نوازشریف کی سزا کے دن قریب آتے ہی مریم میڈیا سیل کا پراپیگنڈا سوا نیزے پر پہنچ چکا ہے
ابھی حالیہ سر مشرف کے انٹرویو کے مندرجات کو توڑ مروڑ کر ریاست مخالف بیان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے کہا کہ اگر میں صدر ہوتا تو شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دیتا جبکہ اصل میں یہ بیان کیا تھا غور سے پڑھیے
انٹرویو کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ اب ملک کے صدر ہوتے تو کیا وہ شکیل آفریدی کو رہا کردیتے ، جس پر پرویز مشرف نے کہا کہ ’ یہ معاملہ دو اور لو کی ڈیل کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، میرے خیال سے یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جو حل نہیں کیا جاسکتا

تاہم ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ہر قوم اپنے مفادات کے مطابق اپنی پالیسیاں بناتی ہے اور اس معاملے میں پاکستان کی پالیسی امریکا کے لیے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی تھی لیکن اگر واشنگٹن کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ بھی پاکستان کی طرح ہی پالیسی بناتا
شکیل آفریدی کے بدلے ملا فضل اللہ کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے، ہم اس ہیجانی کیفیت کو ختم کرسکتے ہیں جبکہ امریکا اور افغانستان سے ملنسار رویہ رکھ سکتے ہیں کیونکہ ہمیں مطلوب دہشت گردی وہاں (افغانستان) میں بیٹھا ہے اور ’ ملا فضل پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد ہے

نوٹ. (یہ ایک رئٹائرڈ جنرل کاجواب تھا اس سوال پہ کہ اگر وہ صدر ہوتے تو کیا کرتے انھوں نے اپنا اوپینین دیا) جمہوریے اس کو پاک فوج کے ترجمان کی حثیت سے کیسے لے سکتے ہیں
حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here