پاکستان میں دہشت گردی برپا کرنے کے باوجود امریکہ اور اسکے اتحادی انڈیا سمیت اپنے اہم ترین مقاصد کے حصول میں اب تک ناکام رہے ہیں ۔

0
444

انڈیا اور امریکہ نے بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے پاکستان پر اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں ۔۔۔۔۔زیارت میں بابائے قوم کی رہائش گاہ پر حملہ اور بچیوں کا قتل عام اسی کا حصہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانی میڈیا بھی اپنے پالنے والوں کا حق نمک ادا کر رہا ہے اور حامد میر یہ دور کی کوڑی لا رہا ہے کہ اس میں بھی پاکستان کے دفاعی ادارے ہیں ملوث ہیں۔۔۔۔۔ ( یہ شخص پاکستان دشمنی میں اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے )۔۔۔۔۔۔!!

پاکستان میں دہشت گردی برپا کرنے کے باوجود امریکہ اور اسکے اتحادی انڈیا سمیت اپنے اہم ترین مقاصد کے حصول میں اب تک ناکام رہے ہیں ۔۔۔۔۔ نہ پاکستان کو توڑا جاسکا ہے اور نہ ہی ایٹمی طور پر غیر مسلح کیا جا سکا ہے بلکہ گوادر پر کام آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے جو اس خطے میں انکے مفادات کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے ۔۔۔!!!

فرسٹریشن میں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور آخری حد تک جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ پاکستان کو خود کو ایک باقاعدہ جنگ کے لیے تیار کر لینا چاہئے جو کسی بھی وقت پاکستان پر مسلط کی جا سکتی ہے جلد یا بدیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

فوج اور اسلحہ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو چند نہایت اہم اور فوری نوعیت کے اقدامات کرنے پڑیں گے جو پاکستان کے دفاعی ادارے اور سول حکومت مل کر ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

پاکستان کو فوری طور پر ایس سی او (Shanghai Cooperation Organisation) نامی تنطیم کی رکنیت حاصل کر لینی چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ چین ، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مابین دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے جس کی رو سے ان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ان سب ممالک پر حملہ تصور ہو گا اور یہ سب حملہ آور ملک کے خلاف مل کر جنگ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نیٹو کے مقابلے پر ایک اتحادی بلاک بنایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو اب بھی اس میں آبزور کی حیثیت حاصل ہے ۔۔۔۔۔ چین اور روس دونوں پاکستان کو اس میں شامل کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن پاکستانی حکمران امریکی دباؤ کی وجہ سے اسکی رکنیت حاصل نہیں کر رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو فوراً ایس سی او کی رکنیت حاصل کر لینی چاہئے یہ پاکستان کو امریکہ اور انڈیا کے مقابلے میں ایک مضبوط پوزیشن پر لا کھڑا کر دے گی۔۔۔۔۔۔!!!

پاکستان کو اپنی دفاعی کمانڈ صرف جی ایچ کیو تک محدود رکھنے کے بجائے ملک بھر میں کم از کم تین چار جگہوں تک پھیلا دینی چاہئے جیسے ناردرن کمانڈ ، ایسٹرن کمانڈ ، ویسٹرن کمانڈ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ خدا نخواستہ مرکزی کمانڈ پر ایک ہی حملے میں فوج کا سارا کنٹرول اینڈ کمانڈ مفلوج ہوجانے کا خطرہ نہ رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! یہ بے حد ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!!

پاکستان کو نیوکلیر حملہ برداشت کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہوگی ۔۔۔ مثلاً چین کے دارلخلافہ بیجنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں صرف چند منٹ میں پورا بیجنگ زیر زمین جا سکتا ہے ۔۔۔۔ پاکستان کو بھی اپنے اہم شہروں میں یہی کرنا ہوگا تاکہ خدا نخواستہ ایک آدھ نیوکلیر حملہ ہو تو پاکستان برداشت کر سکے ۔۔۔۔۔۔!!!

اور سب سے آخر میں پاکستان کو اپنے دفاعی اڈے پاکستان سے باہر بھی بنانے کی ضرورت ہے جس طرح امریکہ نے بنائے ہیں اور جس طرح انڈیا نے پاکستان کے لیے وسطی ایشیاء میں بنائے ہیں یا جیسے ہم نے انڈیا سے جنگوں میں اپنے جہاز محفوظ کرنے کے لیے ایران بھجوا دیئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دفاعی گہرائی پاکستان کو ضرور حاصل کر لینی تاکہ کسی بھی جنگ کی صورت میں ہمارے کچھ محفوظ اڈے موجود ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو چین، ایران ، سعودی عرب ، وسطی ایشیا اور سری لنکا میں یہ اڈے بنانے چاہئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

یہ جنگ کی تیاری نہیں بلکہ جنگ سے بچاؤ کا سامان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here