پاکستان کا وجود، نیوکلیر ہتھیار اور افغان و کشمیر مجاہدین سب اپنی جگہ پر ہیں

0
436

پاک آرمی پر تنقید حیران کن ہے ۔

پاک آرمی اس وقت اسلام اور پاکستان کے دفاع کے لیے چومکھی جنگ لڑی رہی ہے ۔ جس میں طاقت کا توازن بہت بری طرح سے انکے خلاف ہے اور بیک وقت امریکہ ، انڈیا ، اسرائیل ، یورپی یونین، روس حتی کہ کچھ دوست اسلامی ممالک بھی پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔

صورت حال یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔

پاکستان کی میڈیا، عدلیہ، پارلیمنٹ اور علمائے کرام کے ایک بڑے طبقے نے پاک آرمی کے خلاف نظریاتی جنگ شروع کر رکھی ہے اور وہ دن رات عوام کو پاک فوج کے خلاف مسلسل اکساتے رہتے ہیں ۔

پاکستان کے اندر کچھ لوگوں کو بہکا کر پاک فوج کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کی گئی ہے جس میں پاک فوج اب تک اتنی شہادتیں دے چکی ہے جو انڈیا کے ساتھ لڑی جانے والی پچھلی چاروں جنگوں سے زیادہ ہیں ۔ ملک کے اندر لڑی جانے والی اس جنگ میں فوج کی اتنی بڑی تعداد مصروف ہے کہ سرحدوں پر فوجوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے ۔ اس اعصاب شکن جنگ میں نہ صرف فوج ذہنی طور پر تھک چکی ہے بلکہ بہت سا جنگی سازوسامان بھی بے کار ہو چکا ہے ۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انڈیا اپنی کولڈ سٹارٹ ڈکٹرائین کے تحت 9 لاکھ فوج کو راجھستان میں سندھ کی طرف حرکت دے رہا ہے جن کے مقابلے کے لیے ہماری صرف دو لاکھ فوج دستیاب ہوگی ۔ افغاستان میں افغان نیشنل آرمی تیار کی گئی ہے جو باقاعدہ جنگ کی صورت میں بلوچستان اور شمالی علاقوں میں پیش قدمی کرے گی ۔ امریکہ اپنے بحری بیڑوں کو حرکت دے رہا ہے اور افغانستان میں موجود اڈوں کو مستحکم کر رہا ہے ۔

پاکستان کے خلاف انکی سرگرمی کا یہ حال ہے کہ صرف نیوکلیر ہتھیاروں کی جاسوسی کے لیے امریکہ 23 بلین ڈالر سالانہ پاکستان کے خلاف خرچ کرتا ہے ۔

آئی ایس آئی کو بیک وقت سی آئی اے ، را ، موساد، خاد اور کے جی بی سے جاسوسی جنگ درپیش ہے ۔ جنکی تعداد اور وسائل آئی ایس آئی کے مقابلے میں اتنے زیادہ ہیں کہ یقین نہیں آتا ۔

انکی مدد کے لیے شکیل آفریدی جیسے غدار تیار بیٹھے ہیں ۔

یہ جنگ صرف قربانیاں دے کر ہی جیتی جا سکتی ہے ۔ لیکن یہاں حالت یہ ہے کہ جب کوئی چوٹ لگتی ہے تو بہت سے زنخے کسی حاملہ بکری کی طرح ممیانے لگتے ہیں ۔

اپنے آرام دہ گھروں میں ، نرم گرم بستروں پر بیٹھ کر محاذ جنگ سے ہزاروں میل دور یہ صرف اندازروں کے تیز چلاتے ہیں اور سوچے سمجھتے بغیر بے رحم او ظالمانہ تنقید کرتے ہیں ۔

یہ ایک اتنی موٹی سی بات بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ پاک فوج نے اس بدترین جنگی صورت حال میں بھی بے پناہ قربانیاں دے کر ایک ناقابل یقین کارنامہ سرانجام دے لیا ہے ۔

وہ یہ کہ امریکہ اور اسکے سارے اتحادی بمع انڈیا کے اپنے گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹوز میں سے اب تک ایک بھی حاصل نہیں کر سکیں ہیں ۔

پاکستان کا وجود، نیوکلیر ہتھیار اور افغان و کشمیر مجاہدین سب اپنی جگہ پر ہیں ۔ پاک فوج ہی واحد رکاؤٹ ہے ۔ امریکہ کے خلاف مجاہدین کی امداد کا اب بچے بچے کو پتہ ہے !

یاد رکھیں اگر دشمن کا ایک حملہ کامیاب ہوتا ہے تو دس ناکام بھی کیے جاتے ہیں جنکا ہمیں کبھی پتہ نہیں چلتا ۔ یہ جنگ ہے اس میں چوٹیں تو لگیں گی ۔ ان چوٹوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دشمن کی اطاعت قبول کر لی جائے ۔ نہیں تو قربانی دینی ہوگی جب تک فتح حاصل نہ ہو ۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here