پاکستان کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں چین جنگ وامن ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے

0
354

پاک چین دوستی اصل کیا !!!۔

کہا جاتا ہے یہ ہمالیہ سے بلند ہے سمندروں سے گہری ہے۔
کوٸی شک نہیں، بلکل ایسا ہی ہے۔

پاکستان کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں چین جنگ وامن ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

پاکستان کو معاشی لحاظ سے اگر بلیک لسٹ (جس سے ہر قسم کی سرمایہ کاری رک کر ملک دیوالیہ ہوجاتا ہے) نہیں ہونے دیتا تو یہ چین کی کوشش ہے۔

پاکستان کو دہشتگرد ریاست کے طور پہ نہیں رکھا جاتا تو اس کے لیے بھی چین کی کوشش ہے۔

پاکستان کے حافظ سعید صاحب اور مسعود اظہر صاحب جیسے لوگوں کو عالمی دہشتگرد کے طور پہ پابندی نہیں لگنے دیتا تو یہ چین ہے۔

دنیا سے کوٸی بھی آواز پاکستان کے خلاف اٹھتی ہے پاکستانی بیانیے کے خلاف کوٸی پاپندی لگتی ہے تو چین قرار داد ویٹو کرکے رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے۔

بری بحری اور فضاٸی طاقت بھی ہم چین کی مدد سے بنے ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا اپنے جہاز بنا کر ہمیں بیچنا چاہتی ہے جبکہ چین ہمیں جہاز بنانا سکھا رہا ہے۔

فصلوں پودوں تک کے نٸے تجربات چین سے حأصل کیے جارہے ہیں۔
ہمارے نوجوان چین سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
غرض زندگی کا کوٸی شعبہ ایسا نہیں جہاں چین کا تعاون ہمارے ملک میں نہ ہو۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ہم چین کو گرم پانیوں تک رساٸی دے رہے ہیں۔ جس سے بڑے پیمانے پہ ملک میں سڑکیں تعميرات اور گوادر پہ بہترین سی پورٹ اور بھاری تجارت ہوگی۔

تقریبا پچاس ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری چین اور پاکستان کو نہایت قریب لےآٸی۔

یہاں سے کچھ پاکستانیوں کو خطرہ لاحق ہونا شروع ہوا ہے کہ اتنا اندر ایک کونے سے دوسرے کونے تک کسی اور ملک کو کیوں اندر جانے دیا جا رہا ہے ؟؟؟
اگر انہوں نے نقب لگا دی تو ؟؟؟

جی بلکل ۔
جب آپ کمزور ہوں اتنے کمزور ہوں کہ سب کچھ داو پہ لگا ہو تو إسا سوچنا بجا ہے۔
پاکستانيوں کا یہ ردعمل غیر فطری یا غیراخلاقی نہیں۔
ہمیں پورا حق ہے اپنے بارے سوچنے کا اپنی دھرتی کی حفاظت کا۔

سی پیک منصوبے کے تحت چینی بڑی تعداد میں پاکستان میں رہتے ہیں۔ یہ بھی باز گشت ہے کہ یہاں زمینیں الاٹ یا خرید رہے ہیں۔

کوٸی بھی زمہ دار ریاست اپنے مفاد کو سب سے پہلے دیکھتی ہے اسکے بعد ہی دوستی نبھاتی ہے کوٸی بھی غیرت مند قوم اپنے مفاد پہ سمجھوتہ نہیں کرتی۔

سی پیک منصوبے کا آغاز زرداری صاحب دور میں ہوا جب زرداری صاحب ہر تین ماہ بعد چین کا دورہ کرتے اور انکو اس منصوبے کے لیے راضی کرتے
آخر چین مان گیا اور منصوبہ شروع ہوگیا۔
وہ کن شراٸط پہ مانے واللہ عالم

لیکن پھر پاکستان میں بڑے پیمانے پہ چینی مصنوعات آگٸی۔ کپڑے جوتے بچوں کے کھلونے وغیرہ سب چین سے درامد ہونے لگے۔
ایسا کرنے سے پاکستانی پروڈکٹ کی مارکیٹ ریلیو کم ہوگٸی جیسے ایک ناٸیلون کا جوتا پاکستان میں 80 روپے میں تیار ہوتا ہے وہی جوتا چین سے 60 روپے کا پڑ رہا ہے۔نتیجا مقامی انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے۔ نامناسب توجہ نے ہمارے انڈسٹریلسٹ کو سخت پریشان کر دیا۔

موجودہ حکومت کو سی پیک منصوبہ اور پاکستانی صنعتکار کے مساٸل پہ ازسرنو غور کرنا ہوگا۔

ہمیں چین کے سی پیک کی نگرانی کے لیے گاڈ ہی نہیں بننا بلکہ ہمیں آگے بڑھ کر اپنے انجينئرز کو اس سے متعلقہ شعبہ جات میں داخل کرنا ہے۔

زمین چینیوں یا کسی بھی غیر ملکی کو بیچنے کے خلاف قانون بنانا ہوگا۔

چین دوست ہے لیکن وہ پہلے اپنے مفاد دیکھتا ہے۔ ہمیں اس معاملے میں بھی ان سے سیکھنا ہوگا۔

دنیا میں دو نظام ہیں ایک غریب کا اور دوسرا امیر کا۔
غریب آخر تک نبھاتا رہتا ہے امیر رستے میں بھی چھوڑ سکتا ہے۔

تاہم چین یا چینیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا بلکل نامناسب ہوگا ہمیں یہ اپیل حکومت پاکستان سے کرنی ہے۔
توجہ توجہ توجہ۔
Maheen Rao

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here