پاکستان کی تمام فوجی تنصیبات کو ”پراسرار خود کش حملوں اور کمانڈو ایکشن “کانشانہ بناکر الزام القاعدہ اور طالبان کے سر منڈھ دیا گیا

0
1744

پاکستان اور امریکہ

ایک بحری جہاز سمندر میں اپنے سفرپر رواں دواں تھا مسافر بڑے اطمینان سے سفر کررہے تھے اچانک سمندرمیں طوفانی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں اور ایسی لہریں پیدا ہوئیں کہ جہاز کے ڈوبنے تک کا خطرہ پیدا ہوگیا ہر طرف چیخ وپکار پڑ گئی اور لوگ اپنی اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے اس گھبراہٹ اور افراتفری سے بے نیاز ایک مسافر ایک کونے میں حالت مراقبے میں بیٹھا ہواتھا اس نے ایک کمبل اُوڑھ رکھا تھا تمام مسافر اس کمبل پوش مسافرکے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہم ہلاکت کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں اور سخت طوفانی ہواﺅں سے جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اور آپ اطمینان سے سورہے ہیں اس کمبل پوش نے نظریں اُٹھا کر لوگوں کی طرف دیکھا اور پھر آسمان کی طرف چہرہ اُٹھاکے بولا
”اے اللہ ہم نے تیری قدرتِ کاملہ کو دیکھ لیا ہے اب اپنے فضل وکرم سے ہمیں معاف فرما “

اس مسافر کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ سمندر یک دم پرسکون ہوگیا اور ہوائیں چلنا بند ہو گئیں لوگ حیرت سے اس مسافر کو دیکھتے ہوئے واپس اپنی اپنی جگہ پر چلے گئے ۔

یہ مسافر کوئی عام شخصیت نہ تھی وہ خدا کے برگزیدہ ولی حضرت ابراہیم ادھمؒ ؒتھے ۔

امریکہ پاکستان کے سر پر اس طرح کھڑا تھا جس طرح کبھی عراق اور کبھی افغانستان کے سر پر آکھڑا ہوا تھا عراق اور افغانستان پر آتش وآہن کی برسات کرنے سے پہلے امریکہ بہادر نے اپنی سات آزادیوں کے نغمے گاتے ہوئے پوری عالمی برادری کو ان ممالک سے علیحدہ کیا تھا اور عالمی تنہائی کا شکار کرنے کے بعد ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایک بھیڑیا کسی معصوم بھیڑ کے ساتھ کرتا ہے امن کا دھوکا دے کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا تقریباً وہی گیم پلان لے کر میدان میں اترا

پاکستان کی تمام فوجی تنصیبات کو ”پراسرار خود کش حملوں اور کمانڈو ایکشن “کانشانہ بناکر الزام القاعدہ اور طالبان کے سر منڈھ دیا گیا امریکہ نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی تھی اور امریکی انتظامیہ پاکستان پر برس پڑی امریکی الزامات کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ پاکستانی افواج اور تمام خفیہ ادارے بالخصوص آئی ایس آئی طالبان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور پاکستانی قبائلی علاقہ جات سے جو مجاہدین افغانستان جاکر امریکہ سے لڑرہے ہیں اور امریکی افواج کے لیے دردسر بن چکے ہیں انہیں آئی ایس آئی تربیت دے رہی ہے

اور ان کی اکثریت کا تعلق ”حقانی نیٹ ورک “سے ہے حقانی نیٹ ورک بھی کسی دور میں امریکی محبتوں کا نشانہ ہوا کرتا تھا اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور امریکی صدر ریگن کی ملاقات وائٹ ہاﺅس میں ہوئی تھی جہاں انہیں انتہائی گرم جوشی کے ساتھ مہمان بنایا گیا تھا حقانی کی سربراہی میں اس نیٹ ورک کو افغانستان میں امریکی افواج کی شکست اور ہزیمت کا سبب قرار دیا جارہا امریکہ نے پاکستان پر واضح طور پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وزیر قبائل جن کی آدھی آبادی افغانستان اور آدھی آبادی پاکستانی قبائلی علاقہ جات میں رہتی ہے ان کی مکمل سرپرستی آئی ایس آئی کررہی ہے ۔

کئی کانگرس مین بھی اپنے فوجی قائدین اور وزیر خارجہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بولنا شروع ہوچکے تھے اور عالمی میڈیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے پروپیگنڈا وار شروع کردی گئی تھی

اس موقع پر پاکستان کے عظیم دوست ہمسایہ ملک چین نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ چین ہر مرحلے میں پاکستان کے ساتھ ایک چٹان بن کرکھڑا ہے ابھی تک پچاس سے زائد اسلامی ممالک میں سے کسی ایک ملک کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ پاکستان کے حق میں کسی قسم کی بات کرے ایک چپ کا سناٹا تمام اسلامی دنیا کو اپنی لیپٹ میں لیے ہوئے ہے ۔

یہ سمجھ نہیں آتا کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے جب واضح طور پر پوری امت کو بتا دیا ہے کہ یہود ونصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے تو اس کے باوجود ہمارے حکمران انہیں کی قدم بوسی کے لیے ہروقت مضطرب کیوں رہتے ہیں بقول شاعر
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطارکے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

یہ بات طے ہے کہ احادیث کی کتب میں جس غزوہءہند کی خبر دی گئی تھی اس نے ایک دن برپا ہونا ہے ،دجال کا ظہور بھی ہوکر رہے گا اور امام مہدی بھی دنیا پر تشریف لاکر مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے کفارکو شکست دیں گے کاش رسول پاک ﷺکی احادیث مبارکہ میں دی گئی ان خبروں کا یقین ہمارے حکمران طبقے اور نام نہاد ترقی پسند پالیسی سازوں کو بھی آجائے اور وہ مغرب کی تقلید سے نکل کر اپنی اساس اوربنیاد قرآن وسنت سے اپنا رشتہ مضبوط کریں امریکہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ دن گزرگئے کہ جب پاکستانیوں کو ایک ٹشو پیپر کی طرح جب چاہے استعمال کرکے وہ ڈسٹ بن میں پھینک دیتا تھا آج امریکہ کا قبرستان اسے آواز دے رہا ہے اور وہ طاقت کے نشے میں پاکستان پر چڑھ دوڑنے کے خواب دیکھ رہا ہے امریکہ کسی بھول میں ہے اور بقول غالب ہم انتا کہیں گے ۔

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
کیوں گردش ِمدام سے گھبرانہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ وساغر نہیں ہوں میں
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگارہوں کافر نہیں ہوں میں

امریکہ باز آجائے اور کسی بھی قسم کی جارحیت سے پرہیز کرے ورنہ پاکستان تو انشاءاللہ ہمیشہ دنیا کے نقشے پر قائم رہنے کے لیے بنا ہے امریکہ کا وجود خطرے میں پڑجائے گا ۔

آخر میں لطیفہ پیش خدمت ہے
مالک نے گھر کے ملازم کو روتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کیا ہوا کیوں رو رہے ہو
ملازم نے کہا کہ بیگم صاحبہ نے مارا ہے
مالک ”لو یہ بھی کوئی رونے کی بات ہے تم نے مجھے کبھی روتے ہوئے دیکھا ہے ۔۔۔؟“

امریکہ ماضی کے قصے بھول جائے اب پاکستان بھی سمجھدار ہوچکا ہے پاکستان کو برخوردار سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here