مولانا آزاد اور گاندھی کے چند اقتباسات۔

0
756

مولانا آزاد اور گاندھی کے چند اقتباسات۔

گاندھی اور مسلمان
” مسلمان یا تو عرب حملہ آوروں کی اولاد ہیں یا ہمیں سے جدا کئے ہوۓ افراد۔ اگر ہم اپنا وقار چاہتے ہیں تو تین علاج ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسلام سے ہٹا کر انہیں اپنے دھرم میں واپس لایا جاۓ۔ اور اگر یہ نہ ہوسکے تو ان کے آبائی وطن میں لوٹا دیا جاۓ۔ اور اگر یہ بھی دشوار ہو تو ان کو ہندوستان میں غلام بنا کر رکھا جاۓ ۔” (گاندھی کا ینگ انڈیا اخبار میں ایک کالم)
“سوراجیہ ( آزادی ) کے چاہے کتنے ہی معنی لوگوں کو بتاؤں پھر بھی میرے نزدیک سوراجیہ کا ایک ہی معنی ہے ، اور وہ ہے رام راجیہ ( ہندو کی حکومت )”۔(تقریر 27 مارچ 1930)

گاندھی اور اردو
میں اردو بھاشا کا اس لئے مخالف ہوں کہ اس کے اکثر الفاظ قرآنی بھاشا میں ہیں۔ (کاش البرنی کی مسلم انڈیا مطبوعہ 1942)
اردو ایک بدیشی زبان ہے اور ہماری غلامی کی یادگار ہے۔ اس زبان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اردو جو ملیچھوں کی زبان ہے نے ہندستان میں رواج پاکر ہمارے قومی مقاصد کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ (آریہ سماج کانفرنس میں خطاب نومبر 1936)

مولانا آزاد اور گاندھی۔
“گاندھی نے جنگ آزادی میں اپنی جان و مال دونوں لٹا دئیے۔ پس وہ فی الحقیقت مجاہد فی سبیل الله ہیں اور بانفسھم و باموالھم کے ہر دو مراحل جہاد مقدس سے گزر چکے ہیں۔ یہ مسٹر گاندھی حق و عدالت کا عجیب سپہ سالار ہے”۔ (مضامین مولانا آزاد نمبر 19 بحوالہ الداعی بابت شوال 1357)
مہاتما گاندھی عظیم شخصیت ، سچی رہنمائی ، انسانی فطرت کا روشن پہلو ، عظیم روح ہے۔ “ایک ایسی عظیم شخصیت جس کو قدرت نے خاص اس کام کے لیے چن لیا ہو ۔ یہ شخصیت مہاتما گاندھی کے وجود میں نمایاں ہوگئی ہے۔ (دہلی 15 دسمبر 1923ء مشمولہ خطباتِ آزاد صفحہ 183 182)
میرا یقین ہے کہ ہندوستان کے لیے مہاتما گاندھی کی رہنمائی ایک سچی رہنمائی ہے۔ (دہلی 15 دسمبر 1923ء مشمولہ خطباتِ آزاد صفحہ 200)۔
وقت کی ساری پھیلی ہوئی اندھیاریوں میں انسانی فطرت کا یہی ایک روشن پہلو ہے جو مہاتما گاندھی کی عظیم روح کو تھکنے نہیں دیتا ۔ (رام گڑھ مارچ 1940ء مشمولہ خطباتِ آزاد صفحہ 284)
آج ہماری ساری کامیابیوں کا دارومدار تین چیزوں پر ہے۔ اتحاد۔ ڈسپلن اور مہاتما گاندھی کی راہنمائی پر اعتماد۔ مہاتما گاندھی کی راہنمائی پر اعتماد بھی ایک تنہا راہنمائی ہے۔ جس نے ہماری تحریک کا شاندار ماضی تعمیر کیا۔ اور صرف اسی سے ہم ایک فتح مند مستقبل کی توقع کرسکتے ہیں۔ (اخبار انصاری 19 مارچ 1940 بحوالہ کانگریسی مسلمان اور حقائق قرآن)

گاندھی کی وفات پر
“گاندھی جی کی شہادت ایک دور کے خاتمے کا اعلامیہ ہے۔ میں آج کے دن تک یہ بھلا نہیں پاتا کہ ہم جدید ہندستان کے شائد عظیم ترین فرزند کی زندگی کے تحفظ میں کس بری طرح ناکام رہے تھے”۔ (انڈیز ونز فریڈم حرف آخر صفحہ 295)

تحقیق محمد عبدہ

————————–

قائداعظم اور اقبال کی داڑھی نہ تھی اس لیے گمراہ؟

گاندھی کا دین تک نہ تھا لیکن قابل تقلید راہنما؟

پختہ کردار مسلم قومیت کا داعی قائداعظم محمد علی جناح سیکولر اور یہودی ایجنٹ؟

ہم جنس پرست، لڑکیوں کے ساتھ برہنہ لیٹنے کا شوقین، ساؤتھ افریقہ میں نسلی فسادات میں پیش پیش، مسلمانوں سے شدید نفرت کرنے والا گاندھی اللہ کا چنا ہوا اور مجاہد فی سبیل اللہ؟؟

تف ہے ایسی بصیرت پر۔

گاندھی کو شہید قرار دینے والے یہ بدبخت علماء چند دن پہلے پاکستان کے لیے جان دینے والے پاک فوج کے ایک ہندو سپاہی کو ” جہنم واصل ” قرار دینے کی مہم چلا رہے تھے۔

عقل و بصیرت سے عاری یہ باطل پرست علماء بلاشبہ زمین کی بدترین خلقت ہیں۔ یہ کل بھی حق کو پہچاننے سے معذور تھے اور آج بھی معذور ہیں۔

۔۔۔۔۔۔ امید ہے اب کچھ حیران کن تاویلیں سننے کو ملیں یا حسب معمول گالیاں ۔۔۔ 🙂

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here