مسلمان اور حب الوطنی کی عظیم جنگ

0
468

مسلمان اور حب الوطنی کی عظیم جنگ

تاریخ انسانیت کی ہولناک ترین جنگ، جو انتہائی خونریز رہی تھی، کو ختم ہوئے 73 برس بیت چکے ہیں۔ اب اس جنگ سے متعلق آراء مختلف ہونے لگی ہیں۔ کچھ لوگ سواستیکا کے نشان والے جھنڈے تھام کر سڑکوں پر مارچ کرنے لگے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو ان ملکوں میں پیدا ہوئے جو فسطائیت پر فتح پانے میں کامیاب رہے تھے۔ کچھ لوگ کسی پوری کی پوری قوم یا نسلی گروہ کو قابضین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام دینے لگے ہیں۔ اس طرح کا رجحان محض کچھ ملکوں کو اس جنگ میں فتح پانے کی سند دیے جانے کا موجب بن رہا ہے۔ یہ رجحان عجیب اور خوفناک ہے۔ ایسے ہی لوگ سواستیکا کا پرچم بلند کرکے گشت کرتے ہوئے اپنے نظریے کا پرچار کر رہے ہیں اور شاید اپنی ختم کر دی گئی طاقت کے بحال ہونے کا پرچار بھی۔

ایسی کوششیں کم نہیں ہیں جو کسی قوم، نسلی یا عقیدہ جاتی گروہ کو مشترکہ فتح سے علیحدہ کیے جانے کی خاطر کی جاتی ہیں جیسے کہ مسلمانوں کو۔ آئیے یاد کرتے ہیں کہ سوویت مسلمانوں نے حب الوطنی کی عظیم جنگ کے برسوں میں کیسے جنگ لڑی تھی۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اپنے معاشرے کے دوسرے گروہوں کی اہمیت کو کم کریں بلکہ خطرے کے موقع پر ان سب کی یگانگت کو عیاں کرنا ہے۔

بائیس جون 1941 کو بحیرہ ابیض سے بحیرہ اسود تک تمام سرحدوں پر جنگ شروع ہو چکی تھی مگر ہماری فوج کی جانب سے مزاحمت کی درخشاں مثال بریست کا قلعہ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں ہمارے فوجی جولائی 1941 تک دشمن کے خلاف ڈٹے رہے تھے بلکہ آخری محافظوں نے تو اگست تک ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ وطن کے ان محافظوں میں مسلمان کچھ کم نہیں تھے۔ ان میں 200 فوجی چیچن اور انگوش تھے۔ بریست کا آخری محافظ بھی ایک انگوش شجیع ہی تھا۔

ماسکو کے دفاع کے لیے اس شہر کے جنوب کی جانب صوبہ تولا میں لڑنے والے فوجیوں میں بہت سے کزاخستان اور وسط ایشیا سے تھے۔ ماہرین آثار قدیمہ جو ایک عرصے سے کھیت ہوئے فوجیوں کی باقیات تلاش کرنے کا کام کر رہے ہیں، نے ” میدان کولیکوو” میں کھدائی کی اور شہر بیلیوا سے کچھ دور ایک دھاتی ٹکڑا برآمد کیا جس پر عربی زبان میں کوئی تحریر تھی۔ انہوں نے شروع میں خیال کیا کہ انہوں نے بالآخر 1437 میں ہونے والی مشہور بیلیوا کی جنگ کا مقام ڈھونڈ لیا ہے لیکن یہ دھاتی ٹکڑا اس جنگ کے بہت بعد کا تھا۔ ایسی دریافتیں کچھ کم نہیں ہوئیں۔

سب جانتے ہیں کہ نماز مورچوں میں بھی پڑھی جاتی رہی تھی، جنگ سے پہلے بھی اور جنگ کے بعد بھی۔ ویسے بھی جب وقت امتحان ہو تو لوگوں میں عقیدہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ ایسا صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔ سٹالن نے بلاوجہ ملک میں قدامت پسند عیسائیوں اور مسلمانوں کے مذہبی اداروں کو بحال نہیں کیا تھا۔ آخری ادارہ تب واگذار کیا گیا تھا جب 1942 میں اوفا میں مسلمان علماء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گبدرحمان رسولیو نے اپنے خطاب میں جرمن فسطائیت کے خلاف لڑنے کو جہاد قرار دیا تھا اور جذبات بھری تقریر کرتے ہوئے سوویت یونین کے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سرخ فوج کی صفوں میں شامل ہو کر لڑیٰں:”آج ایک بھی ایسا مسلمان نہیں ہے جس کا بیٹا، بھائی یا باپ جرمنوں کے خلاف نہ لڑ رہا ہو اور جس نے ہمارے مشترکہ وطن کی حفاظت کی خاطر ہتھیار نہ اٹھایا ہو۔ اسی طرح کوئی ایسا نہیں ہے جس نے عقب میں کارخانوں اور فیکٹریوں میں محنت کرتے ہوئے فتح پانے میں مدد نہ کی ہو۔ ہم مسلمانوں کو محمد صلعم کا وہ فرمان یاد رکھنا چاہیے کہ “وطن سے محبت، ایمان کا حصہ ہے”۔ مولوی گبد رحمان کی مساعی سے مسلمانوں نے فوج کی مدد کے لیے چندہ جمع کیا تھا اور اس چندے سے ٹینکوں کی ایک پوری صف کے لیے گولہ بارود خریدا جا سکا تھا۔

اس جنگ میں مختلف واقعات ہوئے تھے جن میں سے ایک میں اچھی طرح تیار پہاڑی جنگ کے ماہر جرمن فوجیوں کے مدمقابل ہمارے نوآموز فوجی تھے۔ ایسا تب ہوا تھا جب جرمن فوجیوں نے ابہازیا میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ کوہستانی جنگ کے ماہر جرمن فوجیوں کے مدمقابل داغستان اور آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے نوآموز سپاہی تھے۔ جنہوں نے انہیں باکنسک میں تیل صاف کرنے والے کارخانے سے کچھ دور روک لیا تھا۔ اس کے زندہ شاہد اس جنگ میں حصہ لینے والے کرنل حاجی مرات ابراگیم ایلی تھے جو بعد میں معروف جنگی تاریخ نویس بن گئے تھے۔ انہوں نے اپنے باپ کے رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے 17 برس کی عمر کو اٹھارہ سال ظاہر کرکے فوج میں شرکت ک تھی۔

سوویت عسکری کمان نسلی عامل پر کچھ کم توجہ نہیں دیتی تھی، مثال کے طور پر بہت سارے محاذوں پر مختلف مقامی زبانوں میں اخبار بھیجے جاتے تھے جن میں وہ زبانیں بھی شامل تھیں جو مسلمان بولتے تھے۔ تاتار زبان میں اخبار لینن گراد کے دفاع کے تمام محاذوں پر جاتے تھے۔ ایسے ہی ایک اخبار میں کام کرنے والے نامور تاتار شاعر موسٰی جلیل تمام قوموں کی جنگی استقامت کا نشان بن گئے تھے۔ وہ زخمی ہو کر جنگی قیدی بنا لیے گئے تھے لیکن وہ تاتار و بشکیر جنگی قیدیوں کو بھڑکایا کرتے تھے۔ جرمن خفیہ ایجنسی نے تحقیق شروع کی تھی اور موسٰی جلیل کی سرگرمیوں کا پردہ فاش ہو گیا تھا۔ انہیں پہلے جیل بھیج دیا گیا تھا بعد میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

سیاسی طور پر دبائے گئی قوموں کے ان نمائندوں کے جو جنگ لڑتے رہے تھے، سانحاتی انجام تھوڑے نہیں ہیں۔ البتہ ان لوگوں میں سوویت یونین کے ہیرو بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ چھ چیچن اور انگوش اور چھ کریمیا کے تاتار سوویت یونین کے معروف ہیرو ہیں۔ کریمیا کے تاتاروں میں سب سے زیادہ نامور دو بار سوویت یونین کے ہیرو کا خطاب پانے والے پائلٹ آمیت خان سلطان ہیں، جنہوں نے اپنے طور پر دشمن کے تیس طیارے مار گرائے تھے اور دوسرے پائلٹوں کے ساتھ مل کر مزید انیس۔ سب سے زیادہ معروف چیچن سوویت یونین کے ہیرو فوجی موولادی ویسائیتوو ہیں جو اس چیچن انگوش کیولری بٹالین کے کمانڈر تھے جو سب سے پہلے دریائے ایلبا پر امریکی اتحادیوں کے ساتھ جا ملی تھی۔

سب جانتے ہیں ریخ سٹاگ پر ایگور اور کنتاریا نام کے جوانوں نے پرچم گاڑا تھا لیکن اور بھی کئی تھے جنہوں نے ریخ سٹاگ (جرمن ہیڈکوارٹرز) پر پرچم لہرائے تھے۔ ان میں سے ایک بشکورتوستان کا تاتار گازی زاگیتوو (غازی زاہدوو) تھا، دوسرا ہساویورت کا کومیک عبدالحکیم اسماعیلوو تھا اور تیسرا کزاخ کشکاربائیو تھا۔ مطلب یہ کہ ہر قوم کو اپنے ہیرو پر فخر ہے جنہوں نے مشترکہ جہد میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here