منتخب اور خالص جمہوری حکمرانوں نے قوم کے وسیع تر مفاد میں الیکشن کے لیے نامزدگی فارم سے مندرجہ ذیل شقیں ختم کر دیں

0
333

منتخب اور خالص جمہوری حکمرانوں نے قوم کے وسیع تر مفاد میں الیکشن کے لیے نامزدگی فارم سے مندرجہ ذیل شقیں ختم کر دیں۔

۔ 1 موجودہ اثاثے ظاہر کرنے کی شق کا خاتمہ۔

۔ 2۔ دوہری شہریت نہ ہونے کا حلف نامہ حذف

۔ 3۔ تعلیمی قابلیت اور ڈگری ظاہر کرنے کی پابندی ختم

۔ 4۔ انکم ٹیکس اور زرعی ٹیکس کی معلومات فراہم کرنے کی شق کا خاتمہ

۔ 5۔ بچوں اور دیگر افراد خانہ کے لئے “زیر کفالت” کے الفاظ کی تبدیلی

۔ 6۔ بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کی شق کا خاتمہ

۔ 7۔ بینکوں یا دیگر مالیاتی اداروں سے معاف کرائے گئے قرضوں کو ظاہر کرنے کی شق ختم

۔ 8۔ تھانوں اور عدالتوں کا کریمنل ریکارڈ ظاہر کرنے کی شق کا خاتمہ

۔ 9۔ گزشتہ تین برس کے دوران غیر ملکی دوروں کی تفصیلات فراہم کرنے کی پابندی کا خاتمہ

۔ 10۔ غلط معلومات فراہم کرنے کی صورت میں اسمبلی کی رکنیت سے محرومی کا حلف نامہ حذف یعنی اگر وہ غلط بیانی بھی کریں تو اس پر ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا جا سکتا۔

اس کے خلاف ھائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو ہائی کورٹ نے نامزدگی فارم میں کی گئی ان تبدیلیوں کو فوری طور پر معطل کر دیا۔

اسی وقت پاکستان میں عدل و انصاف کے علمبردار سابقہ اور موجودہ ” منصف اعظم” حرکت میں آئے۔

سپریم کورٹ کے سابقہ ” منصف اعظم” ناصر الملک ( موجودہ نگران وزیراعظم) نے لاھور ھائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔
( یاد رہے کہ یہ ناصر ملک وہی جج ہیں جس نے افتخار چودھری کے ساتھ ملکر آصف زردای کی سویزرلینڈ میں موجود دولت قرق ہونے سے بچائی تھی )

اور اہم ترین فیصلوں پر کڑک مرغی کی طرح بیٹھے موجودہ منصف اعظم ثاقب نثار نے فوری فیصلہ سناتے ہوئے ھائی کورٹ کا فیصلہ کلعدم قرار دے دیا۔

دونوں ” منصفوں ” نے بیان جاری فرمایا کہ ” انتخاب وقت پر ہونا ہی اصل مقصود ہے” امیداوار کون ہے؟ کیسا ہے؟ سے فرق نہیں پڑتا۔

اب عوام کسی امیدوار کے اثاثوں، تعلیم، شہریت، اقاموں، جائداد اور غیر ملکی فلیٹس، ٹیکس، زیر کفالت بیوی بچوں، قرضوں، جرائم اور غیر ملکی دوروں کے بارے میں نہیں جان سکے گی۔
نیز بیان حلفی ختم ہونے سے معلومات فراہم کرنے کے جو خانے چھوڑ دئیے ہیں ان میں بھی جھوٹ لکھا جا سکتا ہے

چنانچہ اتنخابی فارم میں مذکورہ تبدیلیوں کے بعد اب ایم کیو ایم کے الطاف حسین اور ٹی ٹی پی کے ملا فضل اللہ بھی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔

تاہم دونوں ” اعلی ترین ” جج اور حکمران یہ بتانے پر تیار نہیں کہ ۔۔۔

حکمرانوں کو یہ شرانط ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟؟؟
اور یہ شرائط ختم کرنے میں عوام کا کیا فائدہ ہے ؟؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here