پاکستانی فوج کو روکنے کے لیے بھارت کا نیا ہتھیار

0
874

ہم ایسے دور میں آ چکے ہیں کہ اب جنگ نئے طور طریقوں سے لڑی جاتی ہے، ہمارا دشمن بھی ان طور طریقوں کو آزمانا چاہتا ہے، وہ پرجوش ہے کے اب  کی بار وہ پورے پاکستان پر قبضہ کر لے گا۔

بھارت پاکستان سے دگنی سے بھی زیادہ فوج رکھتا ہے مگر پھر بھی اسے یہ ڈر ہے کہ پاکستان کی فوج بھارت کی پوری فوجی طاقت ختم کردے گی، لہذا دوران جنگ پاکستان کی فوج کیلئے کئی طرح کی مشکلات کھڑی کرنے کی بہت کوشش کی گئی، بہت عرصے سے بھارت افغانستان کے بارڈر پر پاکستان کی آدھی فوج کو جانے پر مجبور کر رہا ہے، اور اس وقت ہماری فوج کا ایک بڑا حصہ پاک افغان بارڈر پر موجود ہے۔

کچھ فوج پاکستان کے اندرونی علاقوں میں تعینات ہے جبکہ باقی فوج پاکستان اور بھارت کے باڈر پر موجود ہے، بھارت جیسا چاہتا تھا اب تک ویسا ہی ہو رہا ہے، مگر بھارت کو اس وقت بھی یہ ڈر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے جنگ چھڑتے ہی پاکستان اپنی پوری فوج بھارت کی طرف لے آئے گا۔

لہذا اس ڈر کا حل بھارت نے تلاش کیا، بھارت کے وزیراعظم نے نئے ڈیم بنا کر بظاہر بھارتی کسانوں کو خوش کرکے اپنی سیاست چمکائی مگر یہ ڈیم بھارت میں ہریالی کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑنے سے پہلے پاکستان میں سیلاب لانے کے لیے بنائے گئے، اس وقت بھارت کے پاس اتنا پانی جمع ہو چکا ہے کہ وہ بآسانی پاکستان کو ڈوبا سکتا ہے۔

جنگ سے پہلے ایسا اقدام اٹھانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ فوج کی نقل و حمل کو ختم کردیا جائے، یعنی پاکستان کی فوج زمینی رستوں سے نقل و حمل نہ کر سکے، اور فوج بھارت کے باڈر کی طرف نہ آسکے، جبکہ بھارت اپنی 13 لاکھ فوج پاکستان کی دو سے ڈھائی لاکھ فوج کے ساتھ لڑانے لے آئے گا۔ بھارت کی یہ جنگی حکمت عملی انتہائی خطرناک ہے اور ہمیں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بھارت اس کا ایک عملی نمونہ بھی ہمیں دکھا چکا ہے بھارتی آرمی چیف نے جیسے ہی پاکستان پر حملے کی دھمکی دی تو بھارتی ڈیموں کو کھول دیا گیا اور اس وقت جو دریا بھارت کی طرف سے پاکستان میں آتے ہیں ان میں خطرناک حد تک پانی چھوڑ دیا گیا ہے، یاد رہے یہ پانی صرف پاکستان کو ڈرانے کے لیے چھوڑا گیا ہے، اور یہ پانی بھارت کے پاس جمع شدہ پانی کا دس فیصد بھی نہیں۔

بھارت کا جب جنگ کا ارادہ ہوا تو وہ اپنا پورا پانی پاکستانی دریاؤں میں چھوڑ دے گا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے ایسا کرنے سے جو صورت حال پیدا ہوگی، یعنی پاکستانی فوج کی نقل و حرکت مفلوج ہوکر رہ جائے گی تو ایسے حالات میں پاکستان کی فوج کو کیا کرنا چاہیے، سب سے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر کو میڈیا پر آکر یہ واضح اعلان کرنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی فوج کی نقل و حرکت ختم کرنے کے لئے بھارت نے ایسا اقدام اٹھایا تو پاکستان کے پاس سوائے ایٹمی حملہ کرنے کے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

دوسرا پاکستان کی فوج کو فوری طور پر چین سے ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر “Z-8” خریدنے کا معاہدہ کرنا چاہیئے, کیونکہ چین سے جتنی جلدی ڈیلیوری مل سکتی ہے کوئی اور ملک اتنی جلدی پاکستان کو ایسے ہیلی کاپٹر فراہم نہیں کرے گا، یہ ہیلی کاپٹر نہ صرف فوجیوں کی بڑی تعداد کو بھارتی بارڈر کے قریب چھوڑ سکتا ہے بلکہ بھاری اسلحہ بھی منتقل کر سکتا ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر نہ صرف جنگ میں کام آسکتا ہے بلکہ آئندہ قدرتی آفتوں یعنی سیلاب یا پھر زلزلے کے دوران لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

الحمداللہ پاکستان بھارت کی اس حکمت عملی کو سمجھتے ہوئے ایسی آرمرڈ گاڑیاں اور ٹینک تیار کر رہا ہے جو سیلاب زدہ علاقوں سے ہوتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے بارڈر تک جا سکتے ہیں، مگر یہ مستقل حل نہیں، ایسے حالات میں ٹینکوں اور آرمرڈ گاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایٹمی حملہ بھی اس کا حل نہیں۔

پاکستان کو بھی آبی ہتھیار کا مقابلہ آبی ہتھیار سے کرنا ہوگا، پاکستان کو نئے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ بھارت جب پانی چھوڑے تو ہمارے پاس اتنی ڈیم موجود ہوں کہ ہم وہ پانی محفوظ کر لیں تاکہ پورے ملک میں پانی کو پھیلنے سے روکا جا سکے، پھر وہی پانی ہم پاکستان کی خوشحالی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here