پاکستان کو سفارتی محاذ پر ناقابل تلافی نقصانات

0
21
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دس سالوں میں نواز اور زرداری نے خارجہ محاذ پر پاکستان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ کیجیے۔

قومی بیانیہ:

پاکستان کے قومی بیانیے کو دونوں سابق حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے جوتے کی نوک پر رکھا۔ اس کی ایک مثال دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا بیانیہ ہے۔

دہشت گردی سے متعلق ہمارا قومی بیانیہ یہ ہے کہ ۔۔ ” ہم دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں”, ” اور انڈیا افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کروا ہے ” لیکن اس بیانیے پر نہ صرف یہ کہ زرداری اور نواز شریف یقین نہیں رکھتے بلکہ دونوں اس کے متضاد بیانیے بھی جاری کر چکے ہیں۔

” بمبئی حملوں میں پاکستان ملوث ہے”
” پاکستان سے دہشت گرد کس کی اجازت سے انڈیا دہشت گردی کرنے گئے تھے” وغیرہ وغیرہ, اس قسم کے بیانات پاکستان کے دونوں بڑے لیڈر وقتاً فوقتاً جاری کرتے رہے ہیں۔ دونوں کے مقرر کردہ سفیر اور وزیر بھی اسی پاکستان مخالف بیانیے کو لے کر چلے مثلاً ۔۔

آصف زرداری کے امریکہ کے لیے مقرر کردہ پاکستانی سفیر حسین حقانی صاحب آج تک پاکستان کو دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دے رہے ہیں۔ نواز شریف کے آخری دنوں میں مقرر کردہ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ میں بیٹھ کر بیان جاری فرمایا کہ ” ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے” اور ” حافظ سعید پاکستان سے باہر دہشت گردی کرتا رہا ہے” ۔ یہ بیان موصوف نے تب جاری کیا جب پاکستان کا سپاہ سالار دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ ” ہم اپنا گھر صاف کر چکے اور دوسروں کی باری ہے “

اور تو اور نواز اور زرداری کے اتحادیوں کا بھی یہی بیانیہ ہے۔ مثلاً جے یو آئی کے مولانا شیرانی اور بلوچستان کے محمود اچکزئی پاکستان پر مسلسل یہ الزام لگاتے رہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے اور پاک فوج نے گڈ طالبان پال رکھے ہیں۔

اس معاملے میں آصف زرداری سے نواز شریف زیادہ خطرناک ثابت ہوئے جس نے بدنام زمانہ باقاعدہ ڈان لیکس کے ذریعے پوری دنیا کے سامنے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کی کوشش کی۔ لیکن اسکا بھانڈہ بیچ چوراہے پر پھوٹ گیا۔ اس پاکستان دشمن بیانیے نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان دیا جس کا کچھ تذکرہ آگے آئے گا۔

کشمیر:

سفارتی محاذ پر پاکستان کا اہم ترین مقدمہ کشمیر ہے۔ ان دس سالوں میں کشمیر کی تاریخ میں کشمیریوں پر سب سے زیادہ ظلم کیا گیا حتی کہ ان کو شکار کرنے والی پیلٹ گنوں سے شکار کیا گیا لیکن ہمارے دونوں بڑے لیڈر خاموش رہے۔ جواباً کشمیریوں کی مزاحمت بھی اپنے عروج پر ہے لیکن پاکستان کی سابقہ دونوں حکومتوں نے کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد نہ کی۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کو اپنے متنازع مسائل کی فہرست سے نکال دیا ہمارے دونوں لیڈر خاموش رہے۔

کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں ہندوؤں کو آباد کیا گیا تاکہ وہاں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے اس پر بھی ہمارے دونوں لیڈر خاموش رہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ انڈیا جانے والے پاکستانی وفود نے حریت لیڈروں سے ملاقاتیں تک نہیں کیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے نواز شریف کے اشارے پر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق تک کو چیلنج کر دیا۔

کشمیر کے لیے اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز حافظ سعید کو نواز شریف کے مقرر کردہ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے امریکہ میں بیٹھ کر دہشت گرد قرار دے دیا۔ انڈیا نے کشن گنگا ڈیم بنا کر کشمیر کی مشہور وادی نیلم کو خشک کرنے کی تیاری کر لی۔ نواز شریف نے نیلم جہلم ڈیم پر کھڑے ہوکر کہا کہ ” ہم انڈیا سے بجلی خریدیں گے” اور کشمیریوں کے دلوں پر چھریاں چلا دیں۔

زرداری اور نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن جیسے منافق شخص کو مسلسل کشمیر کمیٹی کا چیرمین بنائے رکھا جو آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار کہتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو علاقائی تنازع قرار دیتا ہے۔ موصوف نے کشمیر کے سلسلے میں پاکستان سے باہر تو کیا پاکستان کے اندر بھی کسی فورم پر کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

ان دس سالوں میں انڈیا کے لیے پاکستان نے سفارتی محاذ جس طرح خالی چھوڑا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک طرف نریندر مودی نے اعلان کی کہ ہم پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دینگے اور دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف طوفانی دورے شروع کر دئیے تو جواباً وزریراعظم پاکستان نواز شریف نے چار سال تک پاکستان کا وزیرخارجہ تک مقرر نہ کیا۔ ان دس سالوں میں دنیا کے اہم ترین ممالک سے پاکستان کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہوئے جس کا مختصر مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

امریکہ:

زرداری نے حسین حقانی کے ساتھ ملکر پاکستان کے خلاف میمو لکھا جس میں پاکستان کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پاک فوج کے خلاف امریکہ سے مدد مانگی گئی۔ 
جس کے بعد امریکہ نے پاکستان کو دہشت گرد قرار دینا شروع کیا۔ مشرف کے دور میں پاکستان میں کل چار ڈرون حملے ہوئے۔ زرداری و نواز شریف کے دونوں ادوار میں ڈرون حملوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی۔

امریکہ پاکستان کی امداد معطل کر دی گئی۔ 
امریکہ نے حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ پاکستان کے جہاز روک لیے۔ایبٹ آباد میں پاکستان کی اجازت کے بغیر آپریشن کیا۔ پاکستانی سفیروں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات جتنے آج خراب ہیں اتنے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے۔ اور اسی دوران نواز شریف اور زرداری کے مقرر کردہ پاکستانی سفیر امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہے۔

انڈیا:

ممبئی حملوں کا ذمہ دار انڈیا نے پاکستان کو قرار دیا جس کو فوری طور پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے نہ صرف قبول کر لیا بلکہ پیپلز پارٹی نے تفتیش کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی کو انڈیا کےحوالے کرنے کا بھی اعلان کیا۔ 
انڈیا نے ایل او سی پر جتنے حملے گزشتہ پانچ سالوں میں کیے ہیں اتنے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیے۔

پاکستان نے انڈیا کا حاضر سروس آفیسر پکڑ لیا جس کو دنیا نے جدید اینٹلی جنس کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ لیکن نواز شریف اور زرداری کے منہ سے کلبھوش کا نام تک نہ نکلا۔ حالانکہ کل بھوشن کے معاملے میں پاکستان پوری دنیا کے سامنے انڈیا کو ننگا کر سکتا تھا۔ دونوں نے پاکستان کی اس عظیم کامیابی کو کیش نہیں ہونے دیا۔

ٹی ٹی پی کے کمانڈر احسان اللہ احسان نے پاکستان کے خلاف انڈیا اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کا پول کھولا تو بجائے اس کا ڈھنڈورا   پیٹنے کے نواز شریف حکومت نے احسان اللہ احسان کے انٹرویوز پر پابندی لگوا دی۔ تمام سائنسی اور قانونی حقائق پاکستان کے حق میں ہونے کے باؤجود پاکستان انڈیا سے کشن گنگا ڈیم کا کیس ہار گیا۔

نواز شریف حکومت نے کل بھوشن کا کیس عالمی عدالت میں لے جانے کے لیے انڈیا کی معاؤنت کی۔ جس کے بعد عالمی عدالت نے کل بھوشن کی سزائے موت روک دی۔ حالانکہ پاکستان عالمی عدالت کی ثالثی سے انکار کرسکتا تھا۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں نے انڈیا کی پاکستان خاص کر بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشت گردی کے بے شوار شواہد دونوں حکمرانوں کو پیش کیے لیکن کوئی ایک بھی عالمی محاذ پر پاکستان کا کیس لڑنے پر تیار نہ ہوا۔

افغانستان:

افغانستان نے کئی عشروں کے بعد چمن اور تورخم بارڈر پر پاکستان پر باقاعدہ حملے کیے لیکن مجال ہے جو ان دونوں بڑوں کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ پاکستان میں پکڑے جانے والے تمام دہشت گرد کے روابط افغانستان سے ثابت ہوتے رہے لیکن زرداری اور نواز میں سے کسی ایک نے اس معاملے پر افغانستان سے بات نہیں کی۔

انڈیا نے پیپلز پارٹی کے دور میں افغانستان میں دریائے کابل پر 12 ڈیم بنوانے شروع کیے تاکہ پاکستان کے صوبے کے پی کو کو خشک کیا جا سکے اس پر بھی یہ دونوں خاموش رہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے ان دونوں نے کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کی نہ ہی کبھی افغان طالبان سے بات کرنے کی کوئی کوشش کی۔

ایران:

مشرف کے شروع کرائے گئے پاک ایران انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے کو انہوں نے بند کروا کر پاکستان کو ایک سٹریٹیجک برتری دلوانے کا سنہری موقع ضائع کروا دیا۔

انڈیا نے ایران کے ساتھ ملکر چاہ بہار بندرگاہ مکمل کر لی تاکہ سی پیک کو روکا جا سکے لیکن انہوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ چاہتے تو ایران کو سی پیک سے ملا کر انڈیا کو چاہ بہار سے دور رکھ سکتے تھے, اسی دور میں انڈیا نے ایران کے راستے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ آدھی تجارت ہتھیا لی اور کم از کم پاکستان کو کم از کم سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان دیا۔ ایران نے اپنی تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں حملے کرنے کی دھمکی دی۔

سعودی عرب:

مختصراً اتنا کہونگا کہ اگر راحیل شریف سعودی عرب نہ جاتا تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مکمل طور پر پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے۔

ترکی:

ترکی میں کبھی بھی پاکستان کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ نواز شریف نے احمقانہ انداز میں فتح اللہ گولن کے حامیوں کو پاکستان سے زبردستی نکال کر پہلی بار ترکی میں پاکستان کے دشمن پیدا کر لیے۔ اگر پاک فوج محض اپنے بل پر روس، چین، سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات نہ بڑھاتی تو انہوں نے پاکستان کو تنہا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

اگر ان دس سالوں کو سفارتی محاذ پر پاکستان کے بدترین دس سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا جس میں پاکستان کو سفارتی محاذ پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here