مغربی میڈیا بصورت ففتھ جنریشن وار اور عالم اسلام

0
332

“مغربی میڈیا بصورت ففتھ جنریشن وار اور عالم اسلام”
#تمام_نوجوانان_اسلام_اورـ_مسلمان_میری_اس_تحریر_کو_لازمی_پڑھیں۔
اس نشان کو دیکھیے۔۔۔ اس کو سمجھیے۔۔۔ اس کے پیچھیے بیٹھے دماغوں کو جانیے۔۔۔ دجال کے ان کارندوں کی حقیقت اور اسلام و مسلمان دشمنی کو بھانپ لیجیے ، ورنہ وہ زمانہ دور نہیں کہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
مغرب کا فکری حملہ جسے ہم میڈیائی حملہ یا ففتھ جنریشن وار بھی کہتے ہیں، تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہے جو ہمہ جہتی ہے- یہ حملہ فکری بھی ہے اور علمی بھی،
اقتصادی اور معاشی بھی،
تمدنی و تہذیبی بھی،
یہ سیاسی بھی ہے اور عسکری بھی اور
دنیا کے چپہ چپہ کو محیط ہے۔
روئے زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں کہ جو اس نشان اور اس سے وابستہ اداروں اور ان کے کارندوں کی یلغار اور دسترس سے محفوظ ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو اس سے پہلے اگر یونانی فلسفہ و فکر نے مار دینے کی کوشش کی اور پھر تاتاریوں نے عسکری میدان میں اسلام و مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ٹھانی مگر اس بار دشمن ایک نئی حکمت عملی لے کے اٹھا ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کو “ذہنی غلام” بنانا ہے نہ کہ جسمانی غلام اور وہ اس خطرناک مقصد کیلیے اپنے کئ خطرناک اداروں کے ذریعے میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
میں اپنے کسی مسلمان بھائی سے اس غلیظ قوم کے مقاصد و عزائم کے بارے میں سوال کروں تو امید نہیں کہ وہ اس سوال کا جواب دے پائے گا، ۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چند صدیوں سے مسلمان پسماندہ نہ رہ گئے ہوتے اور علماء کا علم و سائنس کے دور سے رشتہ نہ کٹ گیا ہوتا تو مغربی افکار و نظریات کا دقت نظر سے تنقیدی جائزہ لیتے ، ان سے فاسد اور مضر اجزاء کو علیحدہ کر کے انہیں اسلام کا معاون بنا لیتے ،، جیسے ہمارے اسلاف نے یونانی فلسفہ و فکر کو مسلمان بنا لیا تھا اور ان کا ہاتھ زمانے کی نبض پہ بہت مضبوط تھا،، ہمیں ان کی وہ تاریخ دہرانی ہو گی۔۔۔ ہمیں میڈیا کو مسلمان بنانا ہو گا۔۔۔ وقت گزرتا ہے کہ ہر جوان مغربی تہذیب سے لت پت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
میں اسے یہود و ہنود و نصاری کا خطرناک حملہ نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟؟؟ “جنگ” نہ کہوں تو کیا کہوں؟؟؟ میں اسے دشمن کا وار نہ کہوں تو کیا کہوں؟؟؟ میں اسے پتھر دل دشمن کی سازشیں نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟؟؟ بتائیے!
لیکن لیکن لیکن کہوں گا اور ہر بار کہوں گا کہ مجھے اپنوں سے گلہ ہے ۔۔۔ میں نے جب بھی اس دشمن کی اس چال کو واضح کیا اور میڈیائی وار پہ بات کی تو مجھے اپنوں نے اپنا نہیں سمجھا ،،، مجھے کئی القابات دیے گئے ، کبھی بوٹ پالشیا، کبھی حق سے دور ہوا انسان، کبھی حقائق سے نا واقف بندہ تو کبھی تنگ نظر اور زمینی حقائق سے بھٹکا مسافر سمجھا۔
اس کائنات میں دو ہی طرح کی تفریق ہے حق و باطل یعنی ایمان اور کفر ۔۔۔ میرے وطن کے باسیوں کو جب دشمن جسمانی غلام نہ بنا سکا تو دشمن نے اپنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ، ڈیموکریسی اور جمہوریت اور انسانی حقوق کا نعرہ اچھالا تا کہ اس راہ سے بھی کمزور اقوام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا موقع مل سکے۔ اس دشمن نے میڈیا کی مدد لے کے ہماری کمزوری ، بے حسی اور غفلت کے سبب میڈیا کے راستے سے بھارت کی دیو مالائی تہذیب بھی ہمارے اندر پھیلائی۔
میں نے جو دو تفریقیں بتائی یعنی ایمان و کفر ، ہر انسان مومن ہے یا کافر ہے۔ آج بھی اور قیامت تک یہی سب سے بڑی اور قابل لحاظ تقسیم رہے گی۔ اور یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ اسکے علاوہ دنیا میں انسانوں کی اور جتنی تقسیمیں ہیں، خواہ ملکی اور علاقائی بنیاد پر ہوں ، قومی و نسلی بنیاد پر ہوں یا لسانی بنیاد پر، یہ سب غیر حقیقی اور انسانوں کی خود ساختہ ہیں یا اس درجہ اہمیت نہیں رکھتیں۔

جس طرح اسلام کا مقصد دنیا سے شرک و کفر کو مٹانا ہے، اسی طرح دنیائے کفر کا اولین مقصد اسلام اور مسلمان کو ایک نئے راستے (میڈیا) کے ذریعے نیست و نابود کرنا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ رہے ہیں یہود کی ذہانت و ذکاوت اور مغرب کے وسائل اور طاقت اور برہمن کی مکاری و عیاری اسلام دشمنی میں #میڈیائی_وار میں متحد ہو چکی ہیں۔ یہ حقیقت ہے جس سے آج ہمارے بہت سے حضرات آنکھیں چراتے ہیں۔ اور خود فریبی میں رہنا چاہتے ہیں لیکن حالات و واقعات اور قدرت کے تازیانے بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں ۔
ایک اور خاص نکتہ بھی یاد رکھیں کہ غیر جانبداری بہت بڑی خوبی ہے لیکن جہاں مسئلہ صحیح اور غلط کا ہو، حق و باطل کا ہو، ظالم و مظلوم کا ہو، وہاں یاد رکھیے کہ غیر جانبداری سراسر ظلم ہے۔ وہاں اسلام کی تعلیم یہ ہیں کہ انسان غیر جانبدار نہیں بلکہ حق و صداقت کا طرفدار رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی اندھی غیر جانبداری مغربی فکر اور تعلیم کا #خطرناک_تحفہ ہے اور شاید دشمن کی ایک چال بھی کہ حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز کو ختم کر کے مسلمان کو غافل کر دیا جائے لیکن آپ دیکھیں گے کہ مغرب غیر جانبداری کا ڈھونگ رچا کر ہر جگہ اسلام کے خلاف ڈنڈی مار دیتا ہے، جب اسلام کا مسئلہ آیا تو مغرب میڈیائی وار میں غیر جانبداری چھوڑ کے جانبداری عیاں کرتا ہے۔ اسکی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی وہ رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستان میں خواتین کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے بڑھنے کی وجہ اسلامی بنیاد پرستی کا بڑھتا ہو ا رجحان ہے” اسے مغربی میڈیا نے خوب اچھالا ہے۔ آپ ذرا س جملے کا تجزیہ کیجیے کہ اسلامی بنیاد پرستی کے رجحان کا کیا مطلب ہے؟ انسان کا مذہبی ہونا ، شریعت کا پابند ہونا ۔ جس شخص کو آخرت اور یوم الحساب کا خوف ہو وہ ایسے فعل کا تصور بھی نہیں کر سکتا کجا یہ کہ دینداری کو وجہ اور سبب قرار دیا جائے۔
خواتین کے ساتھ زیادتی کے بڑھنے والے واقعات کا میڈیا کا یہ جملہ ففتھ جنریشن وار نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟
اس میں اسلام کا کیا تصور ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے؟ میڈیا نے اسلام کے خلاف ایک چھوٹے سے جملے کے ذریعے کس قدر زہر ذہن میں بھرنے کی کوشش کی ہے۔
میں آئندہ آنے والے دنوں میں یہود و ہنود اور نصرانیت اور ان کے آلہ کاروں کی چالوں کو وقت ملنے کی بنا پہ واضح کرتا رہوں گا اور اس متعلق مزید بھی لکھوں گا، چونکہ تحریر پہلے ہی طویل ہو چکی تو آخر میں ایک گزارش بھی کروں گا وہ یہ ہے کہ ہمیں نہ صرف “میڈیا” کے اس بے رحم حملے اور وار کو روکنا ہو گا بلکہ میڈیا کا متبادل فراہم کرنا بھی وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس پر بحیثیت مسلمان ہمارے وجود و بقا کا دارومدار ہے۔
مسلمانو! میرے عزیز نوجوانو! میرے پڑھے لکھے ہم وطنو! اگر اب بھی ہم نے غفلت برتی تو تاریخ اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی جیسا کہ میں اوپر بھی کہہ چکا اور اسلام پر چودہ سو سالہ دور میں اتنا نازک وقت بہت کم آیا ہے جیسا کہ اب ہے۔
جانیے، سمجھیے، سوچیے اور کیجیے۔۔۔۔ صرف اسلام اور وطن کی حفاظت اور بقا کی خاطر۔ یہی ہماری پہچان اور ہمارا ضابطہ ہیں۔
والسلام

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here