ممبئی حملے میں سب سے پہلے ہمینت کرکرے سمیت وہی تینوں انڈین پولیس آفیسرز مارے گئے جو انڈین آرمی کے بعض عناصر خاص کر کرنل پروہت کے خلاف مالیگاؤں بم دھماکوں اور سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے تھے ۔ جن کے الزامات انڈیا نے پاکستان پر عائد کیے ہیں۔

کچھ انڈین میڈیا کی اپنی رپورٹس کے مطابق اجمل قصاب اور اسکے ساتھیوں نے دہشت گردی شروع کرنے سے پہلے ایک کیفے میں بیٹھ کر شرابیں پیں اور انکی بیگوں سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔

0
1272

حافظ سعید پر ممبئی حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ یہی وہ الزام ہے جس کے بعد ان کو امریکہ اور یو این نے بھی دہشت گرد قرار دیا۔ آئیے آپ کو آج ممبئی حملوں کی کچھ جھلکیاں دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

امید ہے آپ انہی سے بہت کچھ سمجھ جائنگے۔ 

1۔ ممبئی حملہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ انڈیا نے پاکستان پر اسکا الزام لگا دیا ۔
2۔ ممبئی حملے میں سب سے پہلے ہمینت کرکرے سمیت وہی تینوں انڈین پولیس آفیسرز مارے گئے جو انڈین آرمی کے بعض عناصر خاص کر کرنل پروہت کے خلاف مالیگاؤں بم دھماکوں اور سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے تھے ۔ جن کے الزامات انڈیا نے پاکستان پر عائد کیے ہیں۔

3۔ ہیمنت کرکرے کی بیوہ نے اپنے شوہر کے قتل کا الزام بی جےپی پر عائد کیا۔

4۔ کچھ انڈین میڈیا کی اپنی رپورٹس کے مطابق اجمل قصاب اور اسکے ساتھیوں نے دہشت گردی شروع کرنے سے پہلے ایک کیفے میں بیٹھ کر شرابیں پیں اور انکی بیگوں سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔

5۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ دہشت گردوں کے خون سے ڈرگز کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔

6۔ انڈیا نے پاکستان کی مشترکہ تحقیقات کمیشن قائم کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔

7۔ پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے تحقیقاتی کمیشن کو اجمل قصاب سمیت اس حملے میں ملوث کسی بھی مشتبہ شخص سے آج تک ملنے نہیں دیا گیا۔

8۔ پاکستان کا سب سے بدنام چینل جیو اور اسکے نہایت متنازعہ اینکر حامد میر نے پاکستان میں اجمل قصاب کا گاؤں اور گھر تک ڈھونڈ لیا جو بعد میں ایک غریب ریڑھی چلانے والا اجمل ثابت ہوا۔

9۔ خودکش مشن پر آنے والے یہ “مجاہدین ” اپنے ساتھ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ساتھ لائے تھے تاکہ مرنے کے بعد ” شناخت ” کیے جا سکیں؟

10۔ بی بی سی کی کچھ رپورٹس کے مطابق دہشت گرد آپس میں مارواڑی زبان میں بات کر رہے تھے ۔ پتہ نہیں پاکستان میں یہ زبان کہاں بولی جاتی ہے۔

11۔ سب سے بڑھ کر ایک انڈین آفیسر مسٹر ورما نے آج سے چند ماہ پہلے انڈیا کی سپریم کورٹ میں ایک ایفیڈیوٹ داخل کیا جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ 26/11 ، مالیگاؤں بم دھماکے اور سمجھوتہ ایکسپریس انڈیا کی خفیہ ایجنسی “راء” نے خود کروائے!

اور اجمل قصاب تو نہایت ہی دلچسپ شخصیت ثابت ہوا مثلاً انڈین اخبارات کے مطابق۔۔۔۔۔
اجمل قصاب فرماتے ہیں کہ ہفتے ہیں دو بار بمبئی بریانی نہ کھا لیں تو گزارا نہیں ہوتا ۔
ایشورائے اسکی پسندیدہ ترین اداکارہ ہیں ۔
امیتابھ بچن سے ملنا اسکی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے ۔
اپنے گناہوں کی معافی بھگوان سے طلب کرتے ہیں۔
اجمل قصاب اپنے ہاتھوں میں ہمیشہ ویسا ہی سیفرون بینڈ پہنتے ہیں جیسا کہ بی جے پی کے دہشت گرد پہنتے ہیں ۔
کچھ انڈین ذرائع سے لیک ہونے والی خبروں کے مطابق اجمل قصاب کا اصل نام امر سنگھ تھا اور وہ سکھ تھا اور اسکے ساتھ مارے جانے والے دوسرے کا نام ہیرا لال بتایا جاتا ہے۔

26/11 انڈیا کا اس قدر فلاپ اور گھٹیا ڈراما تھا کہ اگر پاکستان میں ذرا سی بھی مخلص حکومت ہوتی تو پوری دنیا میں انڈیا کے کپڑے اتروائے جا سکتے تھے ۔
لیکن آفرین ہے ہمارےان جمہوری سیاسی بالشتیوں پر جو نہ صرف اس ناکام ڈرامے کے باوجود پاکستان کو بدنام ہونے سے نہ بچا سکے بلکہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ بنانے پر تل گئے جب پیپلز پارٹی نے آئی ایس ائی چیف کو انڈین تحقیقاتی اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا اور نواز شریف نے روس میں ممبئی حملوں میں ملوث پاکستانی کرداروں کے خلاف انڈیا کے ساتھ ملکر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ہے ان پر ۔۔۔۔۔۔۔

امید ہے آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ اسی فہرست میں سمجھوتہ ایکسپریس کا پول بھی کھولا گیا ہے جس میں خود انڈین انٹیلی جنس کے افسر کرنل پروہت وغیرہ ملوث تھے۔ اسکا الزام بھی نہایت ڈھٹائی سے حافظ صاحب پر لگایا جاتا ہے۔

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here