چھیڑا تو کشمیر ہاتھ سے نکل جائیگا۔

تیسری طرف نواز شریف نے چودھری نثار جیسے محب وطن اور دبنگ شخص کی جگہ خواجہ آصف کو وزیر خارجہ مقرر کردیا ہے۔ خواجہ آصف نے نہ صرف پارلیمنٹ کے فلور پر پاک فوج کو گالیاں دی تھیں بلکہ موصوف نے امریکہ میں جاکر حافظ سعید صاحب کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ حافظ سعید کشمیر کے لیے پاکستان سے اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز ہے۔

کشمیر پاک فوج کی دکھتی رگ ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو انڈیا سے نجات دلانے کے لیے پاک فوج اب تک 4 بڑی جنگیں لڑ چکی ہے۔

کشمیر سے کھیلنا آگ سے کھیلنا ہے۔ یہ نہ صرف سی پیک کا گلہ گھونٹ دے گا بلکہ کشمیر کے لیے پاکستان کی 70 سالہ قربانیوں پر بھی پانی پھیر دے گا۔

عاصمہ جہانگیر، فضل الرحمن اور میر شکیل الرحمن وغیرہ پاک فوج کو براہ راست للکار رہے ہیں جسکو نواز شریف کی للکار سمجھا جا رہا ہے ۔۔۔ !

نواز شریف اپنی سیاست ” گندے مسیجز” تک محدود رکھے تو بہتر ہے۔ وہ یہ نہ بھولے کہ پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں۔ یہ ایک گردش ہے جو بے شمار دشمنوں کو نگل چکی ہے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here