پاک فوج اسلام کی فوج ہے کیونکہ یہ مقاماتِ مقدسہ کی محافظ ہے

0
186

پاک فوج اسلام کی فوج ہے کیونکہ یہ مقاماتِ مقدسہ کی محافظ ہے اور اس وقت مقاماتِ مقدسہ کی جانب سے بری نظر سے دجال کے پجاریوں کی ہے تاکہ ان مقامات پر قبضہ کرکے مسلمانوں کو یرغمال بنالیا جائے اور ان سے دجالی کی خدائی کا اقرار کروایا جاسکے. میں نے ظالموں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں جو اس وقت پاک فوج کے خلاف بکواس کرتے اور تہمتیں لگاتے ہیں کہ بدبختو پاک فوج سے تو اللہ نے جو کام لینا ہے وہ ہر صورت لے گا لیکن اتنا یاد رکھنا کہ تم پاک فوج کو نہیں تم ان ابابیلوں کی اڑان کو کمزور کرنے کی فراق میں ہو جو مقاماتِ مقدسہ کی محافظ ہیں

جو ہمارے ایمان کے محافظ ہیں جیسے انڈیا اور دوسرے غیرمسلم ممالک میں مسلمانوں کو پکڑ پکژ کر کفر پہ ڈالا جارہا ہے انہیں اپنے مذہب پر چلنے کی بھی آزادی نہیں مگر آج تم محفوظ ہو تمھارا ایمان محفوظ ہے کیونکہ سامنے پاک فوج ہے کسی کی جرات نہیں کہ وہ تمھارے گھر میں گھس کر تم سے تمھارا مذہب تبدیل کراوئے

جس پاک فوج کے خلاف انگلی اٹھائی جاتی ہے اس کا ہر جوان جانتا ہے کہ پاک فوج ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک فریضہ ہے اگر پیشہ سمجھ کے اسے اپنایا جاتا تو کوئی بھی اتنا بیوقوف نہیں کہ 25000،30000 میں اپنی جان دینے کو آمادہ ہوجائے یہی وہ جذبہ ہے جس کے سبب رات کو ہم سکون سے اپنے بستر میں جا کر میٹھی نیند سوپاتے ہیں. جس نیند میں ہم سکون محسوس کرتے ہیں یہ سکون ایسے ہی نہیں ملتا اس کی قیمت سرحد پہ کھڑا ایک جوان اپنا گھر بار چھوڑ کر، اپنی نیند اپنا سکون قربان کرکے ادا کررہا ہوتا ہے.

جو بدبحت ان محافظوں سے انگلی اٹھا رہے ہوتے ہیں دل میں یہ بدبخت بھی خود کو صرف اس لیے محفوظ محسوس کرتے ہیں کہ کم از کم جب تک پاک فوج ہے کوئی ان تک نہیں آسکتا
مجھ سے اکثر کہا جاتا ہے آپ پاکستان اور پاک فوج کے لیے کافی جذباتی واقع ہوئے ہیں ذیادہ اعدادوشمار میں نہیں جاتے اور میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے کہ یہ پاک وطن میری ماں ہے اور ماں کی عزت اور ماں کی محبت میں جذباتی ہونے کا ہی حق ہے بھلا جب کوئی میری ماں پہ انگلی اٹھائے گا تو کیا میری غیرت کا یہ تقاضا بنتا ہے کہ میں اعدادوشمار لے کر بیٹھ جاؤں

رہی پاک فوج کی تو یہاں میں کیسے اعدادوشمار کی گنتی میں پڑسکتا ہوں جب سامنے ایک محافظ میری خاطر تمام اعدادوشمار بالائے طاق رکھ کر قربان ہونے کو تیار رہتا ہو جب وہ اپنی جان کے بدلے کسی چیز کا اعدادوشمار نہیں کرتا تو میری غیرت کو بھی گوارا نہیں کہ حساب کتاب میں پڑوں

انوکھاسپاہی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here