ونگ کمانڈر محمد عاصم پراچہ پاکستان ائرفورس کا انتہائی قابل فخر ہوا باز تھا

0
1160

جھپٹنا‘ پلٹنا‘ پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
آخری پرواز

اللہ نے اسے چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسس عطا کیا تھا۔ وہ جوان رعنا تھا۔ وہ ایک خاص رعنائی اور شان دلربائی کےساتھ جب اپنے میراج طیارے میں ٹیک آف کرتا تو ائربیس پر اسے رخصت کرنےوالے مسرت و حیرت سے اپنے منہ میں انگلیاں دبا لیا کرتے تھے اور لمحوں میں وہ آسماں کی وسعتوں میں گم ہو جاتا۔ زمیں کی تنگی و تنگ دلی سے نکل کر اسے آسمان کی بلندی میں بہت خوشی محسوس ہوتی تھی۔ وہ اکثر پرواز پر روانہ ہونے سے پہلے اپنی ماں کو فون کرتا اور اسکی ماں ہمیشہ اسے ڈھیرں دعائیں دیتی

اور یہ دعا دینا تو کبھی نہ بھولتی۔
اے رب! اپنے شاہین کی خود حفاظت کرنا!
ونگ کمانڈر محمد عاصم پراچہ پاکستان ائرفورس کا انتہائی قابل فخر ہوا باز تھا۔ پاکستان کے شاہینوں کی تربیت کا بنیادی نقطہ وہی ہے جسے مصور پاکستان علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے۔
جھپٹنا‘ پلٹنا‘ پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

ونگ کمانڈر عاصم کو 1994ءمیں ائرفورس میں کمشن ملا۔ رسالپور ائرفورس اکیڈمی میں اس نے کامیابی کے ساتھ ساڑھے تین سالہ تربیت مکمل کی۔ بلندیوں کی طرف بڑھنا اور بڑھتے چلے جانا تو گویا عاصم کی گھٹی میں تھا۔ اسکی رگوں میں دوڑتا پھرتا گرم ہوا سے ہر لمحے آگے بڑھنے پر مائل کرتا رہتا تھا۔ عاصم کو ایک کے بعد ایک ترقی ملتی گئی۔ ہر نئی ترقی اور پہلے سے بڑا رتبہ اسکی شخصیت میں سر کشی اور غرور کے بجائے مزید عاجزی پیدا کر دیتا تھا۔ وہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر تھا کہ جتنا شکر ادا کروگے اتنا اور دوں گا۔ وہ ہر وقت اپنے مولا‘ اپنے وطن اور اپنے والدین کے گن گایا کرتا تھا۔ ہوا بازوں کی زندگی کا اہم ترین کورس ”جنگی کمانڈر کورس“ ہوتا ہے۔

سرگودھا ائرفورس کا جنگی کمانڈر سکول ساری دنیا میں مشہور ہے۔ پاکستانی ہوا بازوں کےلئے یہ کورس اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے پائلٹ کے مستقبل کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ شاندار کامیابی حاصل کرے تو اس پر ترقی کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور اگر وہ ناکام ہو جائے تو پھر وہ سکواڈرن لیڈر کے عہدے سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

عاصم نے اس کورس میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ اسے سکواڈرن لیڈر کے ونگ کمانڈر بنا دیا گیا۔ عاصم کی ایک کامیابی پر سارا خاندان اور اسکے دوست احباب بہت خوش تھے۔ کبھی عاصم سے پوچھتے کہ تمہیں دوران پرواز ڈر نہیں لگتا تو عاصم حیرت سے تکتا اور کہتا یہ آپ کیسی بات پوچھ رہے ہیں۔ دوران پرواز مجھے کبھی ڈر محسوس نہیں ہوا۔ اسکی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ طیارہ اڑانے میں جو لطف ہے وہ دنیا کی کسی اور سواری میں نہیں۔ گاڑیاں بھگانے اور گھوڑے دوڑانے والوں کو اگر کبھی یہ معلوم ہو جائے کہ جہاز اڑانے اور آسمان کی بلندیوں سے کھو جانے میں کیا مزہ ہے تو وہ گاڑیاں اور گھوڑے دوڑانا بھول جائیں۔ دوسرے میں اپنے وطن کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کےلئے پرواز کرتا ہوں اس لئے ڈر کس بات کا

عاصم نے بالکل سچ کہا۔ پرواز کے ایسے خوگروں کےلئے ہی تو اقبالؒ نے کہا تھا۔
خوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیں موت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیں
اسکی ایک بار کراچی میں میراج سکواڈرن انچارج کی حیثیت سے پوسٹنگ ہوئی۔

۔ 19 اکتوبر کی صبح عاصم جنگی مشق کے قائد کی حیثیت سے دو جہازوں کی قیادت کرتے ہوئے اپنی روایتی رعنائی اور شان دلربائی کے ساتھ پی اے ایف سے مائل پرواز ہوا۔ وہ مشن کی ٹھیک ٹھیک سربراہی اور رہنمائی کر رہا تھا۔ اچانک اسکے جہاز میں کوئی فنی خرابی واقع ہوئی۔ جہاز کے کنٹرول سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ عاصم نے کنٹرول کو اطلاع دی۔ انہوں نے حفاظتی چھتری کے ذریعے چھلانگ لگانے کو کہا۔

عاصم کے پیچھے آنےوالے جہاز کے ہوا باز نے گھبرا کر کہا۔ سر! جلدی کریں۔ حفاظتی کرسی میں چھلانگ لگا دیں۔ عاصم نے چند آخری لمحوں میں ایک بار پھر جہاز کے کنٹرول کو بحال کرنے کی کوشش کی مگر سسٹم بحال نہ ہوا۔ عاصم نے چھلانگ لگا دی مگر اس کا پیرا شوٹ نہ کھل سکا اور یوں عاصم کی وہ آرزو پوری ہو گئی جو پاکستان کے ہر مسلمان ہوا باز کی دلی خواہش ہوتی ہے۔ عاصم کو شہادت کا مرتبہ نصیب ہو گیا۔ زندگی اور موت کے ہمارے پیمانے آسمانی پیمانوں کے مختلف ہیں۔ ہمارے پیمانوں کےمطابق عاصم نے آگے جانے میں بہت جلدی کی۔

اسکی وفا شعار بیوی ابھی جواں سال ہے۔ اسکی تین پھول سی بچیاں کمسن ہیں۔ انکی اپنے والد سے محرومی دنیاوی اعتبار سے بہت بڑی محرومی ہے۔ عاصم کے والد ائرکمو ڈور (ر) محمد صابر پراچہ اور بہن فرحت پراچہ اور عاصم کے سسر گروپ کیپٹن سجاد احمد اور بیگم سجاد نے پہاڑ سے بڑے اس صدمے کو نہایت صبر اور حوصلے کےساتھ برداشت کیا۔ آنسو ان کی آنکھوں سے اور خاندان کے تمام افراد کی آنکھوں سے رواں دواں تھے مگر سب کی زبانوں پر ایک ہی جملہ تھا ایک ہی کلمہ تھا۔ اے میرے پروردگار ہم تیرے فیصلے پر راضی ہیں تو بھی عاصم سے اور ہم سب سے راضی ہو جا۔

صدمے کی اس گھڑی میں پاکستان ائرفورس نے جس اپنائیت سے سوگوار خاندان کےساتھ اظہار ہمدردی کیا وہ بہت سے بے مثل تھا۔ عاصم کی نماز جنازہ حادثے کے اگلے روز اسلام آباد کے پی اے ایف کمپلیکس کے وسیع و عریض میدان میں ادا کی گئی۔ عاصم کے تابوت کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔ اسکی ٹوپی اور اسکے میڈل تابوت پر لگائے گئے تھے۔ نماز جنازہ میں ائروائس چیف سے اور انکے علاوہ سینکڑوں افسروں اور ائرمینوں نے شرکت کی۔ اہل خاندان اور اعزہ و احباب بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔

اس موقع پر پی اے ایف مسجد کے خطیب نے عاصم شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کےلئے دعائے مغفرت کی۔
عاصم کی نماز جنازہ اور تدفین کے موقعے پر پورے فوجی اعزاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عاصم کے تابوت کو ائرفورس کے جوانوں کے ایک چاق و چوبند دستے اور فوجی وردی میں ملبوس ہر شخص نے سلامی دی۔

تاہم پی اے ایف کے افسران کے جس جذبے نے مجھے بہت متاثر کیا وہ یہ تھا کہ وہ عاصم کے والد ائرکمو ڈور (ر) صابر پراچہ اور گروپ کیپٹن سجاد احمد سے یوں اخلاص و اپنائیت سے تعزیت کر رہے تھے جیسے عاصم ان کا کوئی اپنا قریبی عزیز ہو۔ سابق ائرچیف کلیم سعادت اور قیصر شاہ بھی تعزیت کےلئے آئے ونگ کمانڈر عاصم شہید کے سینکڑوں افسران اور جونیئر پرسہ دینے آئے۔

سکواڈرن لیڈر شمس گوندل اپنے فضائی انسٹرکٹر عاصم کےلئے سراپا تعریف و توصیف تھے۔ شمس نے کہا کہ ونگ کمانڈر عاصم پراچہ نے ہمیں بہترین فنی تربیت دی۔ جنگی و فنی مشقوں میں دوران پرواز ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کو سینئر تربیت کاروں کے سامنے نمایاں نہ کرتے مگر واپس زمین پر پہنچ کر ہمیں ایک طرف لے جاتے اور بڑی سخت گرفت کرتے ایسی گرفت کہ پھر ہم ایسی غلطی کبھی نہ دوہراتے۔ شمس کا کہنا تھا کہ سرعام صرف پیشہ ورانہ تربیت پر ہی اکتفا نہ کرتے بلکہ ہماری اخلاقی تربیت بھی کرتے اور ہمیں فیضان نظر کی دولت سے بھی مالا مال کرتے۔ وہ خود پکے نمازی تھے اور ہمیں بھی نماز ادا کرنے کی تلقین کرتے تھے۔

شمس نے بتایا کہ عاصم آٹھویں سکواڈرن کے تربیت یافتہ اور اعزاز یافتہ ہوا باز بھی تھے ان ہوا بازوں کا کام ساحلوں اور سمندروں کی حفاظت ہوتا ہے۔ ایسے ہوا بازوں کو ”حیدر“ کا لقب عطا کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سر عاصم شہید ہی نہیں ”حیدر“ بھی تھے۔ میں نے سکواڈرن لیڈر شمس سے پوچھا کہ عاصم نے پہلی ہی کال پر جہاز سے چھلانگ کیوں نہ لگا دی۔ شمس نے کہا کہ یہ ہوا باز کی صوابدید پر ہوتا ہے۔

عاصم کے ہونہار اور پرجوش شاگرد نے سوگوار اور بوجھل ماحول کو قدرے خوشگوار بناتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے ہیر وارث شاہ پڑھی ہے۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو شمس نے یہ مصرع پڑھ دیا۔ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی اس نے کہا کہ اچھے ہوا باز اپنے طیاروں سے بہت پیار کرتے ہیں اور خود طیارہ بن جاتے ہیں۔ وہ آخری لمحے تک اپنے جہاز کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخری کوشش کے بعد

جب عاصم نے جہاز سے چھلانگ لگائی تو تاخیر تو نہ ہوئی تھی مگر بدقسمتی سے پیرا شوٹ نہ کھل سکا اور یوں عاصم شہادت کا حقدار ٹھہرا۔ جہاز کو بچانے کی آخری کوشش کے دوران عاصم کے حاشیہ خیال میں یہ بات نہ ہو گی کہ وہ اور اس کا جہاز چونکہ یک جان دو قالب تھے اس لئے قدرت کے فیصلے کے مطابق جہاز اور ہوا باز کی یہ آخری پرواز قرار دے دی گئی ہے۔ اس آخری پرواز کے صلے میں اللہ نے عاصم کو شہادت کی نعمت سے سرفراز کیا۔ اللہ اس کی شہادت کو قبول کرے۔ آمین ….ع
صلہ شہید کیا ہے‘ تب و تاب جاودانا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here