پاک فوج تم مرتد فوج ہو، ہم تمھیں نہیں چھوڑیں گے، ہم تمھیں قتل کرینگے ” ۔۔۔ پسکین تحریک کے سرکردہ لیڈر کا بیان۔

0
624

” پاک فوج تم مرتد فوج ہو، ہم تمھیں نہیں چھوڑیں گے، ہم تمھیں قتل کرینگے ” ۔۔۔ پسکین تحریک کے سرکردہ لیڈر کا بیان۔

یہ تحریک اس وقت پوری قوت سے پاکستان کی سلامتی پر حملہ آؤر ہو چکی ہے۔ بنیادی طور پر اس کا نشانہ تین چیزیں ہیں۔

الف ۔ دو قومی نظریہ یا مسلم قومیت

کسی ریاست کو برباد کرنا ہو تو سب سے پہلے ان نظریات کو نشانہ بناؤ جس پر اس ریاست کا وجود کھڑا ہے۔

ذرا اس کو سمجھئے!

1947ء سے پہلے پاکستان کا کوئی وجود نہیں تھا، کوئی فوج نہیں تھی البتہ ہمارے پاس ایک نظریہ تھا۔ پھر اپ نے دیکھ لیا کہ اس نظریے نے ایک پوری ریاست حاصل کر لی۔

1971ء میں ہمارے پاس ریاست بھی تھی اور فوج بھی۔ لیکن جب مسلم قومیت کے خلاف بنگالی قومیت کا نعرہ بلند کیا گیا تو پاکستان کو کوئی نہ بچا سکا۔
تب اندرا گاندھی نے بڑے مغرور لہجے میں کہا کہ ” آج ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا “

آج پسکین تحریک مسلم قومیت کے مقابلے میں پشتون قومیت کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ فرق البتہ یہ ہے کہ انہیں خود پشتونوں کی طرف سے زبردست مزاحمت کا سامنا ہے۔

ب ۔۔ قومی سلامتی کے ادارے یا افواج پاکستان

پسکین تحریک پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں یا پاک فوج پر حملہ آور ہے۔ پاک فوج کو قتل کرنے کے اعلانات آپ نے سن لیے۔
یہ تحریک پشتونوں کو پاک فوج کے خلاف اکسانے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر نفرت انگیز پراپگینڈا کر رہی ہے اور جعلی مواد کی تشہیر بھی کر رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مہم میں ان کو امریکہ، برطانیہ، انڈیا اور افغانستان کی بھرپور مدد و حمایت حاصل ہے۔

کسی فوج کو شکست دینی ہو تو اس کو عوامی حمایت سے محروم کر دو۔ منظور یہی کر رہا ہے۔ البتہ پاکستان میں ان کو سوائے افغانیوں کی کسی کی حمایت حاصل نہیں۔

ج ۔۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی

پاکستان کا دنیا کے سامنے یہ موقف ہے کہ ” ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ ہیں اور ہم کہیں بھی مجاہدین کو سپورٹ نہیں کر رہے”

لیکن منظور اور اس کے حامیوں کا پسندیدہ نعرہ ہی یہ ہے کہ ” دہشت گردی کے پیچھے وردی یعنی خود پاکستان ہے”

اور یہ نعرے وہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی لگا رہے ہیں۔

یہ لوگ ٹی ٹی پی کے خلاف لڑنے والے زین الدین محسود شہید کے بھائی کی پاک فوج کے ساتھ تصاویر شیر کر کے دنیا کو بتاتے ہیں کہ پاک فوج اور دہشت گرد ایک ساتھ ہیں۔

یہ لوگ حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ اس کو پاکستان نے ہیرو کیوں بنا رکھا ہے۔

انڈیا اور افغانستان کی دہشت گردی کے سب سے اہم گواہ احسان اللہ احسان کو سرکاری مہمان قرار دے کر طنز کرتے ہیں۔

یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اگر پاکستان کشمیری مجادین کی مدد کر سکتا ہے تو افغانستان ہماری کیوں نہ کرے؟
یوں دنیا کو پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان “دہشت گردوں” کی مدد کر رہا ہے۔

عالمی بدمعاشوں کو کسی ملک پر حملے کے لیے اتنا ہی جواز کافی ہوتا ہے۔

فرق لیکن یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی قوت سے لیس ایک بے مثل فوج ہے اور پاکستان پر دنیا کی کم از کم تین بڑی طاقتیں انحصار کر رہی ہیں۔

پسکین تحریک پشتونوں یا فاٹا والوں کے حقوق کی تحریک نہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔

سچائی یہ ہے کہ یہ تحریک فاٹا اصلاحات، فاٹا میں قیام امن اور فاٹا میں تعمیر نو کے خلاف شروع کی گئی ہے کیونکہ اگر یہ سلسلہ ایک دو سال اور چلا تو فاٹا جنت بن جائیگا اور افغانستان ہمیشہ کے لیے ” پشتون کارڈ ” سے محروم ہوجائیگا!

منظور پسکین صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پشتونوں کا اس وقت سب سے بڑا دشمن ہے۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here