وکلاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

0
502

وکلاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

وکالت کا پیشہ انسان کو ظالم، ضدی، بے مہر اور بے اصول شخص بنا دیتا ہے۔ وکیل ایک غیر جذباتی اور قانونی موقف اختیار کرتے ہیں اور ہر چیز کو اپنے موکل کی صفائی اور حمایت کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور قانون کے فلاح عامہ کے پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اپنے موکل کی بریت ثابت کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور ہر قیمت پر اسے رہا کرانے کی کوشش کرتے ہیں اس مقصد کے لیے وہ قانون میں کیڑے نکالتے ہیں اور عدل وانصاف کی وقعت اور اہمیت کو کم کر دیتے ہیں۔

مبہم قوانین اور ججوں کی کارکردگی کے بعد وکلاء انصاف کے عمل کو سست کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔

انصاف کے عمل میں وکلاء کا کردارمحدود کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ وکلاء کو بھی ججوں کی طرح سائلوں سے براہ راست ملنے سے روک دیا جائے انکو کام حکومت کی طرف سے ملے اور وہ پیش کی گئی رپوٹوں کی روشنی میں بحث کریں۔ کام کا معاوضہ کیس نمٹ جانے کے بعد۔

امید ہے اس کے نیتجے میں وکلاء کا کیس کو لٹکا کر سائل سے کسی خون چوسنے والی جونک کی طرح عمر بھر کے لیے چمٹ جانے کا سلسلہ بند ہوجائیگا۔ وہ جلدی کام نمٹانے کی کوشش کرینگے نتیجے میں انصاف کا عمل خود بخود تیز ہوجائیگا۔
اسکا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ زیادہ پیسے لے کو مخالف پارٹی کو جتوانے کی جو گندی عادت وکلاء میں پائی جاتی ہے اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔!!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here