پاکستان پر ممکنہ معاشی پابندیاں ۔۔۔ ؟

0
1167

پاکستان پر ممکنہ معاشی پابندیاں ۔۔۔ ؟

امریکہ پاکستان پر اقوام متحدہ کے ذریعے کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگا سکتا۔ چین پاکستان کے خلاف پیش کی جانے والی ہر قسم کی قرار داد کو ویٹو کر دے گا۔ 

امریکہ صرف وہ کر سکتا ہے جو اس کے بس میں ہے مثلاً ۔۔۔ 

پاکستان کو دی جانے والا 500 ملین ڈالر کی سالانہ امداد روک سکتا ہے۔ پاکستان کا کل بجٹ 50،000 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ اس میں یہ امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

4790 ملین ڈالر کی کرپشن تو اکیلے ڈاکٹر عاصم کر لیتا ہے اور پاکستانیوں کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔ 

پاکستان کی امریکہ کے ساتھ کل تجارت محض 6 فیصد ہے۔ یہ بند ہونے سے بھی قطعاً کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہاں یورپ کے ساتھ پاکستان اپنی کل تجارت کا 13 فیصد کرتا ہے۔ اگر امریکہ یورپ کو بھی مجبور کرتا ہے تو پاکستان اپنی کل 20 فیصد تجارت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

لیکن پاکستان یہ کسر روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کر کے کسی حد تک پوری کر سکتا ہے۔

پاکستان میں کل بیرونی سرمایہ کاری بمشکل 1000 ملین ڈالر سے اوپر ہے جس میں بہت تھوڑا سا حصہ ان ممالک کا جو امریکی اثررسوخ پر اپنا سرمایہ پاکستان سے نکال سکتے ہیں۔ لیکن جواباً چین پاکستان میں 55000 ملین ڈالر کا سرمایہ لا رہا ہے اس لیے اس سے بھی پاکستان کو فرق نہیں پڑنے والا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ 18000 ملین ڈالر کے قریب رقوم پاکستان بھیجتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 5000 ملین ڈالر کے مساوی رقوم امریکہ یا ان ممالک سے آتی ہیں جو امریکی دباؤ پر ان رقوم پر پابندی لگوا سکتےہیں۔

تو عرض یہ ہے کہ پاکستانی یہ رقوم اپنی فیملیز کو بھیجتے ہیں۔ امریکہ و یورپ میں مقیم 30 لاکھ کے قریب ان پاکستانیوں کو رقوم بھیجنے سے روکنا آسان نہیں ہوگا۔ نہ صرف انکی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ یہ پاکستانی رقوم بھیجنے کے دوسرے راستے ڈھونڈ نکالیں گے جن میں ہنڈی اور خلیجی ممالک کے ذریعے بھیجنا شامل ہے۔

اگر امریکہ پاکستان پر ہتھیار خریدنے کی پابندی لگاتا ہے تو پاکستان یہ ضرورت بھی چین اور روس سے پوری کر سکتا ہیں۔ کم از کم روس امریکہ کی طرح پاکستان کے پیسے نہیں کھائے گا۔ بھاری مشینیں بھی ان ممالک سے خریدی جا سکتی ہیں۔

امریکہ پاکستان کے فارن ریزروز فریز کر سکتا ہے جس کے جواب میں پاکستان قرضوں کی ادائیگی سے انکار کر سکتا ہے۔ ویسے بھی پاکستان سود کی شکل میں ان قرضوں سے کئی گنا زائد رقم ادا کر چکا ہے۔
یہ کام کچھ عرصہ پہلے برازیل نے بھی کیا تھا اور یہ ناممکن نہیں۔

پاکستان کی معیشت کو اصل خطرہ پاکستان میں موجودہ جمہوریت سے ہے جو پاکستان پر لگنے والی معاشی پابندیوں سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔

جس وقت نواز شریف کو اقتدار ملا پاکستان کا کل تجاری خسارہ تقریباً 20 ارب ڈالر تھا جو ان چار سالوں میں بتدریج بڑھ کر 30 ارب ڈالر ہو چکا ہے جو اتنا خوفناک ہے کہ صرف تین سے چار میں پاکستان کا معاشی دیوالیہ نکال سکتا ہے۔ امریکہ کو پاکستان پر کوئی پابندی لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

تجربہ کار وزیراعظم کی “کامیاب معاشی پالیسیوں” کے نیتجے میں پاکستان کی برآمدات میں ریکارڈ کمی اور درآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس نے یہ صورتحال پیدا کی ہے۔

اگر فوراً اور جنگی بنیادوں پر اس سے نمٹنے کے لے اقدامات نہیں کیے گئے تو بہت دیر ہوجائیگی!
آخر یہ 30 ارب ڈالر کا خسارہ پورا کہاں سے ہوگا۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

اب ایک آخری بات ۔۔۔

پاکستان نے امریکہ پر نہیں بلکہ امریکہ نے پاکستان پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
اس پر پاکستان کا ایک ممکنہ جوابی لائحہ عمل لکھا تو کچھ لوگ حاملہ بکری کی طرح ممیانے لگے کہ ” پہلے اپنی معیشت دیکھو پھر بات کرو” ۔۔

جناب دشمن جب حملہ کرتا ہے تو آپ کی معیشت بہتر ہونے کا انتظار نہیں کرتا۔ آپ جس حال میں ہیں اسی میں جواب دینا ہوتا ہے۔۔۔۔ آئی سمجھ ؟؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here