پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غرض سے 1965ء میں رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے حملہ آور ہوا۔

0
1056

بھارت جس سے ہماری سب سے طویل سرحد ملتی ہے وہ واحد ملک ہے جس سے ہمارے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھارت کا پاکستان کو دل سے قبول نہ کرنا ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا کوئی بھی ہمسایہ اس سے خوش نہیں۔ دفاعی طور پر کمزور اور چھوٹے ممالک مثلا مالدیپ، سری لنکا، بھوٹان اور یہاں تک کہ نیپال جو کہ بھارت کے علاوہ دنیا کی واحد ہندو ریاست ہے وہ بھی اس کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن اور پھر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ بعد میں پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غرض سے 1965ء میں رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے حملہ آور ہوا۔ 1971ء میں مکتی باہنی کے بھیس میں فوج بھیج کر ہمارا مشرقی حصہ ملک سے الگ کر دیا۔ ’’گوا‘‘ جیسے چھوٹے اور کمزور ملک پر فوجی کشی کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور 80ء کی دہائی میں سری لنکا میں فوج بھیج دی۔ یہ تمام واقعات بھارتی جارحانہ اور توسیع پسندانہ روش کے ان مٹ ثبوت ہیں۔ بھارت کا یہ غیردوستانہ اور ہمسایہ دشمن رویہ اس کی صدیوں پرانی تاریخ کا حصہ ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام کے بعد ہندو آبادی اور نووارد مسلمانوں میں ایک کشمکش نے جنم لیا کیونکہ مسلمان ہمیشہ اقلیت میں رہے۔ اس لئے ان کو ہر لمحہ ہندومت میں جذب ہونے کا خطرہ لاحق رہا کیونکہ ہندو ’’کالی ماتا‘‘ کے پجاری ہیں جو کہ بقول ان کے دوسرے مذاہب کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ مشہور ہندو شاعر ٹیگور نے اپنی نظم میں کہا کہ ’’انسانوں کا ایک سیلاب جس میں چینی، آرین، غیرآرین، ہن، پٹھان، ویڈین اور مغل تھے وہ سب ہندوستان میں اپنی انفرادیت کھو کر شیروشکر ہو گئے۔ اس وجہ سے مسلمان ہمیشہ مشکلات میں گھرے رہے۔

علاوہ ازیں ہندوئوں نے بڑی چالاکی سے بھگتی، شدھی اور سنگھاتھن تحریکوں کے ذریعے عیسائی اور مسلمانوں کو ہندومت میں ضم کرنے کی سرتوڑ کوششیں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ ہندو چاہتے تھے کہ مسلمان بھارت میں صرف ہندوئوں کے محکوم اور غلام بن کر ہی زندگی گزاریں۔ مسلمانوں نے اس نظریے کو سختی سے رد کر دیا قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک الگ ملک کی جدوجہد کی اور بے انتہا قربانیوں کے بعد اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن ہندو نے آج تک پاکستان کو دل سے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔

بھارت پاکستان کیخلاف اپنی توسیع پسندانہ پالیسیاں کیوں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں وہ پاکستان کیخلاف تین دفعہ جارحیت کا ارتکاب بھی کر چکا ہے۔ اسکی پہلی وجہ ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا کیونکہ وہ ابھی تک ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا خواب دیکھ رہا ہے اور یہی اسکا اہم ’’دو لفظی ایجنڈہ‘‘ ہے۔

دوسری طرف بھارت کی اس خطے میں برتری کی خواہش میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سلسلے میں ہندو لیڈروں کی پاکستان کو ختم کرنے کی خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پاکستان بننے کے بعد نہرو نے ایک بیان میں کہا کہ ’’پاکستان جغرافیائی، سیاسی معاشی اور عسکری لحاظ سے ناکام ریاست ہے اور جلد یا دیر واپس ہم سے مجبوراً آ ملے گا۔‘‘

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھارت کی تمام تر کوششیں اس ملک کو مٹانے پر مرکوز ہیں۔ آزادی کے وقت پاکستان عسکری اور معاشی طور پر بے حد کمزور تھا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ اور بعد میں کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ 1965ء میں پہلے ’’رن آف کچھ‘‘ پر قبضہ کر لیا اور بعد میں بغیر اعلان جنگ پاکستان پر لشکر کشی کر دی۔ 1971ء میں مکتی باہنی کے بھینس میں فوج بھیج کر پاکستان کا ایک حصہ الگ کر دیا۔ 1980ء کی دہائی میں سیاچن کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریائوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو ریگستان بنانے کی منصوبے پر تیز یسے کام کر رہا

۔ 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کیا اور جنوب مشرقی ایشیاء میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر کے پورے علاقے کے امن کو خطرے سے لاحق کر دیا۔ اب ملک میں بڑے پیمانے پر بھوک اور افلاس کے باوجود اربوں روپے کا اسلحہ اور گولہ بارود خرید کر پورے خطے میں طاقت کا تواز ن مکمل طور پر تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ تمام جنگی تیاریاں ظاہر ہے‘ پاکستان کیخلاف کی جا رہی ہیں۔

ادھر افغانستان میں اپنے متعدد قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے اور ان تخریب کاروں کو پیسہ اور اسلحہ بارود مہیا کرتا ہے۔ اصل میں بھارتی لیڈر ہندو برہمن چانکیہ کی کتاب ’’اردھ شاستر‘‘ کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہیں اور ہمارے عوام میں گروہ بندی کے ذریعے ان کو آپس میں لڑوا کر اور افواہیں پھیلا کر بددلی پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ پاکستانیوں کو گمراہ کریں اور آپس میں متنفر کر کے انتشار کا فائدہ اٹھائیں۔

دوسری طرف بھارت میں دہشت گرد جماعتیں زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کیخلاف نفرت کو ہوا دیکر بھارتی عوام کو جذباتی طور پر انتہائی اقدام کیلئے تیار کر رہی ہیں وہ عوام کو یقین دلانے کی کوشش میں ہیں کہ ملک کو شمال سے جارحیت کا مسلسل خطرہ لاحق ہے اور پاکستان بھارت کو ٹکڑے کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ نیز پاکستان کی طرف سے بھارت کی نظریاتی بقاء اور ہندو مت کو خطرہ لاحق ہے۔ اسکے علاوہ علاقے میں بھارت کی بالادستی کے حصول میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے زیر کرنا ضروری ہے اور ویدک ’’شان و شوکت‘‘ کے دوبارہ حصول کی خاطر تمام رکاوٹوں کو دور کرنا جس میں مضبوط پاکستان سرفہرست ہے۔

۔ 1971ء میں ہماری ناقص سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے عوام کی تائید اور حمایت حاصل نہ ہو سکی تو ہم اپنے ملک کا آدھا حصہ گنوا بیٹھے۔

بدقسمتی سے کئی سال گزر جانے اور ملک کے مشرقی حصے سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے باوجود ملک میں قومی یکجہتی اور اتحاد کا فقدان ہے اور ہم بلوچی سندھی، پنجابی، پٹھان، اور مہاجر زیادہ اور پاکستانی کم ہیں۔ یہ اندرونی خلفشار ہماری سب سے بڑی قومی کمزوری اور خامی ہے۔ حکومتی سطح پر اسکا گہرائی میں تجزیہ اور اسکا سدباب بے انتہا ضروری ہے کیونکہ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اور ہمارا ازلی دشمن دن بدن اپنے آپکو تباہ کن ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here