میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

0
668

میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

یہ میری قوم کے حکمراں بھی سنیں
میری اجڑی ہوئی داستاں بھی سنیں
جو مجھے ملک تک مانتے ہی نہیں
ساری دنیا کے وہ رہنما بھی سنیں

صرف لاشیں ہی لاشیں میری گود میں
کوئی پوچھے میں کیوں اتنا غمگین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

آئے تھے ایک دن میرے گھر آئے تھے
دشمنوں کو بھی تنہا نظر آئے تھے
اونٹ پر اپنا خادم بٹھائے ہوئے
میری اس سرزمیں پر عمر ( رض) آئے تھے
جس کی پرواز ہے آسمانوں تلک
زخمی زخمی میں وہ ایک شاہین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

میرے دامن میں ایمان پلتا رہا
ریت پر رب کا فرمان پلتا رہا
میرے بچے لڑے آخری سانس تک
اور سینوں میں قرآن پلتا رہا
ذرے ذرے میں اللہ اکبر لئے
خوش نصیبی ہے میں صاحبِ دین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

نہ ہی روئیں گے اور نہ ہی مسکائیں گے
صرف نغمے شہادت کے ہی گائیں گے
اپنا بیت المقدس بچانے کو تو
میرے بچے ابابیل بن جائیں گے

جو ستم ڈھا رہے ابرہہ کی طرح
ان کی خاطر میں سامانِ توہین ہوں

میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

شاعر: عمران پرتاب گڑھی ہند

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here