وہاں کل 40 پاکستانی فوجی تھے جبکہ امریکن فورسز اور ان کے ساتھ موجود سول کپڑوں میں ملوبس جنگجوؤں کی تعداد 100 سے اوپر تھی۔ 

0
2964
سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملہ….. دوسرا رخ۔۔۔ !

سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ اور پاک فوج کے 28 جوانوں کی شہادت کہانی کا صرف ایک رخ ہے۔ کچھ پاکستانی عسکری ذرائع، افغانستان میں موجود نیٹو فورسز اور کچھ امریکن دفاعی تجزیہ نگار اس کہانی کا ایک اور رخ بھی بتاتے ہیں۔ جو امریکنز کے فضائی حملے سے پہلے پاک فوج اور امریکن سپیشل فورسز کے درمیان ایک خونریز جھڑپ کی کہانی ہے۔ 

چھبیس نومبر 2011 کو جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب امریکی سپیشل فورسز ( امریکن کمانڈوز) کا ایک بڑا دستہ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے پاکستانی سرحد کے قریب اترا۔

ہیلی کاپٹر کی آواز سن کر پاک فوج الرٹ ہوگئی فوری طور پر علاقے میں گشتی پارٹیاں بھیج دیں۔ اسی دوران امریکن سپیشل فورسز کی ٹیم سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہوئی تو سامنے پاکستانی فوجی تیار کھڑے تھے اور جنہوں نے پاکستانی سرحد کے اندر 600 میٹرز تک گھس جانے والے امریکن فورسز پر حملہ کر دیا۔ یوں ایک خونریز جھڑپ شروع ہوگئی۔

وہاں کل 40 پاکستانی فوجی تھے جبکہ امریکن فورسز اور ان کے ساتھ موجود سول کپڑوں میں ملوبس جنگجوؤں کی تعداد 100 سے اوپر تھی۔

زبردست جانی نقصان کے بعد امریکی دستے نے فضائی مدد طلب کی جس کے بعد امریکن گن شپ ہیلی کاپٹرز اور جیٹ طیاروں نے موقع پر پہنچ کے وہاں موجود پاک فوج کی دونوں چیک پوسٹوں پر شدید فائرنگ اور گولہ باری کی جس سے اکثر پاکستانی فوجی شہید ہوگئے اور دونوں چیک پوسٹیں تباہ ہوگئیں۔

اس فضائی حملے میں امریکہ کے دو اپاچی ہیلی کاپٹرز، ایک اے سی ون تھرٹی گن شپ ہیلی کاپٹر اور دو ایف 15 ایگل نامی لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔

اس ساری جھڑپ میں 56 امریکی اور سول کپڑوں میں ملبوس 24 دہشت گرد (مبینہ طور پر ٹی ٹی پی ) ہلاک ہوئے جس میں کئی این ڈی ایس کے اہلکار تھے جنہیں فضائی حملے کے بعد امریکی ہیلی کاپٹر اٹھا کر لے گئے۔ امریکن اپنے پیچھے اپنا سارا سامان چھوڑ گئے تھے جو صبح مقامی قبائل نے پہنچ کر اکھٹا کیا اور پاک فوج کے حوالے کیا۔

مقامی قبائل نے امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی انہیں یقین تھا کہ پاک فوج کے جوان انہیں امریکن حملے سے بچاتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔

نیٹو کے ترجمان تصدیق کر چکے ہیں کہ علاقے میں امریکن فوجی دستے موجود تھے اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کے جواب میں امریکن ہیلی کاپٹرز طلب کیے تھے۔

آئی ایس اے ایف ( ایساف) کے ترجمان نے بھی انہی دنوں یہ انکشاف کیا تھا کہ نیٹو ایساف فضائی حملہ دراصل علاقے میں موجود ایساف کی گراؤنڈ فورسز پر ہونے والے حملے کے جواب میں تھا۔

امریکن فورسز کا مشن سرحد کے قریب ایک پاکستانی گاؤں پر شب خون مارنا اور سول کپڑوں میں ملبوس داڑھیوں اور پگڑیوں والے کچھ لوگوں کو پاکستانی سرحد پار کرانا تھا۔

اسکی تفصیل باب ووڈ ورڈز کی اپنی کتاب “دی اوباما وراز” میں موجود ہے۔

لیکن اس سارے معاملے میں ایک پس منظر بھی ہے جس کو مختصرا سمجھ لیں۔

جنرل کیانی نے حقانی نیٹ ورک سمیت ان طالبان کے خلاف کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا جو پاکستان سے جنگ نہیں کر رہے۔ اس معاملے میں پاک فوج کا موقف تھا کہ امریکہ اپنی جنگ خود لڑے پاکستان اپنے لیے مزید دشمن پیدا نہیں کر سکتا۔

پاک فوج کے اس کورے جواب کے بعد امریکہ نے فوری طور پر مہمند ایجنسی سے متصل افغان صوبے کنٹر سے اپنی چوکیاں ختم کر دیں جس کے بعد اچانک وہاں سے مہمند، باجوڑ اور مالاکنڈ میں پاک فوج پر حملے شروع ہوگئے۔

جواباً پاک فوج نے علاقے میں اپنی نفری بڑھا دی اور کاروائیاں تیز کر دیں۔ اس علاقے میں دہشت گردوں کا اس حد تک صفایا ہوگیا کہ پاک فوج نے صحافیوں کی ایک ٹیم کو مہمند ایجنسی کا دورہ بھی کرایا۔

ایسے ہی ایک دورے کے دوران میجر جنرل نادر زیب خان نے سلالہ چیک پوسٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ چیک پوسٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں کنٹر سے پاکستان میں گھسنے والے دہشت گردوں پر اچھی طرح نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہ پوسٹ بڑی مشکل سے قائم کی گئی ہے اور اس تک لاجسٹکس پہنچانا بھی ایک بہت مشکل کام ہے۔

صحافیوں کے اسی دورے میں پاک فوج کی مقامی قیادت نے شکایت کی کہ کنٹر سے پاکستان میں حملے کرنے والے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں سے ہم بارہا امریکنز کو آگاہ کر چکے ہیں لیکن وہ ان کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے پر تیار نہیں۔

امریکن فورسز کا دعوی ہے کہ انکی فورسز پر حملہ افغان سرحد کے اندر کیا گیا تھا۔ جبکہ پاک فوج ایسے کسی بھی حملے کو مسترد کرتی ہے۔ پاک فوج کا دعوی ہے کہ ہماری فوجیوں پر اس وقت امریکنز نے پاکستانی حدود کے اندر حملہ کیا جو وہ آرام کر رہے تھے۔

پاک فوج نے امریکنز کو چیلنج کیا تھا کہ اگر ان کے فوجی مرے ہیں تو انکی لاشیں کہاں ہیں؟
امریکنز کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ اپنے مرے ہوئے فوجیوں کو ایک بار اٹھانے کے بعد دوبارہ پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان میں ڈالتے ۔۔۔ 

امریکنز اس علاقے سے اپنی چوکیاں ختم کروا چکے تھے تب رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحد کے قریب وہ کیا کر رہے تھے؟

پاک فوج کا موقف ہے کہ امریکنز کو پاکستانی کی اعلی عسکری قیادت کی جانب سے حملہ روکنے کا کہا گیا تب بھی انکا حملہ کافی دیر تک جاری رہا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکن فورسز کو پہنچنے والے بے پناہ جانی نقصان کے جواب میں امریکن ائر فورس کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ ممکن حد تک وہاں موجود پاک فوج کو ختم کیا جائے۔

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here