پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں ہے اس لیے اسکی حفاظت کرنا جائز نہیں

0
401

ایک نیا فتنہ سنئے ۔۔۔

“پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں ہے اس لیے اسکی حفاظت کرنا جائز نہیں “
ذرا ایک نظر ان حقائق کو دیکھ لیجیے !

پوری دنیا میں ایک وقت میں سب سے زیادہ اذان پاکستان میں دی جاتی ہے ۔
پوری دنیا میں سب سے زیادہ نمازی پاکستان میں ہیں ۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ دین کے علماء پاکستان میں ہیں ۔
ساری امت مسلمہ جتنی زکواۃ مل کر دیتی ہے اتنی پاکستان اکیلا دیتا ہے یعنی دنیا بھی کی زکواۃ کا پچاس فیصد ۔اس میں دنیا کے امیر ترین عرب ممالک بھی شامل ہیں ۔
یو این کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ چیریٹی امریکی دیتے ہیں اس کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر پاکستان ہے ۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ حافظ قرآن پاکستان میں ہیں ۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ روزے رکھنے والے لوگ پاکستان میں ہیں ۔
پوری دنیا میں سب سے زیادہ حجاج پاکستان کے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے انڈونیشیا پہلے نمبر پر تھا ۔
ساری دنیا میں اللہ کی راہ میں تبلیغ کے لیے نکلنے والے پاکستانی ہیں اوردنیا بھر کی تقریباً 80فیصد تبلیغ کا کام پاکستانی کرتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دنیا بھر سے وصولیاں کر کے لاتے ہیں ۔
اللہ کے دین کے لیے سب سے زیادہ لوگ پاکستان میں ہی اکھٹے ہوتے ہیں اور ملکر پوری دنیا کو حق کی طرف بلانے کی فکر کرتے ہیں ۔
اللہ کی راہ میں لڑنے والے اور سب سے زیادہ جانیں دینے والی بھی پاکستانی ہی ہیں ۔
کشمیرمیں ، روس کے خلاف افغانستان میں ، اسرائیل کے خلاف پاک فوج کی کاوائیاں بوسنیا میں پاک فوج اور اب امریکہ کے خلاف پاک فوج اور مجاہدین کا خفیہ اتحاد ۔ مجاہدین کے سب سے طاقتور گروپ حقانی نیٹ ورک اور پاک فوج کی قربتوں سے کون واقف نہیں ؟

پاکستان دنیا کی اکلوتی ایٹمی قوت ہے ۔
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان کا وجود ختم کرنا امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا کا مشترکہ مشن اور خواب ہے ۔
انڈیا کی ساری فوجی طاقت اور تیاری صرف پاکستان کے لیے ہے ۔
اسرائیل پاکستان کو سب سے بری رکاؤٹ خیال کرتا ہے ۔
امریکہ صرف اور صرف پاکستان کے لیے ہی اس خطے میں بیٹھا ہے ۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ دشمن کے تیر جہاں گرے وہ حق ہے ۔۔ واللہ ان کے سارے تیر اس وقت پاکستان پر ہی گر رہے ہیں ۔

پھر بھی کوئی کہے کہ ” پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں ہے اور اسکی حفاظت کرنا جائز نہیں ” تو ایسے لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے !

بات صرف اتنی ہے کہ ان سب کے باوجود ہم لوگوں کو اصلاح کی ضرورت ہے اور ماشاءاللہ تبلیغ اور دعوت کے ذریعے یہ کام بخوبی اور بہت تیزی سے ہو رہا ہے ۔

یاد رکھیے ۔۔۔۔ “لوگوں کی اصلاح کے لیے انکے ایمان پر محنت کی ضرورت ہے اور ایمان تلوار کے ذریعے دل میں نہیں اتارا جا سکتا یہ کام صرف “دعوت ” کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے “

تحریر شاہد خان
(نوٹ ۔۔ اوپر دئے گئے تمام اعداوشمار کی تصدیق کی جاسکتی ہے )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here