نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن آخری حصہ

0
1145
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الحاد کے پاس اخلاقی پیمانے مقرر کرنے یا کسی کام کے اخلاقی لحاظ سے صحیح یا غلط ہونے کا کوئی واضح تصور موجود نہیں ۔ در حقیقت وہ اس پر بات ہی نہیں کرتے ۔
یہ ہونا چاہئے اور یہ نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں ہونا چاہئے اور کیوں نہیں ہونا چاہئے کوئی جواب نہیں ۔ الحاد کی دنیا میں جھوٹ ، دھوکہ ، چوری غلط ہیں تو کیوں اگر صحیح ہیں تو کیوں ؟ ۔

الحاد کہتا ہے کہ ۔۔۔ “ہم معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور جھوٹ ، دھوکہ ، فریب وغیرہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں ۔”۔۔۔ لیکن یہ جواز یا دلیل ایک فرد واحد پر کیسے کام کرتی ہے ؟ اسکا الحاد کے پاس کوئی جواب نہیں ۔ جبکہ فرد واحد ہی معاشرے کی اکائی ہوتا ہے ۔

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن  حصہ اؤل 

نظریہ الحاد کے مطابق ۔۔۔ اس زندگی کے بعد کچھ نہیں ۔
تب عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی سے زیادہ سے زیادہ لذت کشید کر لیں۔ الحاد ہمارے اس مقصد کو غلط کیسے کہے گا ؟؟ لیکن اگر یہ مقصد صحیح ہے تو اگر ۔۔۔
کوئی انسان قانونی خطرے سے بچتے ہوئے چوری کر سکتا ہو تو کیوں نہ کرے ؟؟؟
ماں یا بہن سے شادی کیوں نہ کرے ؟؟؟
غیبت اور چغلی کیوں نہ کرے جبکہ وہ اس کے ذریعے اپنے مقابل سے آگے نکل سکتا ہے ؟؟؟
کسی مرے ہوئے صحت مند انسان کا گوشت کیوں نہ کھائے جبکہ وہ ضائع ہو رہا ہو ؟؟؟
وعدہ توڑنے میں خود کا کوئی نقصان نہ ہو تو کیوں نہ توڑے ؟؟؟
مرتے ہوئے بھوکے شخص کو کھانا کیوں دے ؟؟؟

الحاد مجھے یہیں بیچ میں روکتے ہوئے دوبارہ کہے گا کہ۔۔۔۔ ” ایک اچھے معاشرے کے قیام کے لیے ۔۔۔” تو میرا سوال پھر بھی وہیں کا وہیں رہے گا کہ ۔۔۔۔۔ ” اجتماعی مفاد پر انسان اپنا ذاتی مفاد کیوں قربان کرے ؟؟؟ جبکہ اسکے پاس صرف یہی زندگی ہے ؟؟؟ 
مجھے بتائیں یہ ” قربانی ” کیسے عقل کے خلاف نہیں ؟؟؟

یہاں وضاحت کر دوں کہ کوئی ملحد اچھے اخلاق کا حامل ہو سکتا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں ۔ مسئلہ “اختیار” کیے گئے اچھے اخلاقیات کا ہے ۔ یہ وہ اخلاقیات ہوتے ہیں جو کسی سبب سے اختیار کیے جائیں ۔ انکا ان اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں جو ہر انسان اپنی الگ فطرت کے ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے ۔

الحاد کے پاس یہ کہنے کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔ ” کہ لوگ خود ہی اخلاقی اقدار اپنائیں ۔ ” ۔۔۔ لیکن یہ فارمولہ صرف ان لوگوں پر کام کر سکتا ہے جو فطرتاً اچھے ہیں جو نہیں ہیں ان پر یہ فارمولہ کیسے کام کرتا ہے ؟ اسکا جواب نہیں ۔۔۔
وہ یہ سارا معاملہ انسانوں کی فطرت پر چھوڑنے پر مجبور ہیں جو نہایت خطرناک ہے ! کیوں خطرناک ہے ؟؟؟

ذرا اپنے ارد گرد نظر ڈالیے ۔ آپ کو دنیا میں جو جنگ و جدل اور فساد برپا نظر آرہا ہے اسکے پیچھے انسان کی فطرت میں موجود لالچ ، ھوس اور کینہ وغیرہ بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ یہ جنگ و جدل اور فساد اکثریت کی فطرت کا مظہر ہے ۔
اس فطرت کے مالک انسانوں کو آپ یہ بتارہے ہیں کہ۔۔۔ ” آپ کے پاس صرف یہی زندگی ہے لیکن “معاشرے کی بہتری” کے لیے آپ بہت سی چیزوں سے اپنا ہاتھ روک لیں ۔۔۔”

لاچ، ھوس اور کینے سے بھری فطرت کا مالک ، عقل کا پیکر یہ خود غرض انسان آپ کی بات کیوں مانے گا ؟؟؟
ڈارون اور کارل مارکس جنکے نظریات پر الحاد کی عمارت کھڑی ہے اس پر متفق ہیں کہ ۔۔” زندگی بقا کی جدوجہد ” ہے ۔ آپ ذرا غور کریں صرف یہ نظریہ ہی انسان کو ایک خوفناک قسم کا جارحانہ اور خودغرضانہ طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ اخلاقی پیمانے کون مقرر کرے گا ۔ کسی معاملے پر آپکا نقطہ نظر صرف آپکا نقطہ نظر ہے کسی اور کا مختلف ہوگا ۔ تو کس کا صحیح مانا جائیگا ؟؟؟ ۔۔

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن حصہ دوم

ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اخلاقی پیمانے انسانوں سے ہٹ کر کوئی ہستی مقرر کرے اور ان کے لیے انسان کو لازمً جواب دہ ٹہرائے ۔ وہ ہستی لازمً ایسی ہونی چاہئے جو انسان کی نیتوں تک کا حال جانتی ہو۔

اپنی بے بسی سے تنگ الحاد بعض اوقات ایسی وضاحتیں پیش کرنے لگتا ہے جس سے کچھ بھی درست ثابت کیا جا سکتا ہے 🙂
یا اپنی ناکامی تسلیم کیے بغیر زچ ہو کر فوراً یہ سوال کرتا ہے کہ ۔۔۔ ” اگر سچے ہو تو خدا کا وجود ثابت کرو ۔۔”

حالانکہ ہم بار بار یاد دہانی کرواتے ہیں کہ خدا کا وجود سائنسی نظریہ نہیں بلکہ اس پر ہمارا “ایمان” ہے اور ایمان ثابت شدہ چیزوں پر نہیں بلکہ غیب پر ہوتا ہے۔ البتہ الحاد اپنے نظریے کو سائنس کہتا ہے تو ثابت کر کے دکھائے ۔۔
الحاد کی اسی بے بسی نے ملحدین کی ایک ایسی قسم کو جنم دیا ہے جو خدا کا وجود تو تسلیم کرتے ہیں لیکن مذاہب کا انکار کرتے ہیں۔
میں نظریہ الحاد کے تمام پیروکاروں اور اس تحریر کے پڑھنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ۔۔۔ ” تم سب کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ص) اللہ کے رسول ہیں ” ۔۔۔تم کامیاب ہو جاؤگے ۔

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here