پاک فوج نے ملالہ کا علاج کیوں کیا اور اگر وہ ایجنٹ تھی تو آئی ایس آئی کہاں تھی؟

0
215
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے سوالات جمع ہوچکے ہیں ایک ہی پوسٹ میں ان پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے جوابات محض میرا ذاتی گمان ہے۔

” پاک فوج نے ملالہ کا علاج کیوں کیا اور اگر وہ ایجنٹ تھی تو آئی ایس آئی کہاں تھی؟ “

ایجنٹ تو حامد میر اور نجم سیٹھی بھی ہیں۔ نجم سیٹھی تو باقاعدہ پاکستان کے خلاف جنگ کر چکا ہے۔ اچکزئی روز پاکستان توڑنے کا اعلان کرتا ہے۔ ان کے لیے کسی خفیہ ایجنسی کی جاسوسی اور اطلاعات کی ضرورت ہی نہیں۔ لیکن کیا کبھی ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟
ڈان لیکس میں پاک فوج اور پاکستان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ لیکن اس اخبار، مصنف اور چھپوانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟
منظور پشتین اعلان کر رہا ہے کہ ” دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے” لیکن پاک فوج اس کو ” اچھا بچہ ” قرار دیتی ہے۔

بلکہ ان میں سے کسی کو خطرہ درپیش ہو تو پاک فوج سیکورٹی بھی فراہم کرتی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں پاک فوج ہی کے پاس کنٹرول ہوتا ہے۔ وہاں اچکزئی کو گولی لگ جائے تب بھی پاک فوج ہی اسکو ریسکیو کرے گی اور ممکن حد تک اسکی جان بچانے کی کوشش کرے گی۔

سوات میں بھی یہی ہوا تھا۔ علاقے کا کنٹرول فوج کے پاس تھا۔ جب ملالہ کو گولی لگی تو عالمی میڈیا امڈ آیا۔ وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک پہنچ گئے۔ تب سوات کا کنٹرول سنبھالنے والی فوج کہیں غائب ہوجاتی؟ تاکہ دنیا کو مزید الٹا میسج جاتا؟
ملالہ کو گولی لگی تھی۔ اس کی ساتھی طالبات گواہ ہیں۔ پاک فوج نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس کو ریسکیو کیا۔ بس اتنی سی بات تھی۔

تحریر و تقریر کے ذریعے نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کا اختیار عدلیہ کا ہے۔

———————

” احسان اللہ احسان اور کل بھوشن کو کیوں زندہ رکھا گیا ہے؟ “

دونوں ٹرمپ کارڈز ہیں۔ امریکہ، افغانستان اور انڈیا کی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ناقابل تردید گواہان۔ پاکستان پر لگائے گئے ان کے تمام الزمات کا جواب ۔۔ 🙂

آپ نوٹ نہیں کرتے جو لبرل ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی پھانسیوں کے خلاف ہیں وہ زور و شور سے احسان اللہ احسان کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

احسان اللہ احسان نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ سینکڑوں جنگجو بلوچ جنگجوؤں کی طرح واپس آنے کے لیے تیار ہیں اگر ان کو یقین دلایا جائے کہ ان کو معاف کر دیا جائیگا۔
اب اس پر آپ غور کیجیے کہ یہ جنگ مسلسل جاری رکھی جائے یا قومی دھارے میں انکی واپسی کا راستہ کھول کر اس جنگ کا خاتمہ کیا جائے؟

—————————

” پاک فوج کے حالیہ بیانات کہ ہم نے امریکہ کی مدد کی سپر پاور بننے میں یا ہم نے انکی جنگ لڑی وغیرہ اور آپ نے امریکہ سے 33 ارب ڈالر لیے وہ ؟ “

خود امریکہ اور دنیا بھر کے عالمی مبصرین کی رائے ہے کہ پاک فوج نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو مارا۔

پاک فوج کے پاس امریکہ سے براہ راست جنگ کے وسائل نہیں تھے۔ لیکن پراکسی جنگ کے اخراجات بھی نہیں تھے۔ پاک فوج کو یقین تھا کہ امریکہ سے براہ راست جنگ میں یقینی تباہی ہے لیکن اگر وہ افغانستان میں سکون سے بیٹھ جائے تب بھی پاکستان کی خیر نہیں۔

تب انسانی تاریخ کی ایک عجیب و غریب جنگ لڑی گئی۔ امریکہ سمیت دنیا بھر کو یقین دلایا گیا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردوں سے لڑینگے اور آپ ہمارے جنگی اخراجات ادا کرینگے۔

آج 16 سال بعد امریکہ نے اعلان کیا کہ پاک فوج کو ہم نے جو جنگی اخراجات ادا کیے تھے وہ دراصل ہمارے ہی خلاف جنگ کے اخراجات تھے۔ اس کے جواب میں پاک فوج کو کیا کہنا چاہئے تھا؟؟

ظاہر ہے فوج یہی کہے گی کہ ۔۔

” ہم اپ کے اتحادی ہیں۔ آپ کو جیتتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تو آپ کی جنگ لڑی تھی یہ تو ہماری جنگ نہیں تھی۔ روس کو ہم نے شکست دی تو آپ کو سپر پاور بننے کا موقع ملا وغیرہ وغیرہ “

ہم لازمً امریکہ پر احسان جتانے کی کوشش کرینگے اور ان کو بتائنگے کہ پاکستان آپ کا دشمن نہیں بلکہ دوست ہے۔ آئی سمجھ کہ نہیں ؟؟؟؟

ایک اور بھی سن لیں۔ 33 ارب ڈالر والی بات ڈونلڈ ٹرمپ کی چول ہے۔ پاکستان کو اصل رقم اس سے آدھی بھی ادا نہیں کی گئی جبکہ پاکستان کے جنگی اخراجات اس سے کئی گنا زیادہ رہے۔

اب امریکہ ہار رہا ہے تو ہمارا کیا قصور؟؟ ہم نے تو جیت کر دیکھا دیا ۔۔ 🙂

ارے بے وقوفو تم کیا چاہتے ہو کہ محض تمھیں خوش کرنے کرے لیے پاک فوج چند ڈائلاگ مار لے اور اپنی برسوں کی محنت اور قربانیوں پر پانی پھیر دے؟؟

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here