وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

0
304
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ دیے، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز “ابراہم لنکن CN-72” کے حد ممکن قریب جانا ہے اور اسے اپنے ہدف کا نشانہ بنانا ہے. دوسری جانب امریکی بحریہ کو ہدف دیا گیا کہ انہیں ان پاکستانی جنگجو ہوابازوں کا سراغ لگانا ہے تاکہ بیڑے پر موجود (F-14s) جنگی طیارے انہیں قریب آنے سے پہلے مصنوعی طور پر مار گرائیں.

دونوں حریفوں کو اپنا لائحہ عمل کے انتخاب میں مکمل آزادی حاصل تھی. امریکی بحریہ انتہائی پُراعتماد تھی کہ وہ پاکستانی میراج طیاروں کو آسانی سے مار گرائے گی، اس اعتماد کی اہم ترین وجہ ان کے پاس موجود ریڈار اور دوسرے آلات تھے جو پاکستان کے پاس موجود کسی بھی ٹیکنالوجی سے بالاتر تھے. اُن کی حیرت کی انتہا اُس وقت نہ رہی جب ٢ میراج طیارے نہ صرف اِن کے قریب آئے بلکہ بیڑے کی بلائی سطح کے نیچے سے فراٹے بھرتے گزر کر فضاء میں بلند ہوئے.

پاکستانی جنگجو ہوابازوں نے انتہائی خطرناک سمندر کی سطح کے قریب اور ریڈار کی شعاؤں کے نیچے رہ کر پرواز کی اور اُنھوں نے اپنی تعداد کو تقسیم کر کے امریکیوں کو دھوکہ دیا کہ شاید وہ دوسری جانب سے حملہ کریں گے. اور جب اُنہیں اِن ٢ طیاروں کا احساس ہوا اُس وقت وہ اتنے قریب آچکے تھے کہ تب تک اُنہیں مار گرانے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی. اور اس مشق نے امریکیوں کے افسرانِ بالا کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا.

واقعہ وقت/تاریخ : سہ پہر ٣ بجے، ٣٠ مئی سنہ ١٩٩٥
نام جنگجو ہواباز:
ونگ کمانڈر عاصم سلیمان (لیڈر اور او-ایس سکواڈ نمبر ٨)
فلائٹ لفٹیننٹ احمد حسن (ونگ مین)

“اسپائڈر الارٹ” مشقوں کے دوران


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here