“مشرف کو ایڈز ہے” ایک نیا پراپیگنڈہ

0
181

“مشرف کو ایڈز ہے” ایک نیا پراپیگنڈہ
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

پراپیگنڈہ نہ کہیں بغض کی ایک نئی مثال، ایک لیول جہاں پر جا کے انسانیت شرمانا شروع ہو جائے۔ میں سی لیول کی بات کر رہا ہوں۔ جہاں بات ذاتیات پر پہنچا دی جاتی ہے جہاں پر براہ راست کسی کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ جہاں بغیر تصدیق کے صرف بغض کی وجہ سے گالم گلوچ،الزام تراشیاں، بددعائیں، پراپیگنڈہ اور سو طرح کی بکواس رہ جاتی ہے۔۔

یہ پراپیگنڈہ “خلیج ٹائمز” کی فیک نیوز بنا کر وائرل کیا گیا تھا،جس میں 14 اکتوبر کی نیوز شو کی گئی تھی مشرف کو ایڈز کا لکھا گیا تھا نیچے پکچر موجود ہے، دیکھ لیں میں نے خلیج ٹائمز کا وزٹ کیا نیچے سکرین شاٹ بھی موجود ہے،مشرف کے نام سے نیوز سرچ کی مگر پوری سائٹ پر ایڈز کے حوالے سے کوئی نیوز نہیں مشرف کی بیماری کے متعلق ایک نیوز ہے اور وہ بھی یکم اکتوبر کی جس میں بتایا گیا کہ مشرف صاحب بیماری کی وجہ سے پاکستان نہیں آ سکتےبیماری کی رپورٹ عدالت کو پیش کر دیں گے عدالت کو جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں کلیئر بتایا گیا ہے کہ مشرف صاحب امیلوئی ڈوسس نامی بیماری ہے جس کی تفصیل بھی نیچے اٹیچ ہے اورسائٹ کا لنک یہ👇 لیں جس کا پراپیگنڈہ کیا جا رہا اور یہاں پر سرے سے کوئی نیوز ہی نہیں 14 اکتوبر کی مشرف کے حوالے سے تسلی کر لیں جسے کرنی
https://www.khaleejtimes.com/search?text=Musharaf
دیکھئے کس لیول کا پراپیگنڈہ،بغض میں فیک نیوز تک بنا لی گئی
پھر مزید میں نے گوگل پر سیم وہی الفاظ لکھ کر بھی سرچ کیا مگر کوئی رزلٹ نہیں ملا اس نیوز کا۔۔

 

عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق، مشرف صاحب امیلوئی ڈوسس نامی بیماری میں مبتلا ہیں، اے آر وائی نیوز پر بھی یہ نیوز چلائی گئی کہ مشرف صاحب امیلوئی ڈوسس کے مریض ہیں مگر اس سے بھی بغضی بعض نہ آئے،بہرحال نیچے شاٹس کے علاوہ نیوز کا لنک بھی پہلے کمنٹ میں دیا جا رہا ہے دیکھ لیں۔۔

اچھا اب میں بتاتا ہوں اس پراپیگنڈے کا سورس جہاں سے یہ پراپیگنڈہ سٹارٹ ہوا،ایک صحافی زاہد گشکوری نے ٹویٹ کی کہ مشرف صاحب سنگین بیماری میں مبتلا ہیں،نیچے “احمد وقاص گورائیہ” جی بالکل وہی احمد وقاص گورایہ ملحد، گستاخ، فوج مخالف، پاکستان مخالف، جو فوج کے خلاف پاکستان کے خلاف ہر ہر پراپیگنڈے میں آگے رہا، اس نے ریپلائی کیا اس صحافی کو کہ سیدھا کہو نا ایڈز ہے چھپا کیوں رہے ہو ۔۔۔وہاں سے تمام بغضیوں نے اس بات کو پکڑ لیا اور سوشل میڈیا پر آگ لگا دی، اور میرے جیسے چند سائیڈ پر بیٹھے ان بغضیوں کی مینٹیلٹی دیکھ دیکھ کر حیرت زدہ ہوتے رہے، کہ حد ہو گئی فوج کے بغض میں ایک ملحد، ایک گستاخ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ، ایک اینٹی پاکستان غدار کی بات کو کیسے اچھال رہے ہیں۔۔ایسا بھی کیا بغض کہ آپ احمد وقاص گورائیہ جیسے اسلام دشمن، پاکستان دشمن کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں ۔۔۔حد ہے اور بے حد ہے۔۔

میں مشرف کا وکیل نہیں ہوں، اسے ایڈز ہوبھی سکتا تھا، میں اس کو فرشتہ نہیں کہہ رہا مگر اب تو بات ہی الٹ ہے کچھ ہے ہی نہیں اور آپ کس بندے کے پیچھے لگ کے کیا پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔۔ یہ پوسٹ وضاحت نہیں افسوس میں کر رہا ہوں۔۔ کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہماری مینٹیلٹی کیا ہے۔۔

بغض میں ہم کیا کیا کرتے ہیں، فوج سے اختلاف اپنی جگہ، مشرف سے اختلاف اپنی جگہ مگر انسانیت کی ڈیڈ لائن کراس نہیں کریں کم از کم خدارا کچھ سوچے اپنے گریبان میں جھانکیں۔۔ ہو سکتا کچھ نے بغیر سوچے سمجھے شئیر کر دی ہو مگر جو جانتے بوجھتے اپنا بغض نکال رہے انہیں اپنے آپ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔۔

ہم تو چیخ چیخ کے تھک گئے ہیں کہ بھائی ففتھ جنریشن وار کا لفظ ہی نہ رٹوں اس کے اثرات اور طریقہ کار بھی سمجھو،آپ کو بتایا گیا کہ افواج اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنا پرائمری ٹاسک ہے ہمارے دشمنوں کا۔۔

دو تازہ مثالیں آپ کے سامنےہیں
اسی ہفتے ڈی جی صاحب کی پکچر کو لے کر پراپیگنڈہ کیا گیا عوام الٹ پڑی بغیر کچھ سوچے سمجھیں،بعد میں میری کہی ہوئی بات سچ ثابت ہوئی،اور فین بن کے شناخت چھپا کر بنائی گئی پکچر نکلی۔۔۔۔۔

دوسری یہ مشرف کے ایڈز کو لے کر گالم گلوچ اور الزامات سب کچھ کیا گیا مگر یہ بیماری امیلوئی ڈوسس نکلی۔۔۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ فوج فرشتہ ہے،غلطیاں ہر جگہ ہوتی ہیں،مگر یہاں ہر پر فوج میں غلطیاں دس پرسنٹ اور باقی نوے پرسنٹ پراپیگنڈہ ہوتا ہے۔۔

اس کی یہ دو مثالیں ہی نہیں سینکڑوں ہزاروں موجود ہیں۔۔۔اور اس 90 پرسنٹ کو لانچ ہمارے دشمن کرتے ہیں اور بوسٹ آپ لوگ،یعنی نادان دوست۔۔۔اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو فوری پینترا بدل لیتے ہیں۔۔تو میرے بھائی اس سے اچھا نہیں کہ ہماری مان لو،شور مچانے سے پہلے ہی جو بات ہو رہی کی جو پراپیگنڈہ کیا جا رہا،اس کی تصدیق کر لو خود سے۔۔

بس نمبر لینے کا شوق ہوتا ہے کہ پہلے میں وال کالی کر لوں چاہے سچ چاہے جھوٹ اور آپ نہیں جانتے اپنے اس نمبر کے چکر میں آپ اس وطن عزیز کو کن ممکنہ خطرات سے دوچار کرنے میں پیش پیش ہیں۔۔۔
 

 

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here