پانامہ لیکس اور مولانا فضل الرحمن ۔۔۔

0
1538

پانامہ لیکس اور مولانا فضل الرحمن ۔۔۔ !

مولانا فضل الرحمان نے پانامہ لیکس کا جیسے فائدہ اٹھایا ہے شائد ہی پاکستان میں کسی اور کو اتنا فائدہ ہوا ہو۔ 

6 اپریل کو مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “وکی لیکس ہو یا پاناما لیکس،لیکس آتے رہتےہیں، اسے نارمل لینا چاہیے،مال جائز بھی ہو تو ملک میں ہونا چاہیے تاکہ خوش حالی آئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کمیشن بنادیا ہے اس کی تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے۔”
اس کے فوراً بعد انکی نواز شریف سے ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد 8 اپریل کو ایک اوربیان میں فرمایا کہ
” پاناما لیکس ایک عالمی سازش ہے اور جے یو آئی پوری طرح وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تنقید کرنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم نوازشریف کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔”
اس بیان کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی مولانا ضیاء الرحمٰن کو گریڈ 18سے گریڈ 20 میں ترقی دے کر کمشنر افغان مہاجرین تعینات کر دیا گیا۔ مولانا ضیاء الرحمن اس سے پہلے بطور ڈی سی او خوشاب پنجاب حکومت کے لئے خدمات انجام دے رہے تھے۔ کمشنر افغان مہاجرین کی آمدن گریڈ بیس کے سو افسروں کی جائز اور ناجائز کل آمدن سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پاناما لیکس نے مولانا کے بھائی کی قسمت چمکا دی۔

اس وقت مولانا صاحب کوشش فرما رہے ہیں کہ نواز شریف ان کے صاحبزادے کو کوئی سرکاری عہدہ دیدیں۔ شائد اس حوالے سے جلد ہی کوئی خوشخبری سننے کو ملے۔ مولانا اب بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخواہ میں قائم تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرکے وہاں جمیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت قائم کی جائے۔

مولانا کشمیر کمیٹی کے چیرمین ہیں اور ان کے پاس دو وزارتیں ہیں۔ جن میں ھاؤسنگ کی وزارت نہایت اہم ہے۔
جو لوگ اسلام آباد میں سرکاری ملازمین ہیں وہ اس بات سے واقف ہونگے کہ اکرم خان درانی صاحب نے سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کا ریٹ کم سے کم 10 لاکھ روپے مقرر کر رکھا ہے۔ ڈی اور ای ٹائپ کے گھروں کا اس سے زیادہ ہے۔ ان میں سے آدھی رقم مولانا فضل الرحمن صاحب کے جیب میں جاتی ہے۔

فلحال مولانا فضل الرحمان کے طمع اور خود غرضی کےکم ہونے کے آثاردور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here