پاکستانی عدالتوں میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتواء ہیں۔

0
720

سنا ہے آج وہ خاتون فوت ہوگئیں جس نے ن لیگی ایم این اے کی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انصاف نہ ملنے پر خود سوزی کر لی تھی۔ 

179 میگا کرپشن کے کیسز پنڈنگ۔ 
11000 دہشت گردی کے مقدمات پنڈنگ۔ 
800 میڈیا میں ہونے والی فحاشی کے خلاف مقدمات پنڈنگ۔
100 سے زائد توہین مذہب کے کیسز پنڈنگ۔

پاکستانی عدالتوں میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتواء ہیں۔

ہر قسم کے ظلم کا اصل اور حقیقی ماخذ آپ کا عدالتی نظام ہے۔ اسکی اصلاح نہ کی گئی تو یہ پورے معاشرے کو لے ڈوبے گا۔

میرے خیال میں مندرجہ ذیل اقدمات سے اس نظام کی اصلاح ممکن ہے۔

1۔ اپیل کا خاتمہ۔
جج یا قاضی پر یہ اعتماد ہونا چاہئے کہ وہ دئیے گئے شواہد پر درست فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گواہ کمزور اور شواہد دھندلے پڑ جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے جج کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ تسلیم کیاجانا چاہئے جس کے خلاف کہیں بھی اپیل کا حق نہ ہو۔

2۔ سٹے آرڈر کی زیادہ سے زیادہ مدت کی حد۔
کسی بھی مقدمے میں سٹے آرڈر کی زیادہ سے زیادہ مدت مقرر کی جائے جو کسی بھی طرح تین ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔

3۔ حدود کا نفاذ۔
جن جرائم کی اسلامی سزائیں مقرر ہیں ان میں مذکورہ سزائیں دی جائیں۔ جیسے چوری ثابت ہونے پر ہاٹھ کاٹا جائے۔

4۔ ضامن کو سزا۔
پاکستان میں ضمانت ملنا بری ہونےکے مترادف ہے۔ اس لیے مالی معاملات کے علاوہ ہر مقدمے میں صرف شخصی ضمانت ہی قبول کی جائے اور ملزم کے حاضر نہ ہونے پر ضامن کو مذکورہ سزا دی جائے۔
مالی معاملات میں اتنی ہی مالیت بطور ضمانت جمع کروائی جائے جتنی مالیت کا کیس ہے۔ مثلاً اگر ڈاکٹر عاصم پر 479 ارب روپے کی خرد برد کا الزام ہے تو ضمانت حاصل کرنے کے لیے اس کو اتنی ہی رقم بطور ضمانت جمع کروانی ہوگی۔

5۔ جج کے صوابدیدی اختیارات میں لامحدود اضافہ۔
کسی شخص کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کا تعئن اندھے بہرے قوانین کو نہیں بلکہ جج کو کرنا چاہئے۔ اس لیے جج یا قاضی کے صوابدیدی اختیارات میں لامحدود اضافہ کیا جائے۔
نہایت احمقانہ انداز میں فیصلوں کو انصاف کے بجائے قانون کا تابع کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جرم سامنے دیکھ کر بھی جج فیصلہ کرنے سے معذور ہیں۔

6۔ وکلاء کا کردار محدود کرنا۔
وکلاء خون چوسنے والی جونک کو طرح انصاف کے طالب کو چمٹ جاتے ہیں۔ اور مختلف ہتھکنڈوں سے کیس کو لمبا کر دیتے ہیں یوں انصاف کے عمل میں روڑے اٹکاتے ہیں۔
وکلاء کو بھی ججز کی طرح سائلین سے براہ راست ملنے سے روک دیا جائے۔ ان کو کام اور اسکی فیس حکومت کی طرف سے ملے۔ فیس فیصلہ ہونے کے بعد۔
اس کے نتیجے میں وکلاء کیسزز نمٹانے میں جلدی کرینگے اور انکی من مانیاں کم ہوجائنگی۔

7۔ قوانین کی از سر نو تشکیل۔
قوانین کی بتدریج ازسر نو تشکیل جو اتنے سادہ ہوں کہ ایک عام شخص ان کو ایک نظر دیکھ کر سمجھ سکے۔ ان کی تشریحات اور ضمنی تشریحات نہ کرنی پڑیں۔
مبہم اور غیر واضح قوانین کی وجہ سے وکلاء کے لیے آسان ہوتا ہے کہ ان میں کیڑے نکال کر یا انکی اپنی مرضی کی تشریحات کر کے انصاف کے عمل کو سست کر سکیں۔

میں نے تو سات نقاط لکھے ہیں لیکن آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر ان میں سے ایک دو نقاط پر بھی عمل کر لیا گیا تو آپ کو انصاف ہوتا ہوا نظر آئیگا ۔۔۔ 

کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہ ہوجائے اس لیے انصاف کے عمل کو بنی اسرائیل کی گائے کی طرح پیچیدہ بنا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک باطل اور احمقانہ ںظریہ ہے۔ اسی کے نتیجے میں پورا معاشرہ اس وقت ایک زبردست بے انصافی اور ظلم کی زد میں ہے۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔ میں کوئی ماہر انصاف نہیں۔ ماہرین یقیناً اس سے بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔ بشرط کہ نیت ہو۔۔۔۔۔ !

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here