ممتاز نے قانون ہاتھ میں لیا اس لیے سزا ہوئی

0
354

ممتاز نے قانون ہاتھ میں لیا اس لیے سزا ہوئی۔

تو ایک ملک کے چ ج نے پورا قانون ہی گود میں لے رکھا اس کی کیا سزا ہے ؟؟؟

فاعتبروا یا اولی الابصار

تم حرمتِ نعلین کی بات کرتے ہو اور حرمتِ صاحب ِنعلین پر سودے بازی کرتے ہو !۔

تو سنو ! پچھلوں کے قصے اگلوں کے لیے نصیحت ہے

منگولوں کا بڑا چ ج تھا دورانِ تقریر گستاخی کردی ایک کلب نے حملہ کیا۔ منگولیے کہنے لگے تم نے مسلمانوں کے نبی کو کہا اس لیے اس چوپائے نے حملہ کیا ہے
چ ج بات بنانے میں بڑا ماہر تھا ۔ سینیما گھر کا چائے فروش تھا بڑی فلمیں دیکھی تھی
کہنے لگا نہیں در اصل میرا ہاتھ اس کی طرف اٹھ گیا تھا ۔ اس لیے اس نے حملہ کیا۔

منگولوں کے چ ج نے حکم دیا کہ اسے رسی میں جکڑ دیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی منگولوں کے چ ج نے پھر توہین کردی۔ اب کی بار کلب نے جو حملہ کیا ہے چ ج کی دوڑ جہنم تک لگوا دی۔

تو ہم بھی کہ رہے ہیں ہوش سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کتابِ تاریخ میں تمہارے نام کا باب منگولی چ ج کی طرح مرقوم ہو ۔

رب ذوالجلال کا اعلان ہے ” إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ” پیارے ہم کافی ہیں تمہارا استھزا کرنے والوں کے لیے

۔ 1997 کی بات ہے ایک قاضی نے گستاخوں کو رہا کر دیا۔ پھر عشق کے قاضی نے پل بھر میں لعینوں کے قاضی کا قصہ تمام کر دیا۔۔۔

پھر چشمِ فلک نے دیکھا وقت کا گورنر ہے اور دستورِ مملکت کو پیروں تلے روند رہا ہے۔ عدلیہ لونڈی بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم چپ ، صدر چپ ادارے چپ۔ حدودِ تھانہ کوہسار ہے 4 جنوری کی شام ہے۔ پھر عشق نے دیکھا قانون کے ہاتھ بندھے ہیں۔ عشق اپنے فیصلوں میں بڑی غیرت رکھتا ہے۔ عشق نے ہلکی سی انگڑائی لی اور پونے تین سیکنڈ میں عشق نے سب سے “ممتاز” کر دیا۔

جہاں کو سامنا ہے پھر آتشِ نمرود کا
عشق بھی اپنی ادا میں بے خطر ہونے کو ہے
(کنزالعلما)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here