پاکستان میں کون ہے جو ڈرون گرانے کے حق میں نہیں ؟؟؟ پاک فوج کو ڈرون گرانے کا حکم دیں

0
350

بغیر ضروری قدامات کیے ٹی ٹی پی سے جنگ اور مذاکرات دونوں تباہ کن ہیں !

سب سے پہلی بات تو حکومت یا کچھ لوگوں کا یہ مطالبہ ہی احمقانہ ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے آیین کو تسلیم کر لے اور ہتھیار رکھ دیں تو مذاکرات ہونگے ۔ یہ اتنی سی بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ آئین تسلیم کروانے اور ہتھیار رکھوانے کے لیے ہی تو مذاکرات کیے جانے ہیں !!!

اگر یہ چیزیں وہ کر دیں تب مذاکرات کی کیا ضرورت؟

دوسری بات جہاں تک پاکستان کے آئین کی بات ہے تو کیا ہمارے حکمران خود آئین کو تسلیم کرتے ہیں ؟؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اس آئین کے میں بھی خلاف ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں عوام کے حقوق محض فرضی ہیں اور اللہ کی حاکمیت اور اسلام کی باتیں محض نمائشی طور پر لکھی ہیں ۔۔۔ یہ آئین صرف سیاسی لیڈروں کے مفادات کا نگران ہے جو انکو عوام ، عدلیہ اور فوج تینوں سے تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا ہے !!!

پاکستان میں کون ہے جو ڈرون گرانے کے حق میں نہیں ؟ پاک فوج کو ڈرون گرانے کا حکم دیں !
کون ہے جو نیٹو سپلائی روکنے کے حق میں نہیں ؟نیٹو کی سپلائی بند کریں ۔
دنیا اعلان کرتی پھررہی ہے کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ اتحاد نمائشی ہے اور پاکستان افغانستان میں لڑنے والے افغان طالبان کو سپورٹ کرتا ہے اگر اس بات میں ذرا بھی سچائی ہے تو اب وقت ہے کہ اس نمائشی اتحاد سے بھی الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ان طالبان سے اپنے تعلقات کو استور کیجیے جن سے خود امریکہ بھی بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اگر کوئی تعلقات ہیں تو انکو منظر عام پر لائیے !

آپ یہ تینوں کام کریں پوری قوم پوری طاقت سے آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی اور اگر کوئی مشکل آئی تو جان بھی دے گی اور گھاس بھی کھائے گی !!

نفاذ شریعت جنرل ضیاء جیسا مجاہد اور طاقتور سربراہ بھی نہیں کر سکا کیونکہ اختلاف بہت تھا اور پاکستان کے تین چار بڑے مسالک ہر معاملے کے لیے ایک مختلف رائے رکھتے تھے ۔ آپ تمام مسالک کے سرکردہ علماء کا ایک گروپ تیار کیجیے اور انہیں ٹاسک دیں کہ یہ طے کر لیں کہ ریاست کون کونسے شریعت کے احکامات نافذ کر سکتی ہے اور کون کون سے نہیں ۔ کیونکہ اصل دین لوگوں کے دلوں میں ایمان جاگنے سے آتا ہے اور ۔۔۔” ایمان کو نافذ نہیں کیا جا سکتا “۔۔۔۔۔۔ اسکے لیے دعوت تبلیغ کی محنت ہے ۔ پھر جو طے ہوتے جائیں انکو بتدریج ناٖفذ کرتے چلے جائیں ۔

تیسرا کام یہ کیجیے کہ صحابہ کی شان میں گستاخی کے خلاف قانون بنائیے اور ایسا کرنے والے کو سخت سزا دینے کا اہتمام کیجیے ۔ اہل تشیع کے خلاف جاری جنگ انکے عقائد کی وجہ سے نہیں بلکہ ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ صحابہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ۔ جبکہ اہل تشیع کے علماء یہ اعلان کرتے کہ ۔۔۔ ” ہم بھی صحابہ کی شان میں گستاخی کے خلاف ہیں “۔۔۔۔

جب وہ بھی خلاف ہیں تو قانون سازی میں کیا مشکل ۔۔ قانون بنائیے بھر جو بھی گستاخی کرے چاہے شیعہ ہو یا سنی اس کو سزا دیں !!

اس جیسے چند ضروری اقدامات کیجیے اور یاد رکھیے کہ یہ ٹی ٹی پی یا کسی اور کے نہیں بلکہ پوری قوم کے مطالبات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پھر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیجیے جو مان جائیں ان کو افغان اور کشمیر جہاد کی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دیجیے ۔۔۔۔۔ پھر بھی جو پاکستان کے خلاف جنگ جاری رکھیں ان کے خلاف بھرپور کاروائی کیجیے کیونکہ پھر انکا مقصد فساد ہی ہوگا اور فساد کے خلاف پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔۔۔۔۔۔!!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here