نیشنل ایکشن پلان کے چند حقائق

0
293

نیشنل ایکشن پلان کے چند حقائق

میڈیا کا نمبر گنتی میں اگلے سرے پہ ہے. سیاست میں کچرے کی صفائی کے بعد اگلا نمبر میڈیا کو گندے عناصر سے پاک کرنا ہے. مولویوں کا نمبر سب سے آخر پہ تھا مگر پیڑے طریقت راہزانِ شریعت نا مولا نا صاحب جناب خادم رضوی کے طفیل یہ کام لگے ہاتھوں سب سے پہلے ہو گیا اس لیے کہ نیت اچھی ہو تو کام سنور جاتے ہیں

نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسے تمام مولویوں کو لگام ڈالی جانی تھی جو دین کے نام پر ریاست کو یرغمال بناتے ہیں یا ملک میں فرقہ واریت پھیلاتے ہیں. لیکن یہ کام لسٹ میں سب سے آخر پہ تھا. فہرست کی ترتیب اس طرح تھی کہ پہلے سیاست دان پھر فوج، پھر عدلیہ، پھر میڈیا پھر مولوی

یعنی سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور مذھب میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی ہو گی. یہ نیشنل ایکشن پلان کا خلاصہ تھا. اور اس پہ حکومت اپوزیشن عدلیہ اور فوج سمیت تمام سٹیک ھولڈرز متفق ہوئے تھے

بعد ازاں فوج نے اپنا کام جاری رکھا مگر ن لیگ کی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پہ غیر سنجیدگی دکھانی شروع کر دی. آپ کو جنرل راحیل شریف کے الفاظ یاد ہوں گے کہ نیشنل ایکشن پلان کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روندتے ہوئے نکل جائیں گے. نئی حکومت میں سول ملٹری ریلیشنز بہترین تھے اور حکومت نیشنل ایکشن پلان پر سنجیدہ بھی تھی. لہٰذا صفائی کا کام شروع کر دیا گیا جو اب تک جاری ہے اور تک چلتا رہے گا.

رضوی والی مزاحمت کو جس طرح حکومت نے روکا اور سنبھالا اس عمل نے باقی کے شریر مولوی طبقے کو سبق سکھا دیا. رضوی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات دراصل صرف رضوی کے خلاف نہیں تھے بلکہ فضل الرحمان جیسے تمام شریر مولوی طبقے کےلیے ایک پیغام تھے کہ ریاست کو یرغمال بنانے کی کوشش جو بھی کرے گا نہیں بچے گا بے شک دین کا نعرہ جتنا مرضی اونچا لگا لے

کوئی اور وقت ہوتا فضل الرحمن اس وقت دس بارہ ہزار بندے لے کر سڑکیں بند کیے بیٹھا ہوتا. مگر وہ جانتا ہے کہ ریاست کے کاغذات میں اب ایسی کسی سرگرمی کی کوئی گنجائش نہیں نا ہی اس کی کوئی شرارت برداشت کی جائے گی. فضل الرحمان جیسے دین فروش طبقے اور فرقہ پرست طبقے کا نمبر نیشنل ایکشن پلان کی فہرست میں سب سے آخر پہ تھا. مگر درمیان میں خادم رضوی صاحب کود پڑے تو وہ کام جو فہرست میں سب سے آخر پہ تھا اوپر آ گیا اور الحمدللہ بہ خوبی نبٹایا گیا

لوگ شکوہ کرتے تھے کہ منظور پشتین کو گالیاں دینے کی آزادی کیوں دے رکھی ہے ؟؟؟

آزادی نہیں تھی، دراصل منظور پشتین فہرست میں کہیں بھی نہیں تھا. لیکن نیشنل ایکشن پلان کے ایجنڈے میں یہ بات شامل تھی کہ نسل پرستی کی بنیاد پر قومی اتحاد اور وحدت کو نقصان دینے والے تمام عناصر کے خلاف کارروائی ہو گی. اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی دونوں اس ایجنڈے کی زد میں آتے تھے لہذا وہ موقع کی تلاش میں تھے کہ کیسے مزاحمت کھڑی کر سکیں. یہ موقع انہیں منظور پشتین کے زریعے مل گیا.

محسن جاوید داوڑ عوامی نیشنل پارٹی یعنی اسفندیار ولی کا بندا تھا اور علی وزیر محمود اچکزئی کا خاص آدمی تھا. یہ دونوں منظور پشتین کے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے اسے استعمال کرنے کےلیے. منظور پشتین کو ڈھیل نہیں دی گئی تھی اسے موقع دیا گیا تھا کہ انہیں پہچانے جو اسے استعمال کر رہے ہیں. (وہ استعمال ہوتا رہا افغان لونڈوں کو ویسے بھی استعمال ہونے کا شوق ہوتا ہے) لہٰذا مناسب موقع پر اسے استعمال کرنے والے ریاست کی گرفت میں آ گئے. منظور پشتین خود کچھ بھی نہیں تھا سوائے ایک مہرے کے اصل ہاتھ اور تھے

اب ایک میڈیا ہے جو باقی ہے. اور نمبر اس کا بھی دور نہیں ہے. بہت جلد ان شاء اللہ میڈیا کے بڑے بڑے نام نیب کے روبرو پیش ہو کر بتا رہے ہوں گے کہ موٹر سائیکل سے لینڈ کروزر تک کا سفر کیسے طے کیا اور جھونپڑیوں سے کوٹھیاں کیسے بنیں

نیشنل ایکشن پلان کی ذد میں ہر وہ بندا آئے گا جس نے اس ملک کو نقصان دیا. وہ سیاست دان ہو، فوجی افسر ہو، بیورو کریٹ ہو، جج ہو، صحافی ہو یا مولوی جس جس نے بھی اس ملک کو نقصان دیا یا مستقبل میں دے سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس کا خاتمہ کیا جائے گا.

نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد آرمی کے چودہ اعلیٰ ترین افسران نے حلف دیا تھا کہ اب اسے لاگو کرنا ہے اور اگر اس پلان پہ عمل درآمد پہ ہم چودہ میں سے کوئی بھی رکاوٹ بنا تو اسے بھی ختم کر دیا جائے. جن چودہ سینئر ترین افسران نے اپنی موت پر پہ حلف اٹھایا تھا ان میں سے پہلے نمبر پر جنرل راحیل شریف خود تھے

یہ صفائی کا عمل ان شاء اللہ جاری رہے گا. آرمی چیف یا چیف جسٹس یا وزیر اعظم کوئی بھی ہو یہ پلان ان شاء اللہ جاری رہے گا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا یہی فیصلہ تھا کہ کچھ بھی ہو جائے ہر اس وجہ کو جڑ سے ختم کرنا ہے جو پاکستان کو پیچھے لے جا رہی ہے. ہر شعبے میں کاروائی جاری ہے واحد میڈیا ہے جو بچا ہوا ہے مگر لکھ کے رکھ لیں کہ بچے گا یہ بھی نہیں
تحریر:
سنگین علی زادہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here