نواز شریف نے کھائے ہیں تو لگائے بھی تو ہیں۔ پھر کیوں نکالا ؟؟؟

0
1132

ایک شخص پر ایک لاکھ روپے قرضہ چڑھ گیا۔ 
گھر کے سودے سلف کے ضمن میں دکاندار کا الگ سے مقروض۔ 
بیوی بیمار تھی جس کے علاج کے لیے پچاس ہزار روپوں کی ضرورت تھی۔ 
بجلی کٹی ہوئی تھی کیونکہ دس ہزار روپے کا بل بقایا تھا۔ قرض پر ہی تیل خرید کر لالٹین جلاتا یا اشد ضرورت کے لیے گھر میں پڑا ہوا پرانا جنریٹر چلاتا۔ 
آمدن دس ہزار روپے جبکہ اخراجات بیس ہزار روپے ماہوار۔ 

پھر اس نے گھر کا سارا اختیار اپنے بیٹے کو سونپ دیا۔

بیٹے نے فوری طور پر گاؤں کے ساہوکار کے پاس گھر گروی رکھ دیا اور بدلے میں ایک لاکھ روپے قرضہ مزید لے لیا۔

بجلی کا بل جمع نہیں کیا۔ البتہ تیل والے کے بقایاجات ادا کر کے قرض پر مزید بہت سا تیل گھر لے آیا اور گھر والوں کو کھلا جنریٹر چلانے کی اجازت دے دی۔

ماں کا علاج نہیں کیا لیکن دوا دارو کے لیے دس ہزار روپے دے دئیے کہ بس زندہ رہے۔

چالیس ہزار کی اس نے عیاشی کر لی۔

اور باقی چالیس ہزار روپوں کا وہ آئی فون لے آیا۔ آئی فون میں مہینے کا تین ہزار روپے بیلنس پڑ رہا تھا۔

آئی فون میں مزے مزے کی گیمیں تھیں۔ کال پیکجز کروائے۔ اس کے سارے بہن بھائی آئی فون پاکر بہت خوش تھے۔

کچھ دنوں بعد اسکی چالیس ہزار روپے کی عیاشی کی خبریں بھی گھر آگئیں جس کے بعد اس کے باپ نے اسکو گھر سے نکال دیا۔

وہ چیختا رہا کہ میرا قصور کیا ہے؟؟

میری بدولت اس گھر میں لوگوں نے آئی فون کی شکل دیکھی ہے جو پڑوسیوں کے پاس بھی نہیں۔ میری بدولت اب جنریٹر زیادہ دیر چلتا ہے اور گھر میں زیادہ دیر روشنی رہتی ہے۔

میں نے اگر کھائے ہیں تو لگائے بھی تو ہیں۔ پھر بھی مجھے نکال دیا ۔۔۔ کیوں ؟؟

کیا آپ اس لڑکے کا قصور بتا سکتے ہیں ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ 

چلیں ایک اور مثال دیتا ہوں۔

پاکستان پر تقریباً پچاس ارب ڈالر قرضہ۔
آبادی کی اکثریت بیمار اور صحت کا بجٹ کم از کم سو ارب روپے سالانہ کرنے کی اشد ضرورت۔
ڈیموں کی شدید ضرورت۔ تیل کی مدد سے دنیا کی مہنگی ترین اور ناکافی بجلی پر ملک چلایا جا رہا۔
پاکستان کا اخراجات، آمدن سے دگنے۔

ان حالات میں اقتدار نواز شریف کو ملا ۔۔۔ ۔

اس نے فوی طور پر عالمی ساہوکاروں سے تیس ارب ڈالر کا مزید قرضہ لیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی اثاثے گروی رکھوائے۔

پانچ سے چھ ارب ڈالر میں کالاباغ جیسا کوئی بھی ڈیم بن سکتا تھا لیکن نواز شریف نے تقریباً پانچ ارب ڈالر تیل سے بجلی بنانے والی کمپنیوں کو ادا کر کے پاکستان کے لیے مزید تھرمل بجلی کا عارضی بندوبست کر لیا۔

صحت کا بجٹ سو ارب کے بجائے پندرہ سے بیس ارب روپے کے درمیان رکھا اور اس بجٹ میں سے بھی ہر سال چند ارب روپے کی کٹوتی کرتا رہا۔

البتہ میٹرو اور اورینچ ٹرین کے نام سے کم از کم ڈھائی سو ارب روپے کے منصوبے شروع کیے جس میں یہ بیمار عوام اے سی کے مزے لے سکتی ہے۔ ہاں یہ ہے کہ ان دونوں منصوبوں کو چلائے رکھنے کے لیے بھی سالانہ بارہ سے پندرہ ارب روپے قومی خزانے سے ادا کرنے ہونگے۔

عوام میٹرو اور اورینج ٹرین پاکر کافی خوش ہے۔

اتنے میں مختلف ممالک میں نواز شریف کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کا انکشاف ہوا جس پر اسکی نسلیں عیاشی کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اسکو نکال دیا۔

اب نواز شریف چیخ رہا ہے کہ میں نے اس ملک کو میٹرو اور اورینج ٹرین دی جو اڑوس پڑوس کے ممالک میں بھی نہیں۔ میری وجہ سے گھروں میں بجلی آئی۔ لیکن پھر بھی مجھے نکال دیا گیا ۔ آخر کیوں ؟؟؟

پٹواری کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے کھائے ہیں تو لگائے بھی تو ہیں۔ پھر کیوں نکالا ؟

ہے کوئی جواب؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here