مصباح الدین محسود پر جھوٹے پراپگینڈہ کی حقیقت۔

0
949

مصباح الدین محسود پر جھوٹے پراپگینڈہ کی حقیقت۔
مصباح الدین محسود کی تصویر کو لے کر کے پراپگینڈہ کرنے والے سرخے یہ بھول رہے ہیں کہ وہ قاری زین الدین محسود کے بھائی ہیں۔ اس قاری زین الدین محسود کے جنہوں نے اپنا آپ اس ملک پہ قربان کر دیا تھا۔ قاری زین الدین محسود کو بیت اللہ محسود نے 23 جون 2009 کو شہید کروا دیا اور ان کے ساتھی باز محمد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ قاری زین الدین کی شہادت کی وجہ ان کا وہ انکشاف تھا جس میں انہوں نے بیت اللہ محسود کے متعلق بتایا تھا کہ یہ بھارت سے رابطہ میں ہے۔ قاری زین الدین کے اپنے بیان کے مطابق بیت اللہ محسود نے ان کے ستر سے زائد ساتھیوں کو قتل کیا تھا اور وہ سب کے سب پشتون تھے۔ قاری زین الدین محسود عبداللہ محسود گروپ کے کمانڈر تھے اور مفتی تقی عثمانی رح کے شاگرد تھے۔ مفتی تقی عثمانی نے تحریک طالبان کو اعلانیہ خوارج قرار دیا تھا۔ قاری زین کی شہادت کے بعد مصباح الدین محسود کو گروپ کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ عبداللہ محسود گروپ وہ گروپ ہے جس نے تحریکِ طالبان پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان دیا۔ کیا ان سرخوں کو یہ تکلیف ہے کہ فوج اور مصباح الدین محسود نے تحریک طالبان کو جہنم واصل کیوں کیا؟
جب محمود اچکزئی، اسفند یار ولی اور متحدہ مجلسِ عمل معاہدوں پہ معاہدے کر کے سوات اور قبائلی علاقوں کو دھشت گردوں کے ہاتھ یرغمال بنا رہے تھے۔ اس وقت قاری زین الدین محسود اور مصباح الدین محسود تھے جو تحریک طالبان پاکستان کے دھشت گردوں سے لڑ رہے تھے اور قبائلیوں کے تحفظ کےلیے اپنے ساتھیوں کی جانیں قربان کروا رہے تھے۔ جب تحریکِ طالبان کے خوف سے منظور پشتین اونچا سانس بھی نہیں لیتا تھا اس وقت یہ مصباح الدین محسود تھا جو قبائلی علاقوں کو تحریکِ طالبان کے خونی پنجوں سے چھڑوانے کےلیے لڑا تھا۔
منظور پشتین اور سرخوں کے پراپگینڈہ کو جاننا چاہیں تو صرف اتنی بات سے جان لیں کہ اس ارضِ مقدس پاکستان کے خلاف بیت اللہ محسود اور تحریکِ طالبان پاکستان نے ہتھیار اٹھائے تو منظور پشتین اور اس کے آقا چپ رہے۔ قاری زین الدین محسود نے اس ملک کے دفاع کی قسم کھائی یہ تب بھی چپ رہے وہ شہید ہوئے یہ تب بھی چپ رہے۔ ان کے بعد ان کے بھائی نے قبائلی علاقوں کے تحفظ کےلیے ہتھیار اٹھائے یہ تب بھی چپ رہے۔
یہ لوگ مصباح الدین محسود کے سینکڑوں سرفروشوں کی قربانیاں بھلا کر ان کو صرف اس وجہ سے دھشت گرد بنا رہے ہیں کہ انہوں نے فوج کی مدد کی تھی۔ کیا یہ بات ان کے بغض کو واضح کرنے کےلیے کافی نہیں ہے؟ میں پوچھتا ہوں اگر یہ اتنے مخلص اور اپنے دعووں کے اتنے سچے تھے تو اس وقت کہاں چھپے تھے جب فوج اور مصباح الدین قبائلی علاقوں میں دھشت گردوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ مصباح الدین محسود دھشت گرد نہیں وہ عظیم انسان ہے جس نے دھشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنا بھائی اور سینکڑوں ساتھی قربان کیے۔
آج جب دھشت گرد جہنم واصل ہو گئے تو محمود اچکزئی، اسفند یار ولی اور منظور پشتین کو وہی مصباح الدین محسود دھشت گرد لگنے لگا؟ کیا اس لیے کہ وہ قبائلیوں کے تحفظ کےلیے لڑتا رہا؟ بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ملا فضل اللہ اور صوفی محمد جب قبائلی علاقوں میں خون کی ندیاں بہا رہے تھے یہ تب ان کو دہشت گرد کہتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ لیکن مصباح الدین محسود کو انہوں نے ایک لمحے میں دھشت گرد بنا دیا اس لیے کہ اس نے تب ریاستِ پاکستان کا تحفظ کیا تھا۔ اور آج بھی وہ ریاست مخالف کسی شرپسند کو برداشت نہیں کرتا۔ جو مصباح الدین محسود کو دھشت گرد کہتا ہے وہ خود سب سے بڑا دھشت گرد ہے۔ اس لیے کہ مصباح الدین نے اپنا بھائی اور اپنے سینکڑوں ساتھی دھشت گردوں کے خلاف جنگ میں قربان کیا۔ قاری الزین الدین محسود کو اللہ جنت دے وہ خود شہید ہوئے مگر بیت اللہ محسود کو بے نقاب کر گئے۔ اورمصباح الدین محسود کی اللہ عمر دراز کرے وہ زندہ ہیں اور آج منظور پشتین اور اس کے آقاؤں کو اپنی ایک تصویر کے زریعے بے نقاب کر دیا۔ کھوٹے اور کھرے کی پہچان کرنی ہے تو دیکھ لیں۔ جو مصباح الدین محسود کے ساتھ کھڑے ہیں وہ دھشت گردوں کے دشمن تھے۔ اور جو مصباح الدین محسود کو دھشت گرد کہہ رہے ہیں وہ تب ماؤں کی گود میں چھپے تھے جب دھشت گردوں سے جنگ جاری تھی۔
سنگین علی زادہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here