میرے خیال میں پرویز مشرف نے مندرجہ ذیل غلطیاں کیں تھیں۔

0
486

میرے خیال میں پرویز مشرف نے مندرجہ ذیل غلطیاں کیں تھیں۔

نواز شریف کو زندہ چھوڑنا۔۔۔۔۔

جبکہ طیارہ ھائی جیکنگ اور کارگل میں نواز شریف کی پاکستان دشمنی ثابت ہوچکی تھی تو اس کو سعودی عرب کے دباؤ کے باؤجود سزائے موت دے دینی چاہئے تھی۔

امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کی تعریف وضع نہ کرنا۔۔۔۔

پرویز مشرف کو امریکہ کے ساتھ ملکر دہشت گردی کی ایک عالمی تعریف وضع کرنی چاہئے تھی۔ وہ بہترین موقع تھا اقوام عالم کو ایک تعریف پر اکھٹا کرنے کا۔
مشرف نے ایسا نہیں کیا جس کے بعد امریکہ اور انڈیا نے بدمعاشی سے افغانستان اور کشمیر میں جاری جنگ آزادی کو بھی دہشت گردی قرار دے دیا۔

ڈیم نہ بنانا۔۔۔۔۔۔

شروع میں پرویز مشرف کوشش کرتا تو بزور طاقت کالا باغ سمیت کئی بڑے ڈیم بنا سکتا تھا۔ لیکن اس نے ڈیموں پر کام کرنے کا اعلان تب کیا جب وہ کمزور ہوچکا تھا اور سیاست دان طاقتور۔ اس کے بعد مفاد عامہ کا کوئی بھی منصوہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ رہا۔

میڈیا کی آزادی۔۔۔۔۔

مشرف نے میڈیا کو آزادی دی جس نے سب سے پہلے خود اسی کو ڈسا۔ آزاد میڈیا نے شعائر اسلام، پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف جو زہر اگلا اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کو باقاعدہ جنگ کرنی پڑی۔ یہی میڈیا فحاشی کا طوفان لایا جسکو اس کے بعد آنے والی جمہوریت نے مزید بڑھاوا دیا۔
تاہم یہ طے ہے کہ مشرف میڈیا کو آزادی نہ دیتا تو آنے والے حکمرانوں نے دے دینی تھی۔

سیاست دانوں پر انحصار۔۔۔۔۔

مشرف کے پاس ڈنڈا تھا جو چاہتا کر لیتا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے آمر بھی جمہوری سوچ رکھتے ہیں۔ مشرف نے سیاست دانوں کو قریب رکھا۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ خود مشرف کو بھی نقصان پہنچایا۔

میری رائے میں یہ مشرف کی وہ غلطیان ہیں جنہوں نے واقعی نقصان پہنچایا۔

لیکن مشرف کے کام اور کارنامے اسکی غلطیوں پر غالب ہیں۔ ان میں کچھ کارنامے ایسے بھی ہیں جن کو غلطیاں قرار دیا گیا لیکن بعد میں آنے والے وقت نے انکو درست ثابت کیا۔

لال مسجد آپریشن پر تنیقد کرنے والے کبھی دوسری طرف کی بات نہیں کرتے۔ نہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ آپریشن نہ ہوتا تو بلاآخر صورتحال کہاں تک جاتی؟؟
جو جنگ پاک فوج نے فاٹا اور کراچی میں لڑی وہ پورے پاکستان میں لڑنی پڑتی اور شائد پاک فوج نہ لڑ پاتی۔

جن کو لگتا ہے کہ ملا ” طاقت کی حالت ” میں کوئی معقول بات تسلیم کر سکتا ہے وہ غالباً اس دنیا کے باسی نہیں ہیں۔ طاقت کی حالت میں معاہدہ توڑنے کا وہ شرعی جواز ڈھونڈ لیتے ہیں ۔۔۔ 🙂
پاکستان میں دہشت گردانہ حملے لال مسجد آپریشن سے پہلے ہی شروع ہوچکے تھے۔

این آر او ہومیو پیتھک فیصلہ تھا۔ نہ ٖفائدہ نہ نقصان۔ نہ تو این آر سے سے پہلے کسی کرپٹ کو پکڑا گیا تھا یا سیاست سے روکا گیا تھا نہ 2009ء میں این آر او ختم ہونے کے بعد آج تک ایسا ہوسکا۔

اکبر بگٹی پر لکھ چکا ہوں کہ اس کو مشرف نے نہیں مارا تھا۔ لیکن مارنا چاہئے تھا۔ وہ ظلم اور غداری پر آمادہ تھا اور اپنے منتقی انجام کو پہنچا۔

یہ تحریر انکی خدمت میں جو اکثر فرمائش کرتے ہیں کہ مشرف کی غلطیوں پر بھی کچھ لکھیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here