پاک آرمی کی اینٹی ائیرکرافٹ گنز

0
455

“پاک آرمی کی اینٹی ائیرکرافٹ گنز”
اینٹی ائیرکرافٹ گنز کی تیاری جہازوں کے جنگ میں استعمال ہونے کے ساتھ ہی شروع ہو گئ تھی۔ان گنز کو جہازوں کے خلاف انتہائ مؤثر زمینی ہتھیار مانا جاتا تھا۔
جنگی نقطہ نظرسے یہ گنز زمینی دشمن پر بھی بھاری پڑتی تھیں۔ابتدائ طور پر ان گنز کو بحری جہازوں پر فضائ دفاع کے لیۓ استعمال کیا گیا بعد میں برابر میدان جنگ میں بھی ان کا وسیع استعمال کیا جانے لگا۔
یہ طیارہ شکن گنیں صرف نچلی پرواز کرتے جہازوں پر ہی وار کرتی تھیں۔جہاز جب حملہ کرنے کے لیے غوطہ کھاتا تب ان گنوں کے دھانے کھول دئیے جاتے تھے۔ان مشین گنوں کافائرنگ ریٹ زیادہ ہونے کے سبب حملہ آور جہاز کا بچنا بہت مشکل ہوتا تھا۔
پاکستان آرمی کی اینٹی ائیرکرافٹ گنوں نے 1965 میں بھارت کے 40 لڑاکا طیارے مار گرائے تھے۔لیکن میزائیلز ائیرڈفینس کے آنے کے بعد اس ہتھیار کی اہمیت بہت کم ہو گئ ۔
پاکستان نے ان گنوں کو ائیرڈفینس کی بجائے ٹینکوں اور مورچوں پر لگانے کو ترجیع دی تاکہ ان پر انحصار کم کیا جا سکے۔پاکستانی ٹینکوں کی 12.7mm سٹینڈرڈ مشین گن بیک وقت زمینی اور فضائ دشمن پر بھاری پڑتی ہے۔لیکن یہ گنیں ذیادہ بلندی تک وار نہیں کرتیں اس مسلئے کے حل کے لیے پاکستان نے 30mm اور 35mm کی جدید اورلینکن اینٹی ائیرکرافٹ گنز خریدیں جو کہ ٹوین بیرل گنز ہیں۔یہ گنز اب پاکستان نیوی اور پاکستان آرمی کو ایریل ائیرڈفینس مہیا کرتی ہیں۔پاکستان آرمی کی ہر یونٹ میں ائیرڈفینس یونٹ کے اہلکار ضرور ہوتے ہیں۔
بے شک پاکستان میزائیل ائیرڈفینس میں کافی ترقی کر چکا ہے لیکن کلوز ائیرڈفینس مہیا کرنے میں ان اینٹی ائیرکرافٹ گنز کی اہمیت کم نہیں ہو سکی اور آج بھی یہ گنز ہر آرمی مشق کا حصہ ہوتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here