پاکستان میں ہر سیاسی جماعت کا صرف ایک نظریہ ہے اور وہ ہے اقتدار کا حصول

0
256
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ہر سیاسی جماعت کا صرف ایک نظریہ ہے اور وہ ہے اقتدار کا حصول۔ عوام اور قوم کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ اس ملک کی سیاسی اشرافیہ عوام اور قوم کی سب سے بڑی دشمن ہےبغیر احتساب کے وہی چہرے دوبارہ ہم پہ مسلط ہونگےملکی خزانے میں 300 ارب کی نقب لگا کے اپنا خزانہ بھرنے والے نوازشریف بار بار میڈیا میں بیان دیتے ہیں کہ الیکشن میں ایک دن تو کیا ایک گھنٹے کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے

اس کی وجہ سے بھی آپ لوگ بخوبی واقف ہو گے 25جولائی 2018ء کو ہونے والے انتخابات سے قبل اگر میاں نواز شریف کو بدعنوانی میں سزا ہوجاتی ہے تو ان کی مقبولیت کا گراف اور بھی نیچے آجائے گا لہٰذا میاں نواز شریف کی خواہش ہے کہ ان کے خلاف عدالتی فیصلہ انتخابات کے بعد آئے اور انتخابات میں تاخیر بالکل نا ہو

جبکہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے اسی فیصلے کو بہانہ بنا کر میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنا وکالت نامہ واپس لیا یقینایہ وکالت نامہ میاں نواز شریف کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہی واپس لیا گیا تھا میاں نواز شریف کی منصوبہ بندی ہے کہ ان کے خلاف فیصلے کو موخر کیا جائے اس لیے وہ ہر طرح کے حربے ازمائیں گے چیف جسٹس کی جانب سے 19 جون تک نیا وکیل مقرر کرنے کی تاریخ دی گئ

جس کے بعد آج
ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے اج جہانگیر جدون نے وکالت نامہ داخل کرا دیا ہے لیکن قوی امکان ہے کہ تاخیری حربے کے تحت اب جہانگیر جدون کیس سٹڈی کے لیے تاریخ پر تاریخ لے گا نئے سرے سے یہ وکیل بحث و مباحثہ شروع کرے گا اور اس میں خاصی تاخیر ہوجائے گی

میاں نواز شریف کے یہ نئے آنے والے وکیل بھی چند دنوں میں وکالت نامہ واپس لیں گے اس کے پس پردہ محرکات میں وہ پراپیگنڈہ مہم ہے جو شروع کی جائے گی کہ انہیں مناسب دفاع کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ یہی تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اج مریم نواز کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ مریم بیبی کے وکیل خرابی صحت کی بنا پر عدالت حاضر نہیں ہو سکتے

نوازشریف کا وکیل تبدیل ہوا تو مریم نواز کے وکیل کی طبیعت ناساز ہو گئی اس سنگین اتفاق پر
عدالت نے امجد پرویز کو 19 جون کو حتمی دلائل کے لیے آخری موقع دے دیا ہے تاکہ یہ نا کہا جا سکے کہ صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا

میاں نواز شریف، مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کے بارے میں جو تین ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں جن پر باری باری فیصلہ آئے گا چونکہ مذکورہ الزامات کو مسترد کرنے کے لئے اور بیرون ملک خریدی گئی جائیداد کا ذریعہ بتانے سے شریف فیملی قاصر رہی لہٰذا میاں نواز شریف کو اپنے وکلاءسمیت یہ علم ہے کہ انھیں ان مقدمات میں سزا ہونا ضروری ہے ۔ سپریم کورٹ ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم صادر کر چکی ہے

مسلم لیگ ن کی اجتماعی حکمت عملی ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف کوئی فیصلہ انتخابات سے قبل نہ آئے بصورت دیگر پارٹی کو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا قیادت کے خلاف آنے والے فیصلے پر اگر ورکر ہر شہر اور ضلع میں احتجاج کرتے ہیں تو اس پر انہیں ریاستی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں ان کی شکست یقینی ہے اور یوں وہ اپنی تمام تر توجہ ووٹ حاصل کرنے کی بجائے میاں نواز شریف کے تحفظ میں صرف کردیں گے جس سے پارٹی کو انتہائی کم ووٹ پڑیں گے اور شکست ان کا مقدر ہوگی۔

سزا میں تاخیر کا ایک فائدہ ہوگا کہ انتخابات کے دوران میاں نواز شریف اور مریم نواز رشریف ہر جگہ یہ کہہ سکیں گی کہ وہ سو سے زائد بار عدالت میں پیشیاں بھگت چکے ہیں مگر ایک ایسی جگہ ثابت نہیں کی گئی کہ جہاں سے ہم نے چوری کی ہو رشوت لی ہو توپھر ہم پر الزام کس بات کا ہے جبکہ یہ کہانی وائٹ کالر کرائم سے پہلے کی ہے اس زمانے میں لوگ قومی دولت لوٹتے تھے اور جب کوئی ان پر اعتراض کرے تو یہ کہتے تھے کہ پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ ہم نے چوری کہاں سے کی ہے

مگر نئے قوانین ساری دنیا میں آگئے ہیں اور ملزم کوثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس کے پاس جو اثاثے اور دولت ہے اس نے کہاں سے حاصل کئے ہیں اس کے ذرائع کیا تھے ذرائع ثابت نہ کرنے والا مجرم اور سزا یافتہ قرار پاتا ہے مگر میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کا ابھی تک یہ موقف ہے

کہ وہ لوگوں کو یہ کہہ کر بیوقوف بنا لیں گے کہ ان کے پاس لندن میں جائیدادیں تو ضرور ہیں مگر اس کے لئے رقم ہم نے کہاں سے چوری کی پہلے وہ چوری بتائی جائے پھر اس چوری میں شامل ملزموں کو کیا سزا ہوئی کہاں ایف آئی آر درج ہوئی اور عدالتوں نے اس پر کیا فیصلے دیئے پھر ہمارے پاس آکر اس جرم میں شریک مجرم قرار دیا جائے اور اس فیصلے کے بعد ہمارے جائیدادوں پر پوچھ گچھ ہو۔

برطانیہ میں بانی متحدہ کے گھر اور بینکوں سے جو رقوم برآمد ہوئیں تو اس پر انہوںنے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ جائز ہیں اور پاکستان سے آئی ہیں اور جب پاکستان حکومت نے ان بھاری رقوم پر اپنی ملکیت کا برطانوی حکومت کو خط لکھا تو ان کے وکلاءنے برطانوی حکومت سے کہا کہ پہلے حکومت پاکستان یہ ثابت کرے کہ یہ رقوم کہاں اور کیسے چوری کی گئی ہیں اور اس حوالے سے پاکستان میں کوئی مقدمہ درج ہوا ہے

جس پر اب حکومت پاکستان نے خدمت خلق فاﺅنڈیشن سے چوری ہونے والے چار ارب روپے کا مقدمہ درج کیا ہے اور یہ کاروائی جاری ہے پاکستان کے قومی احتساب بیورو میں بھی جب اشرافیہ کی بدعنوانی کا احتساب کرنے کے لئے قوانین مرتب کئے گئے تو اس میں پہلی شق یہ ڈالی گئی کہ جس بھی سرکاری ملازم، وزیر یا ارکان پارلیمنٹ کے بینکوں،گھروں یا کسی اور طرح جو بھی اثاثے سامنے آئیں اس کا ملزم ثبوت پیش کرے گا کہ اس نے یہ اثاثے کہاں سے اور کیسے بنائے ہیں

میاں نواز شریف یہی گردان ہر جگہ دہراتے ہیں کہ مجھ پر کہیں سے بھی رشوت لینے ،کمیشن لینے یا چوری کا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر وہ اس طرف نہیں آتے کہ جو جائیدادیں برطانیہ میں ان کے بچوں کے نام ہیں وہ کہاں سے آئیں اور مریم نواز شریف نے تو یہاں تک کہا کہ مجھ پر یہ الزام ہے میری تو پاکستان میں کوئی پراپرٹی نہیں بیرون ملک کہاں سے آئی
بلاشبہ شریف خاندان چوری اور سینہ زوری پہ عمل پیرا ہے

تحریر: حجاب رندھاوا


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here