مہاجروں پر جو ظلم کیا جا رہا ہے اسکا بدلہ مہاجر ضرور لیں گے

0
471

حقوق کا ڈھکوسلہ!

پاکستان میں عوام کو جتنا حقوق کے نام پر گمراہ کیا جاتا ہے شائد ہی کسی اور طریقے سے کیا گیا ہو۔ حقوق کے نام پر چلائی جانے والی ان تحریکوں کے نتیجے میں نعرے لگانے والی عوام کے ہاتھ کبھی کچھ نہیں آتا البتہ لگوانے والے خوب فیضاب ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں۔ الطاف حسین جن میں سے ایک ہیں۔ موصوف نے چند دن پہلے دوبارہ اعلان کیا کہ ۔۔ ” مہاجروں پر جو ظلم کیا جا رہا ہے اسکا بدلہ مہاجر ضرور لیں گے ” ۔۔

یہاں ہم پاکستان میں انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجروں کی “محرومیوں” کی مختصر روداد پیش کرتے ہیں۔ یہ خیال رہے کہ پاکستان میں مہاجروں کی تعداد صرف ڈیڑھ سے دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

اقتدار میں حصہ ۔۔۔۔

لیاقت علی خان ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم
اسکندر مرزا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے پہلے صدر
اسمعیل ابراہیم چندریگر ۔۔۔ سابقہ وزیراعظم پاکستان، سابقہ گورنر کے پی کے، سابقہ گورنر پنجاب ۔
جنرل ضیاءالحق ۔۔۔۔ پاکستان کے سابق صدر اور چیف آف آرمی سٹاف ( کچھ لوگ ان کو مہاجر نہیں مانتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے انڈیا سے ہجرت کی تھی )
پرویز مشرف ۔۔ سابقہ چیف آف آرمی سٹاف اور سابقہ صدر پاکستان۔
شوکت عزیز ۔۔۔۔ سابقہ وزیراعظم پاکستان اور وزیر خزانہ
ممنون حسین ۔۔۔ موجودہ صدر پاکستان۔

صوبوں کی سطح پر ۔۔۔۔۔

موالدین حیدر ۔۔ سابق گورنر سندھ، سابق لیفٹننٹ جنرل اور سابق وفاقی وزیر داخلہ
ابراہیم رحیم ٹولا ۔۔ سابقہ گورنر، سفیر اور وفاقی وزیر
قدرالدین احمد ۔۔۔۔۔ سابقہ گورنر اور سابقہ جج
عشرت العباد۔ سابقہ گورنر سندھ۔
سیدہ شہلا رضا ۔۔۔ موجودہ سپیکر سندھ
جنرل رحیم الدین خان ۔۔ سابقہ گورنر سندھ اور بلوچستان ( یہی موصوف نواز شریف کو سیاست میں لائے تھے)
فاروق ستار، وسیم اختر، نعمت اللہ خان وغیرہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مئیر رہ چکے ہیں۔
وفاقی وزراء ، سینٹرز اور ایم این ایز کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔

پاک فوج میں ۔۔۔۔۔۔

جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الحق کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔
شمیم عالم خان ۔۔۔۔ سابق چیف آف جوائنٹ سٹآف کمیٹی
شاہد کریم اللہ ۔۔۔۔۔۔ سابق سربراہ پاکستان بحریہ
اختر عبدالرحمن ۔۔۔ سابقہ لیفٹننٹ جنرل، جنرل ضیاء کا دست راست اور افغان جہاد کا ماسٹر مائنڈ
مرزا اسلم بیگ ۔۔۔۔ سابقہ چیف آف آرمی سٹاف
سید شاہد حامد ۔۔۔۔۔ سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی
رحیم الدین خان ۔۔۔ سابقہ جنرل اور جنرل ضیاء کا دست راست

یہ صرف وہ مہاجر ہیں جو پاک فوج کے اعلی ترین عہدوں پر فائز رہے۔

عدلیہ میں ۔۔۔۔

اجمل میاں ۔۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان
حمود الرحمن ۔۔۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان
مجیدا رضوی ۔۔۔ پاکستان کی پہلی اعلی عدلیہ کی خاتون جج
مخدوم علی خان ۔۔۔ سابقہ اٹآرنی جنرل آف پاکستان
محمد حلیم ۔۔۔۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان
ناظم حسن صدیقی ۔۔۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان
سیدلزامان صدیقی ۔۔۔۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان
شریف الدین پیرزادہ ۔۔۔ سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان۔۔ وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے مشیر
انور ظہیر جمالی ۔۔۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان

یہ صرف وہ مہاجر ہیں جو پاکستانی عدلیہ کی سربراہی کر چکے ہیں۔

صحافتی میڈیا میں ۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر شاہد مسعود ۔۔۔۔۔ مشہور جرنلسٹ اور اینکر
کامران خان ۔۔۔۔ مشہوری جرنلسٹ اور اینکر
شاہزیب خانزادہ ۔۔۔۔۔۔ مشہوری جرنلسٹ اور اینکر
وسیم بادامی ۔۔۔۔۔۔ مشہور جرنلسٹ اور اینکر
اظہر عباس ۔۔۔۔۔ مشہور صحافی
ڈاکٹر دانش ۔۔۔۔۔ مشہور صحافی اور اینکر

یہ محض صحافت کے چند اعلی ترین نام ہیں۔

ان کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر عبدالقدیر ۔۔۔۔۔ پاکستان نیوکلئر پروگرام کا سابق سربراہ اور بلاشبہ پاکستان کی سب سے وی آئی پی شخصیت
حاجی عبدلوہاب ۔۔۔ تبلیغی جماعت کے امیر اور غالبا پاکستان کی سب سے طاقتور مذہبی شخصیت۔
زاہد حسین پاکستان سٹیٹ بینک کے پہلے گورنر جبکہ امتیاز علم حنفی، عشرت حسین، سید سلیم رضا بھی پاکستان سٹیٹ بینک کی سربراہی کر چکے ہیں جن کے نام آج بھی پاکستانی نوٹؤں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
احمد نورانی صدیقی اور منور حسن پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
کرکٹ بورڈ کا سابقہ چیرمین شہریار خان۔
کم از کم دو درجن کے قریب یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی اردو سپیکنگ ہیں۔
محمد رفیع عثمانی اور تقی عثمانی ۔۔۔۔ درالعلوم کراچی کے سربراہ
پاکستان کے چند بڑے بزنس گروپس بھی مہاجروں ہی کے ہیں۔
جبکہ جاوید میانداد، سید انور اور انضمام الحق (انضمام کا کنفرم کرنا ہے) سمیت پاکستان کے مشہور ترین کھلاڑیوں اور فنکاروں کی ایک بہت لمبی فہرست ان کے علاوہ ہے۔

یاد رہے کہ ان کو یہ عہدے اور عزت دلوانے میں الطاف حیسن یا رابطہ کمیٹی کا قطعاً کوئی کردار نہیں۔ یہ سب کے سب الطاف حسین کی راہنمائی سے محروم رہے۔
الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی نے مہاجروں کو جو بڑے بڑے نام دئیے ان میں کانا، چنگاری، موٹا، بھولا اور کالو ٹائپ کے چند بدمعاش اور دہشت گرد شامل ہیں۔

بحیثیت مجموعی مہاجر یا اردو سپیکنگ طبقہ پاکستان کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور مالدار طبقہ رہا ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری گڑھ کراچی پر چھایا ہوا ہے۔

کیا الطاف حسین بتا سکتے ہیں کہ
مہاجرون کو کون سے حقوق حاصل نہیں ہیں؟
ان کو کیسے دیوار سے لگایا جا رہا ہے؟
اوران پر کونسا ظلم ہو رہا ہے؟؟

الطاف حسین یہ کہہ کر بھی مہاجروں کو بہکاتا ہے کہ ہم نے پاکستان بنایا۔
۔۔ اس دعوے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بن جانے کے بعد انڈیا میں آباد مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے (باوجود اس کے کہ ان میں سے اکثریت قیام پاکستان کے خلاف تھی اور کانگریس کو سپورٹ کرتی تھی) ان میں سے بہت سوں نے مجبوراً پاکستان ہجرت کی۔ یہ عمل 1947ء میں شروع ہوا تو 60ء کی دہائی تک جاری رہا۔
پاکستان نے 60 سے 70 لاکھ ان مہاجروں کو اپنی آغوش میں لے کر ہندو کے ظلم سے نجات دلائی ۔۔۔ !

آج پاکستان میں جتنے مہاجر آباد ہیں ان سب کے بزرگوں کو انڈیا نے قتل کیا، جائدادیں لوٹیں اور عورتوں کی بے حرمتی کی۔

آج انہی مہاجروں کو الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی یہ بتا رہی ہے کہ ” انڈیا پاکستان کے خلاف تمھاری بقا کی جنگ لڑے گا ” ۔۔۔ اور ” پاکستان تمھیں دیوار سے لگا رہا ہے ” ۔۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔۔۔۔۔ !

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہجرت کے بعد دوسری بار مہاجروں کا سب سے زیادہ خون تب بہا جب الطاف حسین نے ” حقوق اور محرومی ” (سیاست دانوں کا پسندیدہ نعرہ ) کا نعرہ لگا کر مہاجروں کو کراچی میں ہر غیر مہاجر کے خلاف صف آرا کر دیا۔

مہاجر پاکستان کی جان ہیں اور ان کے خون سے اپنی دنیا رنگین بنانے والوں کا انجام قریب ہے ۔۔۔ انشاءاللہ ۔۔۔

مہاجروں اور بلوچوں کو ” محرومی اور حقوق ” کے چند نعرے دے کر پاکستان کے خلاف لڑوانے والے اب انہی نعروں کے تحت پشتونوں کو لڑوانا چاہتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے افغانیوں کو پشتونوں کا لبادہ اوڑھا گیا ہے۔ اچکزئی جیسے غدار اور منظور پشتین جیسے احمقوں کو استعمال کر کے پشتونوں کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

فرق البتہ یہ ہے کہ اس بار خود پشتون اس تحریک کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ یہ اپنے ان نام نہاد خیرخواہوں سے ایسے سوالات کر رہے ہیں جنکا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ یہ تحریک بھی تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

نوٹ ۔۔۔ مہاجر کا لفظ محض مضمون کے تسلسل کے لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ الطاف حسین یہی لفظ استعمال کرتا ہے۔ مہاجر یا اردو بولنے والوں کی حب الوطنی اور پاکستانیت کسی بھی شک سے شبے سے بالاتر ہے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here