میں کل تک آلِ سعود پر تنقید کرتا تھا تو چند لوگوں شیعہ لگتا تھا۔ اب طارق جمیل پر اپنا نکتہ نظر دیا ہے تو چند کو دیو بندی لگنے لگوں گا۔ بھائی میں نہیں ہوں کچھ بھی بجز ایک مسلمان کے۔

0
1030

اظہارِ افکار
پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب مالک ان کی عمر دراز فرمائے ان سے کئی دفعہ نواز شریف نے ملنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ملاقات سے گریز کیا. پھر نواز شریف نے ان سے فون پہ رابطہ کی کوشش کی مگر وہ فون بھی نہ سن سکے. وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ مصروفیت تھی اور آپ میں سے جو لوگ انہیں جانتے ہیں یہ بھی جانتے ہیں کہ پروفیسر صاحب جھوٹ نہیں بولتے ہیں. مجھے نواز شریف سے پروفیسر صاحب کا یہ گریز انتہائی اچھا لگا. لیکن اس کے باوجود مجھے نہیں لگتا کہ طارق جمیل صاحب نے نواز شریف سے مل کر برا کیا۔
طارق جمیل صاحب کے نواز شریف سے ملنے پر میں نے بہتیرا سوچا کہ ایک نامی گرامی رسوا کن انسان سے مل کر کیوں اپنی رسوائی کا سامان کیا؟ میں نے خود سے پوچھا کیا طارق جمیل شہرت کےلیے ملے؟ مجھے جواب ملا نہیں شہرت تو ان کو ویسے ہی بہت مل چکی ہے اللہ کی طرف سے الٹا نواز شریف سے ملنا تو بدنامی ہے ان کی۔ میں نے خود سے پوچھا کیا سیاسی مقاصد کےلیے ملے؟ جواب ملا یار اگر تو انہوں نے ایم این اے یا ایم پی اے کا الیکشن لڑنا ہوتا تو شاید تیری بات درست ہوتی۔ پھر کیا دولت کےلیے میں نے پھر سے پوچھا؟ لیکن اس سوال پر مجھے اندر سے پھٹکار پڑی کہ یہ بالکل بودی سوچ ہے۔ جس بندے کا توکل رزق کے معاملے میں خدا پر ہو وہ نا تو لالچی ہوتا ہے نا ہی ایسے سودے کرتا ہے طارق جمیل ہیں فضل الرحمان تو نہیں نا۔
پھر کیوں ملے میں دیر تک سوچتا رہا سوچتا رہا سوچتا رہا۔ کہ ایسی متنازعہ شخصیات سے طارق جمیل پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ وینا ملک سے ملے جو بدنام زمانہ خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ عامر خان سے ملے جو فلم انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ حتی کے وہ چکلے پہ بیٹھی جسم فروش عورتوں سے بھی ملے پھر نواز شریف سے مل لیے تو کیا حرج ہے؟۔ سیاست میں وہ نواز شریف کے علاوہ عمران خان سے بھی ملے اور دیگر سیاستدانوں سے بھی ملے۔ کبھی یہ بات کسی کو نہ سوجھی کہ ان متنازعہ شخصیات سے یہ کیوں ملے۔
اب نواز شریف سے ملے ہیں تو اسی مقصد ملے ہیں جس مقصد کےلیے وہ دیگر ایسے لوگوں سے ملتے رہے ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ ایسے ہی موقع پر کیوں ملے ہیں جب نواز شریف زیرِ عتاب آیا ہوا ہے آگے پیچھے بھی تو مل سکتے تھے ؟ جب تک انسان فرعونیت سے بھرا ہوا ہو طارق جمیل جیسے لوگوں کو پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتا۔ جیسے ہی انسان رب کی بے آواز لاٹھی کی زد میں آتا ہے فورا اسے رب یاد آ جاتا ہے۔ طارق جمیل جیسے لوگ ان موقعوں کی تاک میں ہوتے ہیں۔ ان کو جوں ہی موقع ملتا ہے یہ نواز شریف جیسے فرعونوں کو رب کے حضور لا کھڑا کرتے ہیں کہ لے ربا میں نے پیش کر دیا آگے تو جان اور تیرا کام جانے۔
ویسے بھی قدرت ہر انسان کو ایک موقع دیتی ہے کہ جرائم سے پلٹ آئے۔ ہو سکتا ہے کہ طارق جمیل کی صورت میں اللہ نے نواز شریف کو آخری موقع دیا ہو کہ اپنے جرائم کا اعتراف کر کے معافی مانگ لے اور اسی دنیا میں سزا کاٹ کے میرے پاس لوٹے۔ رہی بات مشکلات سے نجات کی دعا کی تو نواز شریف کی سب سے بڑی مشکل تو اس کی کرپشن ہی ہے۔ یہ دعا مانگنے میں کیا قباحت ہے کہ یا اللہ نواز شریف کو کرپشن سے نجات دے اور کرپشن چھوڑ دے؟ اہم بات یہ نہیں ہے کہ طارق جمیل نواز شریف سے کیوں ملے اہم بات یہ ہے کہ نواز شریف اب اتنا گندا ہو چکا ہے کہ طارق جمیل جیسے انسان بھی ان سے ملیں تو ان پر حرف آنے لگتا ہے۔ لہٰذا یہ مت سوچیں کہ طارق جمیل یا کوئی مذھبی راہنما اگر نواز شریف سے ملتے ہیں تو نواز شریف گنگا میں اشنان کر کے پوتر ہو جائے گا۔ جو اس نے بویا ہے وہ کاٹے گا۔ طارق جمیل جیسے لوگ داعی الا اللہ ہیں ان کو جہاں موقع ملے اللہ کی طرف بلا لیتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ نواز شریف مصیبت میں ہے شاید لوٹ آئے اپنے رب کی طرف تو مل لیا۔ میں یا آپ یہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتےہیں کہ اللہ نواز شریف کو معاف نہیں کرے گا (معاذاللہ)۔ باقی پتہ طارق جمیل کو بھی ہے کہ سیاسی لوگ ان سے مل کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جہاں لوگ سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی ذات سے وہیں وہ اپنا کام بھی پورا کر جاتے ہیں دعوت کا۔ ان کا کام بلانا ہے اللہ کی طرف نواز شریف جیسوں کو بھی، مجھ جیسوں کو بھی اور آپ جیسوں کو بھی۔ ذاتی طور پر کیا آپ کو یہ گوارہ ہے کہ آپ کسی انسان سے یہ کہو کہ تم نے فلاں انسان کو کیوں تبلیغ کی یا اس کےلیے دعا کیوں کی؟ یار ہمارے نبی ؐ کا کردار تو یہ تھا کہ طائف میں پتھر مارنے والوں کو بھی دعا دی تھی۔ طارق جمیل نے اگر نواز شریف کےلیے دعا کر دی تو کون سا گناہ کر دیا؟ دیکھ لیں کہیں سیاسی اختلافات میں کہیں روگردانی تو نہیں کر رہے؟
نوٹ: ازراہِ کرم فتوی بریگیڈ سائیڈ پر رہے۔ میں کل تک آلِ سعود پر تنقید کرتا تھا تو چند لوگوں شیعہ لگتا تھا۔ اب طارق جمیل پر اپنا نکتہ نظر دیا ہے تو چند کو دیو بندی لگنے لگوں گا۔ بھائی میں نہیں ہوں کچھ بھی بجز ایک مسلمان کے۔
شکریہ: سنگین علی زادہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here