پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے آرمی چیف کا حالیہ دورہ کابل اسی بات کی کڑی ہے

0
659

پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے آرمی چیف کا حالیہ دورہ کابل اسی بات کی کڑی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن پاکستان کی کئ دہائیوں تک کی گئ افغانیوں کی میزبانی اور امن کوششوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے افغان حکومت اور افغان ایجینسیز پاکستان مخالف ایجنڈے پر بھارت کے ساتھ ایک پیج پر ہیں افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دہشتگردی اور پراپیگنڈہ آپریشنز کیلئے استعمال ہو رہی ہے

ملا فضل اللہ جو کہ کل مارا جا چکا ہے وہ این ڈی ایس کی سپورٹ سے ہی افغان سرزمین سے پاکستان مخالف اپریٹ کر رہا تھا

پاکستان میں افغانستان کی طرف سے جاری پاکستان مخالف دہشتگردی میں حالیہ دنوں تیزی آئی ہے جیسے کہ کوئٹہ ایف سی مددگار حملہ اور کچھ دنوں پہلے خیبر پختونخوامیں انٹر سروسز انٹیلی جنس کے افسر پر حملہ

کے پی کے میں آئی ایس آئی کے افسر پر حملے میں بھارتی ایجنسی را اور افغان سکیورٹی سروس این ڈی ایس کی چھتری میں آپریٹ کرنیوالے ٹی ٹی پی گروپس ملوث ہیں، پاک افغان بارڈر پر کے پی کے میں باجوڑ کے بارڈر پر اور بلوچستان میں قمر دین کرض کے بارڈر پر افغانستان سے ٹی ٹی پی(عمر نارے گروپ) ،جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی(جاوید سواتی گروپ) نے داعش کی مدد سے پاکستان میں دراندازی کرتے ہوئے (کوئٹہ ایف سی مددگار سینٹر ) دہشتگرد حملے بھی کئے جن میں خودکش حملہ آوروں سمیت چھ سے زائد دہشتگرد مارے گئے تھے ۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق داعش کو افغانستان میں القاعدہ کے 055 بریگیڈ کے کچھ بچے کچھے کمانڈرز نے جوائن کر لیا ہے اور انکے پیچھے امریکی سی آئی اے کے افغان کنٹریکٹرز کے فٹ پرنٹس نظر آ رہے ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس ادارے القاعدہ کے 055 بریگیڈ کوایک خوفناک لڑاکا گروپ قرار دیتے ہیں اور افغانستان میں انکے بچے ہوئے کمانڈرز کا داعش کو جوائن کرنا اور جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی گروپس کیساتھ ملکر پاکستانی بارڈر پر دہشتگردی کی نئی لہر لانچ کرنا ایک خطرناک معاملہ ہے ۔

پاکستان نے قبائلی علاقہ جات کو دہشتگرد نیٹ ورکس ختم کرنے کے بعد کے پی کے میں ضم کر دیا ہے اور اس پیشرفت کے دوران پاک افغان بارڈر پر کئی دہشتگرد گروپس کو اکٹھا کر کے پاکستان کیخلاف لانچ کرنا اور کے پی کے میں آئی ایس آئی کے ایک افسر پر حملہ ایک خوفناک صورتحال ہے ۔

پاکستان کی ایجینسیز کو ، کابل اور کلکتہ سے منظور پشتین کے حق میں پراپیگنڈہ مہم میں را، این ڈی ایس اور سی آئی اے کے فٹ پرنٹس ملے ہیں

پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ آپریشنز کو تیز کرتے ہوئے منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں کیلئے کابل اور کلکتہ سے سوشل میڈیا اور اور بین الاقوامی میڈیا پر مہم کو تیز کیا جا رہا ہے ۔ منظور پشتین پراپیگنڈہ آپریشنز کی سرپرست سی آئی اے ہے جبکہ بھارتی را اسکے آپریشنز کو چلانے میں کابل اور کلکتہ سے معاونت کر رہی ہے ۔ سی آئی اے کے چیف سٹیشن کابل اور کابل میں را کے سٹیشن ہیڈ کابل کے ڈپلومیٹک زون کے پوش ریستوران میں ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں۔ سی آئی اے کے ننگرہار میں چیف ملٹری اور انٹیلی جنس کنٹریکٹر جسکا کور نیم حمید آفریدی ہے وہ پاکستان مخالف آپریشنز کو جلال آباد میں را کے کمانڈر جسکا کور نیم لیفٹیننٹ کرنل بلبیر سوڈی ہے کیساتھ ملکر چلاتا ہے ۔

سی آئی اے کا ایک کیس آفیسر جسکا نام حاصل نہیں کیا جا سکا وہ جلال آباد سے منظور پشتین آپریشن کو سپروائز کرتا ہے ۔ بھارتی ایجنسی را کے ایک اور لیفٹیننٹ کرنل جسکا کور نیم اظہر ہے وہ جلال آباد میں پاکستان مخالف آپریشنز چلاتا رہا ہے اور وہ اس وقت کابل میں تعینات ہے ۔

بھارتی ملٹری انٹیلی جنس جو دہشتگردوں کو پاکستان کے ملٹری ٹارگٹس ہٹ کرنے کا ٹاسک دیتی ہے اسکو انکا لیفٹیننٹ کرنل جسکا کور نیم کمار کھنہ ہے جلال آباد سے آپریٹ کر رہا ہے ۔

پاکستان مخالف آپریشنز امریکی اور بھارتی سفارتخانوں اور کونسل خانوں سے چلائے جا رہے ہیں۔ این ڈی ایس کے بعض سابق افسر جن میں جنرل نعیم بلوچ ،جنرل مومن،رحمت اﷲ نبیل اور امر اﷲ صالح شامل ہیں پاکستان مخالف آپریشنز میں سی آئی اے اور را کو معاونت دیتے ہیں۔

منظور پشتین کے حق میں پراپیگنڈہ آپریشنز چلانے کیلئے این جی اوز کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں نے اپنے چارٹر سے ہٹ کر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز سیو دی چلڈرن، ایکشن ایڈ اور ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز کے آپریشنز معطل بھی کرائے تھے پاکستان میں این جی اوز کے ورکرز کے طور پر سی ائی اے کے اہلکار کام کرتے رہے ہیں جو کہ اکثر پشتونوں کے بھیس میں منظور پشتین کے جلسوں میں بھی دکھائی دئیے پاکستان میں این جی اوز کے زریعے دہشتگردی پرانا کھیل ہے جیسے کہ سیو دی چلڈرن کے زریعے ایبٹ اباد اپریشن

اس سے پہلے پاکستان میں دو ایسی غیر سرکاری تنظیمیں بھی کام کرتی رہی ہیں جو پاکستان میں نہیں بلکہ افریقہ کے ملکوں میں رجسٹرڈ تھیں اور ان تنظیموں نے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے متعلق منفی پروپیگنڈا اور من گھڑت خبریں پھیلانا شروع کی
پاکستان اس معاملے کو غیر سرکاری تنظیموں سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی میں لے کر گیا جہاں پر عمومی طور پر معاملات اتفاق رائے سے طے کیے جاتے ہیں

وہاں پہ بھی تین ممالک نے پاکستان مخالف ووٹ دیا تھا جس میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل شامل تھے
اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ تنظیمیں را، سی ائی اے، اور موساد کے لیے کام کرتی تھیں

پاکستان کے ڈیفنس کے متعلقہ اداروں نے نیشنل الیکشن پلان کے تحت تمام این جی اوز کو تجدید رجسٹریشن کی ہدایت کی تھی تاہم مذکورہ 801 این جی اوز مقررہ وقت میں تجدید رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہی۔ ان میں سے 471 گھوسٹ تھی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے محکمہ این جی اوز رجسٹریشن کے ڈائریکٹر محمد علی کے مطابق جن این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی،ان کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات میں دفاتر کے جو پتے درج تھے وہاں سرے سے کوئی دفتر ہی موجود نہیں تھے

واضح رہے کہ مارچ 2017 میں بھی بلوچستان حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت 3 ہزار 250 این جی اوز کی رجسٹریشن جانچ پڑتال کے عمل کے دوران ان کی دستاویزات چیک کرنے کے بعد انھیں مشکوک قرار دیتے ہوئے منسوخ کی تھی ان
این جی اوز میں آل پاکستان ٹرک اونرز ایسوسی ایشن، مارگلہ ٹاور سوسائٹی،ادراک ڈویلپمینٹ سوسائٹی، اسلام آباد لائرز فاؤنڈیشن، پاک کڈنی انسٹیٹیوٹ،الشفاء ٹرسٹ،فورم آف نیشنل پولیس فاؤنڈیشن،جرنل جہانداد خان ایجوکیشن ٹرسٹ،قطرچیریٹیبل سوسائٹی،سی ڈی اے بازار ویلفیئرایسوسی ایشن اور آگاہی جیسی این جی اوز شامل ہیں۔

گھوسٹ این جی اوز میں شامل بعض دیگر تنظیموں میں خدمت فاؤنڈیشن،برٹش آلمنائی ایسوسی ایشن،فونکس ایجوکیشن فاؤنڈیشن،شیرپاؤ فاؤنڈیشن،ویمن بیوٹیشن ایسوسی ایشن،برٹش ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن،سینٹر آف ایشین اسٹڈی،پاک گورنمنٹ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن،پاکستان نیشنل کونسل آف دی یوتھ، مدرسہ جواہر القرآن، مرکز تبلیغ اسلام ٹرسٹ، شاہ عبداللطیف ایجوکیشن فاؤنڈیشن، زبیدہ خالد ویلفیئر ٹرسٹ، بے نظیر بھٹو شہید ایکشن انٹرنیشنل، مادر ملت فاطمہ ایجوکیشن سوسائٹی، جماعت الحدیث، ادارہ معروف القرآن، پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل شامل ہیں۔

خیال رہے کہ غیر ملکی اور ملکی این جی اوز کے مبینہ طور پر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے، آڈٹ رپورٹس جمع نہ کرانے اور دیگر معاملات کی وجہ سے حکومت نے گزشتہ 2 سال سے ان کی مانیٹرنگ شروع کر رکھی تھی پاکستان کو عالمی میدان جنگ بنانے کے لیے این جی اوز سے لیکر مختلف گروپس تک عالمی طاقتیں تمام حربے استعمال کر رہی ہیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے بھارت، افغانستان اور اسرائیل پاکستان کو اندرونی سطح پر دہشت گردی کے ذریعے کمزور کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔ پاکستان میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس، اسرائیل کی موساد اور بھارتی خفیہ ایجنسی را مقامی سہولت کاروں کی مدد سے بم دھماکوں میں ملوث ہیں جو کہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں میں خودکش دھماکوں سمیت دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے علاوہ ازیں تینوں خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کے اندر سینکڑوں ایسے گروپ بنا رکھے ہیں جو بے روزگار اور جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ہیڈ کواٹرز روانہ کرتے ہیں۔

جبکہ دوسرا گروپ ان افراد کو جہاد کے نام پر افغانستان لے کر جاتے ہیں جہاں ان کی برین واشنگ کر کے دہشت گردی کی باقائدہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت سندھ ، کوئٹہ اور پشاور کے راستے اپنے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیج کر بے گناہ لوگوں کے قتل کروا رہا ہے

تحریر حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here