پاکستان ایران دوستی زندہ آباد

0
177

پاکستان ایران دوستی زندہ آباد

ایران اور پاکستان کو اب کس سمت جانا چاہیے ؟؟؟

مجھے یہ کہنے میں زرا جھجک نہیں ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں امن بھاٸی چارہ چاہتے ہیں۔

پچھلے کٸی ادوار میں ان دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید اتار چڑھاٶ آتا رہا ہے۔
جسکا عوامی سطح پہ زکر نہایت کم ہے۔

اسکا کریڈٹ بھی میں پاکستانی میڈیا اور سیاستدانوں کو دوں گی۔
جھنوں نے کچھ مواقع پر ان ممالک کے درمیان ہلکی پلکی جھڑپ یا تلخ جملوں کے تبادلے کا عوام میں ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔
کیونکہ اس سے بڑے مسلکی اختلافات کا بخار پھوٹ پڑنے کا ڈر ہوتا ہے۔

خیر اس اتار چڑھاٶ کا زکر کیے بغیر ہم پاکستان اور ایران کے مفادات پہ بات کرتے ہیں۔
اس میں کوٸی شک نہیں کہ ایران کو قریب لانے میں بھی ہماری سفارتی کوشیشں کافی حد تک مایوس کن رہی ہیں۔
ان دونوں ممالک کو دور کرنے کے لیے بہت سی سازشیں کام کر رہی ہیں۔

ایران اور پاکستان کے خراب تعلقات سے صرف دونوں طرف کا مسلمان متاثر ہوگا۔

پاکستان بھارت گیس پاٸپ لاٸن جو ایران سے خریدی جانے والی گیس تھی پاکستان اور بھارت نے امریکہ کی ناراضگی کے خوف سے اور بھارت نے اپنے وسیع تر مفاد میں وہ خرید فی اوقت معطل کر دی
کیونکہ بھارت پاکستان سے سانجھی کسی خرید و فروخت کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔۔

اس میں بھی ایران کی ناراضگی ہمیں برداشت کرنی پڑی کیونکہ بھارت تو چاہ بہار بندرگاہ کی صورت میں ایران میں سرمایہ لگا رہا ہے۔

چاہ بہار ہمارے گوادر بندرگاہ سے قریب ترین ہے۔ جس میں بھارت کی بڑی سیاست اور ایران کی ضرورت ہے۔ یہاں بھارت اور ایران کا مفاد ایک ہو جاتا ہے۔

سی پیک گوادر پورٹ کی اہمیت وقت سے پہلے کم کرنے کے لیے بھارت فورا آگے بڑھا اور چاہ بہار پورٹ پہ سرمایہ کاری شروع کر دی۔

چونکہ ایران ایک زمہ دار ریاست ہے وہ بھارت کی سازشوں کے لیے اپنی سرزمین یوں استعمال نہیں کرے گا۔
اس کے لیے بھارت پرزور کوشش کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقہ جات میں حملے کروا کہ ان میں جنگی ماحول پیدا کیا جاٸے۔

یاد رہے ایرانی صدر کے دورے سے قبل یہ کلبھوشن والا معاملہ سامنے آیا تھا۔
اب جب وزیراعظم عمران خان ایران کے دورے کے لیے تیار تھے تو اوماڑا واقعہ ہوا۔

ان واقعات کے پیچھے اصل کون ہے ؟؟؟
کون ہے جو ان ممالک کو قریب نہیں ہونے دیتا ؟؟؟

یقينا ایک بڑی سازش بڑی سرمایہ کاری۔
ان معاملات میں بھارت اکیلا نہیں اسکے ساتھ امریکہ اور اسرائيل بھی رہا ہے۔

ایران بھارت سے اقتصادی فاٸدہ حاصل کر رہا ہے وہ اسکی مرضی ہے لیکن اسکے بدلے میں وہ پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ نہ بنے۔

ابھی 27 فروری کے پاک بھارت واقعے پہ میں ایک بھارتی سنیر وزیر کو سن رہی تھی وہ بڑے مظلومانہ انداز میں صحافی کے پاک ایران تعلقات پہ جواب دیتا ہے

“وہ ایران وہ تو نہیں چھوڑے گا انکو (پاکستان کو) وہ تو ان سے بھر پور نپٹے گا”
مطلب وہ جو اکیلے نہیں کر پا رہے وہ اسلامی ملک کا سہارہ لے کر بات کر رہے ہیں۔

میرے سنی اور شعیہ بھاٸیو !!!۔

سن لو اگر ہم لڑے تو یہ سازشیں کامياب ہونگی وہ نوٹ وہ ڈالر کامياب ہوگا جو اس پہ لگایا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو اس پہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکی سعودی لہجہ اور حالیہ اوماڑا واقع کو بنیاد بنا کر ایرانی دورہ ترک نہیں کیا۔

اگر ان واقعات کو چھوڑ کر ہم آگے بڑھتے رہے تو یقین کیجیے کوٸی ہمیں دور نہیں کر سکتا۔

مجھے اختلاف حکومتوں سے نہیں عوام سے ہے۔
پاکستانی سنی شعیہ عوام ملک کے وسیع تر مفاد میں آپس کی لڑاٸی سے باہر آ کر سوچیں گے کہ

پاکستان کے بغیر تم کچھ بھی نہیں ہو۔
کوٸی ملک تمہیں شہریت دور روٹی بھی نہیں دے گا۔

تاریخ گواہ رہی ہے کہ کبھی ایک ملک کے شہری نے اپنے ملک کے خلاف کسی دوسرے ملک کی مدد کی وہ رسوا ہوا۔

حال ہی میں عمران خان کی حکومت بنتے ہی ایران نے اپنے دارالحکومت میں پاکستانی جھنڈے لگا دیے۔
یہ ظاہر کرتے ہوٸے کہ یقينا نٸی حکومت تہران کے ساتھ تعلقات قاٸم کرے گی۔
میں پر امید ہوں انشااللہ ایران پاکستان کبھی جنگ نہیں کریں گے۔
یہ مثبت تعلقات میں آگے بڑھیں گے۔
Maheen Rao

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here