مسلمانوں کا گوشت کافی مقبول ہوتا جا رہا ہے ۔

0
419

مسلمانوں کا گوشت کافی مقبول ہوتا جا رہا ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے شہریار آفریدی نے پارلیمنٹ میں ایک واقعہ سنایا ۔

کچھ بندے موٹر سائیکل پر ہنگو سے آگے تیراہ کی طرف ڈبوری سے ہوکر جا رہے تھے کہ ان کے پیچھے چار پانچ کتے لگ گئے ۔ وہاں موٹر سائیکل کو 60 سے اوپر چلانے پر پابندی ہے ۔ ان کا خیال تھا کہ یہ عام کتوں کی طرح 100 / 200 میڑ تک پیچھا کر کے رک جائینگے جیسے کہ عام طور پر کتے کرتے ہیں ۔

لیکن وہ کتے 2 کلو میٹر تک ان کے پیچھے دوڑتے رہے جس سے یہ بری طرح خوفزدہ ہوگئے اور پابندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے موٹر سائیکل کی رفتار فل تیز کر دی اور کتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ قریبی گاؤں پہنچ کر وہاں رکے اور گاؤں والوں کو واقعہ سنایا ۔

گاؤں والوں نے جواباً کہا کہ بہت اچھا کیا جو رکے نہیں یا سلو نہیں کی موٹر سائکل ۔ دراصل ہنگو اور تیراہ کے بہت سے علاقوں میں کتے آدم خور ہو چکے ہیں ۔ طالبان جب بلاسٹ کر تے ہیں تو اکثر خون یا گوشت کے لوتھڑے رہ جاتے ہیں جنکو رات کو یہ کتے کھا لیتے ہیں ۔ اسی طرح طالبان بندے مار کر پھینک دیتے ہیں تو انکو یہ بھی کتے کھا جاتے ہیں ۔ بعض اوقات آرمی طالبان کو مارتی ہے تو انکی لاشیں پڑی رہ جاتی ہیں جنکو یہ کتے نوالہ بنا لیتے ہیں ۔ اب یہ آدم خود ہو چکے ہیں ۔

کچھ عرصہ پہلے ایک دوست سے موبائل فون میں تصویر دکھائی ۔ برما میں مسلمانوں کے بچوں کو باقاعدہ روسٹ کر کے “بدھ بلوائی” کھا رہے تھے ۔ ایک تشتری میں میں روسٹ کیا ہوا بچہ پڑا تھا ۔

اسی طرح وسطی افریکہ کے کچھ ممالک میں عیسائی جنگجو مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں اور انکو قتل کرنے کے بعد انکا گوشت کھا جاتے ہیں ۔ بہت سے واقعات ایسے ہوئے ہیں جب مسلمانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہوتا ہے اور انکے مرنے کا انتظار کیے بغیر عیسائی بلوائی ان کا گوشت نوچنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جبکہ وہ چیخ رہا ہوتا ہے ۔

اسی طرح کچھ دن پہلے اسلام آباد میں آدم خوروں کی افواہ سنی ۔

انکا تو نہہں پتہ لیکن ہماری پارلیمنٹ میں ایسے آدم خور ضرور بیٹھے ہیں جو نہایت بے رحمی سے 18 کروڑ عوام کا خون پی رہے ہیں اور اب انکے چہرے پھول کر سرخ ہو چکے ہیں ۔

ہمارا گوشت کتے اور کفار کھانے لگے ہیں اور ہم پر ذلیل اور کمینے حکمران مسلط کیا جا چکے ہیں کیا اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ مناسب تدابیر اختیار نہیں کی گئیں ہیں یا ہمارے اعمال کی بدولت ہم پر عذاب ہے ؟

اگر یہ عذاب ہے تو کیا اسکا حل تدابیز سے ممکن ہے یا ہمیں توبہ کر کے اعمال درست کرنے ہونگے ؟؟

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here